تہران: ایران کے طاقتور ترین آئینی ادارے مجلسِ خبرگان نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے نام پر حتمی اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ تہران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے دوران یہ خبر عالمی سیاست میں ہلچل مچا رہی ہے۔
مجلسِ خبرگان کے اہم رکن آیت اللہ محسن حیدری آل کثیر کے مطابق، جنگی حالات کی وجہ سے 88 رکنی کونسل کا روایتی اجلاس منعقد کرنا ناممکن ہے، لیکن ایک موزوں امیدوار کا انتخاب پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیا رہبر علی خامنہ ای کی اس نصیحت پر پورا اترے گا کہ ایران کی قیادت ایسا شخص کرے جس سے دشمن (امریکہ و اسرائیل) لرزتے ہوں۔
دوسری جانب آیت اللہ محمد مہدی میرباقری نے 'مہر نیوز' کو بتایا کہ اگرچہ کچھ رکاوٹیں باقی ہیں، لیکن اکثریتی اتفاقِ رائے حاصل کر لیا گیا ہے اور عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
اسرائیلی دفاعی حکام نے مجلسِ خبرگان کے اراکین کو براہِ راست دھمکی دی ہے کہ اگر نئے لیڈر کی نامزدگی کے لیے کوئی اجلاس بلایا گیا تو اسے میزائل حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ادھر واشنگٹن سے آنے والی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا اگلا سپریم لیڈر تسلیم نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بیرونی دباؤ کے بغیر اپنی قومی اور مذہبی ذمہ داری پوری کریں گے۔
حجت الاسلام جعفری نے میڈیا سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ نئے رہنما کے انتخاب میں تاخیر عوام کے لیے پریشان کن ہے، لیکن موجودہ 'جنگی حالات' میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایرانی قوم جلد ہی اس فیصلے سے مطمئن ہو جائے گی۔
ایران کا نیا سپریم لیڈر کون؟ مجلسِ خبرگان کا 'خفیہ انتخاب' مکمل، اسرائیل کی کھلی دھمکی
03:57 PM, 8 Mar, 2026