یوم خواتین: باوقار اور بااختیار معاشرے کی بنیاد 

09:08 AM, 8 Mar, 2026

ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ یہ دن خواتین کے حقوق، عزت، برابری اور بااختیاری کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی زندگی میں مساوی مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں اور ادارے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔
یوم خواتین کی تاریخ ایک صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جب خواتین کو بنیادی حقوق اور بہتر کام کے حالات میسر نہیں تھے تو انہوں نے اپنی آواز بلند کی۔ 1910 میں جرمن سماجی کارکن کلارا زیٹکن نے عالمی سطح پر خواتین کا دن منانے کی تجویز پیش کی، جس کے بعد 1911 سے مختلف ممالک میں یوم خواتین باقاعدگی سے منایا جانے لگا۔ اس دن کا بنیادی مقصد خواتین کے لیے مساوی حقوق، سماجی انصاف اور معاشی خودمختاری کو فروغ دینا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس دن نے ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کر لی جس کے مثبت اثرات آج دنیا بھر میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
پاکستان میں بھی خواتین کی فلاح و بہبود اور بااختیاری کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ خصوصاً صوبہ پنجاب میں موجودہ حکومت خواتین کی معاشی اور سماجی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے اہم منصوبے متعارف کروا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی کفالت کے لیے’’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘‘ پروگرام کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مستحق بیوہ خواتین کو ایک لاکھ روپے تک مالی امداد جبکہ یتیم بچوں کو پچیس، پچیس ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اس پروگرام کے لیے شفاف ڈیجیٹل نظام، موبائل ایپلیکیشن اور ویب پورٹل بھی متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ حقیقی حقدار تک اس کا حق براہِ راست پہنچ سکے۔
خواتین کی فلاح کے لیے پنجاب حکومت نے اس کے علاوہ بھی کئی اہم پروگرام شروع کیے ہیں۔’’دھی رانی پروگرام‘‘ کے تحت تین ہزار مستحق، یتیم یا نادار لڑکیوں کو شادی کے اخراجات کے لیے ایک لاکھ روپے اور گھریلو سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ’’لائیو اسٹاک اثاثہ منتقلی اسکیم‘‘ کے ذریعے جنوبی پنجاب کے بارہ اضلاع میں گیارہ ہزار سے زائد بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کو گائیں اور بھینسیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔ اس کے علاوہ ’’بیوہ سہارا کارڈ اسکیم‘‘ کے تحت رجسٹرڈ بیوہ خواتین کو ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک مالی معاونت دی جائے گی جبکہ ’’آغوش پروگرام‘‘ کے ذریعے حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی صحت کے لیے مالی مدد اور حفاظتی ٹیکوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
پنجاب حکومت نے خواتین کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے’’آئی ٹی ٹریننگ اور ڈیجیٹل اسکلز پروگرام‘‘ بھی شروع کیا ہے جس کے تحت ستائیس ہزار دیہی خواتین کو چھ ماہ کی تربیت، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ ڈیوائسز فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ آن لائن روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں اور معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔
خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں پنجاب پولیس کی ویب سائٹ پر خواتین کے لیے ایک خصوصی آن لائن پورٹل متعارف کروایا گیا ہے جہاں خواتین ہراسانی، تشدد یا کسی بھی قسم کی زیادتی کے خلاف اپنی شکایات درج کرا سکتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو ایک محفوظ اور آسان پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے مسائل متعلقہ اداروں تک پہنچا سکیں اور انہیں بروقت انصاف مل سکے۔
یوم خواتین ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خواتین کی ترقی دراصل پورے معاشرے کی ترقی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر اسی عزم کے ساتھ خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری پر توجہ دی جاتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی خواتین ہر میدان میں مزید مضبوط اور باوقار کردار ادا کرتی نظر آئیں گی۔

مزیدخبریں