اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمباکو نوشی کے صحت پرسنگین اثرات صرف ارادتاً تمباکو نوشی کرنے والے افراد کو ہی لاحق ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بلاارادہ تمباکو نوشی (passive-smoking)کرنے والے لاکھوںافراد بھی اسی طرح کے تمباکو کے دھوئیںمتاثر ہوتے ہیں اوریوںوہ بھی محدود سطح پر دل کی بیماریوں کے خطرے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بلاارادہ تمباکو نوشی یعنی تمباکو سے بنی ہوئی مصنوعات کے جلنے سے یا تمباکو نوشوں کے خارج کردہ دھوئیں کا بلا ارادہ سانس میں داخل ہونا، عوامی صحت کا ایک اہم لیکن اکثر کم سمجھا جانے والا مسئلہ ہے۔
بلاارادہ کی جانے والی تمباکو نوشی میں بھی 7,000 سے زائد کیمیائی اجزاء شامل ہوتے ہیں، جن میں سیکڑوں زہریلے مادے اور درجنوں ایسے کیمیائی اجزاء شامل ہیں جو سرطان پیدا کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ دو ذرائع سے پیدا ہوتا ہے: سگریٹ کے جلتے ہوئے سرے سے نکلنے والا دھواں second-stream smoke اور تمباکو نوش کا خارج کردہ دھواں main-stream smoke ۔ جب بلا ارادہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد اس دھوئیں کو سانس کے ذریعے جسم میں داخل کرتے ہیں، تو یہ زہریلے ذرات بھی اس کے ساتھ خون میںشامل ہو کر نالیوں کی اندرونی پرت کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے دل کے معمول کے افعال میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق، ایسے بالغ افراد جو تمباکو نوش نہیں ہیں لیکن باقاعدگی سے دوسرے افراد کی تمباکونوشی سے پیدا ہونے والے دھوئیں کے اثرات میں رہتے ہیں، ان بھی میں دل کی شریانوں کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ 25 سے 30 فیصد زیادہ ہوتا ہے اور یہ شرح اُن لوگوں کے مقابلے بہت زیادہ ہے جو تمباکو نوشی کے دھوئیں سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ بڑھا ہوا خطرہ دل کے دورے کے امکانات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ مختصر مدت کے لیے تمباکونوشی بھی خون کی نالیوں کے فعل کو متاثر کرتی ہے اور سوزش میں اضافہ کرتی ہے اور یہ دونوں دل کی بیماری میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
عالمی سطح پر یہ مسئلہ بہت سنگین سمجھا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق ہر سال 1.2 ملین سے زیادہ اموات بلا ارادہ تمباکو نوشی کے سبب ہوتی ہیں۔ ان اموات کا ایک بڑا حصہ سرطان کے بجائے دل کی بیماریوںسے تعلق رکھتا ہے، جو دل پر بلا ارادہ تمباکونوشی کے دھوئیں کے براہ راست اثر کو نمایاں کرتا ہے۔
ایسے ممالک جہاں تمباکو نوشی عام ہے، وہاں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ پاکستان میں سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ بالغ افراد باقاعدگی سے بلا ارادہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے دھوئیں کے اثرات میں رہتے ہیں ۔ اس سے مرد اور خواتین دونوں متاثر ہوتے ہیں، جو گھروں، کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پراندرونی تمباکو نوشی کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ چونکہ دل کی بیماری پہلے ہی ملک میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے، اس لیے تمباکو نوشی کے دھوئیں کے وسیع پیمانے پر اثرات موجودہ صحت کے مسئلے کو اور بھی سنگین بنا دیتے ہیں۔
بلاارادہ تمباکو نوشی اور دل کی بیماری کے درمیان حیاتیاتی تعلق ثابت شدہ ہے۔ دھوئیں کے اثرات خون کی نالیوں کے اندرونی خُلیات کے افعال میں خرابیDysfunction Endothelial پیدا کرتے ہیں، خون کے جمنے کے امکانات بڑھاتے ہیں اور سوزش کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ عمل شریانوں کی سختی اور تنگیAtherosclerosisکو تیز کرتا ہے اور دل کے اچانک دورے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔ ایسے افراد جنہیں پہلے سے ہی اس بیماری کا خطرہ لاحق ہو، ان کے لیے بلا ارادہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والا یہ دھواں اس خطرے کو مزید بڑھانے والا محرک ثابت ہو سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کو نقصان محسوس کرنے کے لیے طویل مدت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گھروں، گاڑیوں ناقص ہوادار کام کی جگہوں جیسے بند ماحول میں بار بار سامنا وقت کے ساتھ دل کی بیماری کے خطرے کو مجموعی طور پر بڑھا سکتا ہے۔ بچے، بزرگ افراد اور دائمی امراض والے افراد خاص طور پر اس کے اثرات کے لیے حساسیت رکھتے ہیں۔
چنانچہ بلا ارادہ تمباکو نوشی سے سامنا کو کم کرنا دل کی بیماریوں کی روک تھام کا ایک اہم جزو ہے۔ دھوئیں سے پاک عوامی مقامات، اندرونی تمباکو نوشی پر پابندیوں کا نفاذ اور اندرونی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں آگاہی بڑھانا دھوئیں سے سامنے کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔ بلا ارادہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد کا تحفظ صرف ذاتی آرام کا معاملہ نہیں،یہ ایک عوامی صحت کے لیے محدود مداخلت ہے جس کا مقصد دل کی بیماری اور وقت سے قبل موت کو روکنا ہے۔
تاہم ایسے ماحول میںجہاں تمباکو نوشی ثقافتی طور پر معمول بن چکی ہو، مسئلے کو صرف قوانین کا نفاذ مکمل طور پر حل نہیں کر سکتا ۔ تمباکو کنٹرول کرنا ایک بنیادی ضرورت ہے۔بلاارادہ تمباکو نوشی کرنے والوںکو نقصان پہنچنے کااصل ذریعہ نکوٹین خود نہیں ہے، بلکہ تمباکو کا جلنا combustion ہے۔ جب سگریٹ جلتا ہے تو یہ ہزاروں زہریلے کیمیائی اجزاء کو ماحول میں خارج کرتا ہے، جو اطراف میں موجود افراد پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس فرق نے کئی ممالک میں اس بات پر بحث کو جنم دیا ہے کہ انضباطی اقدامات کے ذریعے دھواں سے پاک متبادل ذرائع جلنے والے دھوئیں کے اثرات کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں یا نہیں۔اگرچہ مکمل طور پر ترک کرنا سب سے محفوظ طریقہ ہے، کچھ علاقوں میں پالیسی ساز اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ تمباکو نوشوں کو جلنے والے تمباکو کی مصنوعات سے ہٹانا فعال اور غیر فعال دونوں نقصان کو کم کر سکتا ہے یا نہیں، بشرطیکہ سخت قانونی ضوابط نافذ ہوں اور نوجوانوں میں اس کا استعمال روکا جائے۔
ایسے ممالک کے لیے مثلاًپاکستان، جہاں دھوئیں کے اثرات کی سطح ابھی بھی زیادہ ہے اور دل کی بیماریاں پہلے ہی صحت کے نظام پر سنگین دباؤ ڈال رہی ہیں، پالیسی کا سوال اب صرف ان تباہی لیبلز اور محصولات تک محدود نہیں رہا۔ یہ اس بات سے بھی متعلق ہے کہ جامع حکمت عملی کے ذریعے عوامی سطح پر دھوئیں کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس کے لیے سیاسی عزم، اندرونی تمباکو نوشی پر پابندیوں کے مستقل نفاذ اور نئے قانونی فریم ورکس کا محتاط جائزہ لینا ضروری ہے جوجلنے سے پیدا ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
بہر حال بلا ارادہ تمباکو نوش افراد کا تحفظ تمباکو کو کنٹرول کرنے کی پالیسی کا مرکزی جزو رہنا چاہیے۔ مشترکہ مقامات میں جلنے والے دھوئیں کی موجودگی کو کم کرناچاہے ۔یہ مضبوط نفاذ کے ذریعے ہو، ثقافتی رویوں میں تبدیلی کے ذریعے یا منظم طریقے سے ،تمباکو کے جلنے والے مصنوعات سے ہٹانے کے ذریعے،دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے سب سے واضح راستوں میں سے ایک ہے۔ سائنسی شواہد مستقل ہیں۔ دل کو نقصان فضا میں موجود دھواں پہنچاتا ہے۔ اس نمائش کو محدود کرنا کوئی نظریاتی ہدف نہیں، بلکہ ایک ٹھوس اور لازمی عوامی صحت کا اقدام ہے۔
بلا ارادہ تمباکو نوشی اور دل کو لاحق نظر انداز کردہ خطرات
09:09 AM, 8 Mar, 2026