جنگ کا دوسرا ہفتہ: امریکی و اسرائیلی حملوں میں شدت، ایران کا 220 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

09:40 AM, 8 Mar, 2026

تہران : تہران، اصفہان اور دیگر ایرانی شہروں پر اسرائیل اور امریکا کی بمباری کے دوسرے ہفتے میں شدت بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق حملوں میں فوجی اڈے، میزائل لانچر اور پاسداران انقلاب کی تنصیبات نشانہ بنیں، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا کہ شہری علاقوں پر بمباری کی گئی۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 80 لڑاکا طیارے تباہ کر دیے گئے۔

ہلال احمر کے مطابق اب تک ایران میں پانچ ہزار سے زائد رہائشی یونٹس، ایک ہزار کمرشل یونٹس، 14 میڈیکل سینٹرز اور 65 سکول حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

چین نے ایران پر حملوں کی مخالفت کی اور کہا کہ جنگ کو بڑھنے سے روکا جائے، جبکہ سعودی عرب نے بھی تنازع کا سفارتی حل چاہا اور خبردار کیا کہ اپنے ملک یا آئل تنصیبات پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

ایران نے بھی اسرائیل اور امریکا کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ایرانی فوج کے مطابق شمالی خلیج فارس میں امریکی آئل ٹینکر اور الظفرہ ایئربیس میں امریکی فوجی نشانہ بنے، جبکہ تل ابیب میں بھی سٹریٹجک اہداف پر میزائل داغے گئے۔ پاسداران انقلاب نے صوبہ ہرمزگان میں ایک اسرائیلی ڈرون مار گرایا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کسی بھی کشیدگی کے لیے تیار ہے اور اسرائیل امریکا کو جنگ میں دھکیل رہا ہے۔ لبنان کی حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجی اہداف پر حملے کیے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے ساتھ مل کر ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے اور اسرائیل جنگ جاری رکھے گا۔ دبئی میں بھی ایرانی حملے ہوئے، جس کے دوران ایک پاکستانی شہری ہلاک ہوا اور دیگر تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا۔

مزیدخبریں