ایران ‘ اسرائیل اور امریکا کے مابین ہونے والی جنگ سے دنیا بھر کی معیشت ڈگمگا نے لگی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں ایران نے ناکہ لگا دیا ہے جس سے تیل کی ترسیل بند ہو گئی ہے لہٰذا اس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ظاہر ہے تیل مہنگا ہو تا ہے تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ مہنگائی دھیرے دھیرے اوپر جانے لگی ہے جس کو روکنا مشکل ہو گا۔
وطن عزیز میں مہنگائی پچھلے پانچ چھے برس سے تیزی کے ساتھ بڑھی ہے۔ روزگار کا مسلہ بھی گمبھیر ہوا ہے۔ سماجی رویے بھی تبدیل ہوئے ہیں ۔بے حسی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یہ زیادتی نہیں اور سینہ زوری نہیں کہ ایک خود مختار آزاد ملک کو اپنے بارے میں سوچنے کی آزادی نہیں دی جارہی۔ وہ اگر جوہری بم بنانا چاہے تو اسے طاقت سے روک دیا جائے اور یہ سہولت چند ملکوں کو حاصل ہونی چاہیے۔اگر امریکا کا جواز یہ ہے کہ ایران عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لیتا ہے لہذا اس کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی مگر اس پر تو پابندیاں عائد ہیں اس کی تجارت پر قدغنیں ہیں اس نے جو بھی حاصل کیا اپنے وسائل سے کیا لہٰذا اسے مذاکرات کے ذریعے قائل کیا جا سکتا تھا۔ آج کے دور میں جنگوں کی گنجائش نہیں جب امریکا خود کو تہذیب یافتہ اور جمہوریت کا چیمپئین کہلواتا ہے تو اسے لڑائی سے اجتناب برتنا چاہیے مگر نہیں اس نے تمام اخلاقی ضابطے اور اصول ایک طرف رکھ کر ایران پر چڑھائی کر دی ہے۔ مگر اس کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران جوابی کارروائی بھی کرے گا۔ اس پر بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ وہ حملے کرنا روک دے۔ کیسی منطق ہے جن ملکوں میں اس کے اڈے ہیں اور وہاں سے اس کے جہاز اڑ کر ایران کی سرکاری و غیر سرکاری تنصیبات کو بھسم کرے اس کے اہم ترین لیڈر کو شہید کر دے تو اسے کچھ نہ کہا جائے ؟۔
بہرحال جنگ جاری ہے دونوں اطراف کی بربادی ہو رہی ہے جس کے اثرات ساری دنیا پر بالواسطہ و بلا واسطہ مرتب ہونے لگے ہیں لہذا فریقین کو ہلہ شیری کے بجائے گفتگو کے لئے آمادہ کیا جائے کیونکہ اس شعوری دور میں معاملات جنگ و جدل سے طے نہیں ہو سکتے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی مذاکرات ہی کو ترجیح دی گئی تھی لہذا اب جب ترقی کا عمل بہت آگے جا چکا ہے تو ہر مسئلہ بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔ لہذا مکرر عرض ہے کہ تمام ملکوں کو آگے آنا چاہیے اور صلح کے لئے اپنا پْر امن کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ انسانوں کو بہتر خوراک تعلیم صحت اور روزگار کی اشد ضرورت ہے۔ جدید سہولتوں کا ترقی پذیر اور کمزور ملکوں میں فقدان ہے۔ ہمیں اٹھہتر برس ہو گئے ہیں آزاد ہوئے مگر ہمیں ابھی تک ملاوٹ سے آزادی حاصل نہیں ہو سکی۔ ناقص غذائیں جعلی دوائیں اور آلودہ ماحول نے ہماری زندگیوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے مگر ابھی تک ہر حکومت اس سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ غریب لوگوں کے پاس اپنا پیٹ بھرنے کے لئے مطلوبہ غذائیت میسر نہیں لہٰذا وہ سسک رہے ہیں۔ مر رہے ہیں اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو ہماری معاشی حالت بگڑ سکتی ہے۔
فریقین کو خود بھی اس پہلو پر غور کرنا چاہیے بالخصوص امریکا کو جو تہذیب و شائستگی کا دعویدار ہے اور اسرائیل جس نے فلسطینیوں کو تہ تیغ کیا بچوں تک کو نہیں چھوڑا ہوش کے ناخن لینے چاہیں اور اس کو کسی زعم میں نہیں رہنا چاہیے کہ اسے کوئی روکنے والا نہیں اس کی چیخیں پورا جگ سْن رہا ہے۔ ایران کے میزائل تھرتھلی مچا رہے ہیں اور اس نے حملہ آوروں پر واضح کر دیا ہے کہ اگر انہوں نے رجیم چینج کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کا ایٹمی بجلی گھر جلا کر راکھ کر دے گا۔ اس طرح مبینہ طور سے روس اور چین بھی مسلسل فوجی سامان بھجوا رہے ہیں کیونکہ جب اسرائیل کی مدد امریکا کر سکتا ہے تو پھر ایران کی مدد کرنے میں بڑی طاقتیں کیسے پیچھے رہ سکتی ہیں لہٰذا دنیا میں ایک خوف کی لہر دوڑ گئی ہے کہ میزائل کب کس ملک کا رخ کر لیں۔ یہاں یہ عرض کرتے چلیں کہ امریکا اور اسرائیل آسانی سے ہار ماننے یا پیچھے ہٹنے والے نہیں مگر انہیں دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہو گا کیونکہ اسلحی برتری کا انہیں خوب اندازہ ہو چکا ہے۔۔ چینی ٹیکنالوجی حیران کْن ہے۔ خود ایران نے بھی ایسے ہتھیار بنا لئے ہیں کہ وہ ان سے کئی ماہ تک جنگ جاری رکھ سکتا ہے مگریہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس جنگ سے جب قریباً ہر ملک متاثر ہو گا تو کیا ان میں کہرام نہیں مچے گا؟ بھوک بیماری اور بے روزگاری بے قابو ہو جائیں گے پھر خانہ جنگی کا خطرہ بھی سر اٹھانے لگے گا بلکہ اٹھا چکا ہے لہذا دنیا بھر میں موجود امن کے پرچارک آگے آئیں اور فریقین کو سمجھائیں کہ کہیں ایٹمی اسلحہ استعمال نہ ہو جائے جس کا کوئی بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔ مقاصد تب بھی پورے نہیں ہوں گے کیونکہ جب باغ ہی اجڑ جائے تو اس کی رونقیں ختم ہو جاتی ہیں لہٰذا اسرائیل اور امریکا سنجیدگی سے سوچیں کہ اب نہ وہ بہار ہے نہ وہ سماں ہے کہ جس میں وہ چہل قدمی کیا کرتے تھے۔اب خیالات بدل رہے ہیں۔ لوگوں کی غالب اکثریت اپنی مزاج کے مطابق جینا چاہتی ہے لہذا ایران میں وہ جو چاہتے ہیں ممکن نہیں کہ چڑیاں کھیت چْگ چکی ہیں‘‘۔
امن کی فاختہ سہم گئی
09:07 AM, 8 Mar, 2026