امن کی قیمت جنگ سے کہیںبہت کم ہے

09:05 AM, 8 Mar, 2026

دنیا کی سیاست میں طاقت، مفاد، خوف، چالاکی اور دانشمندی ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی بڑی جنگ شروع ہوتی ہے تو اس میں صرف دو ملک شامل نہیںرہتے بلکہ بالواسطہ یا بلاواسطہ تقر یبا ً پوری دنیا ہی اس کے اثرات میں آ جاتی ہے۔اس وقت جاری ایران- امریکہ جنگ میں کس کا پلڑہ بھاری ہے اور کون نقصان اٹھا رہا ہے اس کا صحیح اندازہ لگانا تو مشکل ہے لیکن یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ جنگ اب ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
اس جنگ کے بارے میں مختلف تجزیہ کار اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن معروف کالم نگار جاوید چوہدری نے جس خدشہ کا اظہار کیا ہے وہ واقعی قابل غور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جنگی ماحول میں آہستہ آہستہ ایسا محسوس ہو نا شروع ہو گیا ہے کہ اس میں امریکہ کا پلڑا کمزور پڑتا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود دنیا کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ واحد سپر پاور ہے اور اگر اسے دیوار سے لگا دیا گیا تو وہ کسی بھی انتہائی قدم سے گریز نہیں کرے گا۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس جنگ سے نکلنے کے لیے امریکہ کو ایک باعزت اور محفوظ راستہ دیا جائے۔
ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍبظاہر یہ بٍاٍتً کچھ عجیب ٍسی مٍعٍلوم ہوتی ہے کیونکہ عام طور پر جب کسی طاقتور ملک کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو مخالف قوتیں خوشی کا اظہار کرتی ہیں۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکہ کمزور ہو جائے تو یہ دنیا کے لیے بہتر ہو گا۔ لیکن عالمی سیاست اتنی سادہ نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑی طاقتیں جب مشکل میں آتی ہیں تو وہ اکثر ایسے فیصلے کر گزرتی ہیں جن کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ اس کے پاس جدید ہتھیاروں کا ایسا ذخیرہ ہے جس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ خاص طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے امریکہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کبھی کوئی ایسی صورتحال پیدا ہو جائے کہ جہاں امریکہ خود کو شکست کے قریب محسوس کرے تو اس بات کا خدشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ وہ کوئی انتہائی قدم اٹھا لے۔
تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب طاقتور ریاستیں اپنے وجود کو خطرے میں محسوس کرتی ہیں تو وہ اکثر ایسے فیصلے کر لیتی ہیں جنہیں بعد میں پوری انسانیت کے لیے افسوسناک سمجھا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ جب جاپان کے خلاف جنگ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوئی تو امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا دیے۔ اس وقت شاید امریکہ نے اسے جنگ ختم کرنے کا ایک تیز ترین راستہ سمجھا ہوگا لیکن اس کے نتیجے میں لاکھوں انسان ہلاک ہو گئے اور آنے والی کئی نسلیں تک اس کے اثرات سے متاثر رہیں۔ آج اگر ہم دنیا کے حالات کو دیکھیں تو یہ خدشہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ جدید دنیا میں ایٹمی ہتھیار پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکے ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی بڑی طاقت نے دوبارہ اس راستے کا انتخاب کیا تو اس کے نتائج صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہو گی۔
آج ایران ایک مضبوط اور مزاحمتی ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔یہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پابندیوں، دباو اور خطرات کے باوجود اپنی پالیسیوں پر قائم رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اسے خطے میں مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ کچھ اسے ایک جارحانہ ریاست قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے اپنی طاقت اور اثر و رسوخ میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ کیا ہے۔
امریکہ اگرچہ فوجی لحاظ سے طاقتور ہے لیکن افغانستان اور عراق جیسے ایڈونچرز نے امریکہ کو یہ سبق ضرور دیا ہے کہ کسی خطے میں فوجی طاقت کے ذریعے مکمل کامیابی حاصل کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ اسی تناظر میں جاوید چوہدری کا تجزیہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ایسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جس میں امریکہ کا پلڑا ہلکا پڑ رہا ہے تو دنیا کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اسے مکمل طور پر کونے میں نہ دھکیلا جائے۔ کیونکہ اگر کسی سپر پاور کو یہ احساس ہو جائے کہ اس کے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں رہا تو وہ ایسے اقدامات کر سکتی ہے جو پوری دنیا کے لیے خطرناک ہوں۔
یہاں دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اور عالمی ادارے اس بحران کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں۔ جنگوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف فوجوں کو نہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ معیشت تباہ ہو جاتی ہے، مہنگائی بڑھ جاتی ہے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایسی صورتحال اور بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ ہماری معیشت پہلے ہی کئی مسائل کا شکار ہے۔ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ جائیں یا تجارت متاثر ہو جائے تو اس کا براہ راست اثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر پڑتا ہے۔اسی لیے ضروری ہے کہ عالمی رہنما جذبات کے بجائے عقل اور حکمت سے کام لیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ آخرکار ہر جنگ مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوتی ہے اور اگر بات چیت کرنی ہی ہے تو بہتر یہی ہے کہ اسے جلد شروع کر دیا جائے۔ امریکہ کو بھی چاہیے کہ وہ اسرائیل کی محبت میں ایک حد سے آگے نہ نکل جائے اور طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے۔ اگر امریکہ واقعی دنیا میں امن کا خواہاں ہے تو اسے ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو کشیدگی کو کم کریں نہ کہ مزید بڑھائیں۔ دوسری طرف ایران کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیں۔ دنیا کے بڑے ممالک جیسے چین، روس اور برطانیہ اور یورپی طاقتوں کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔ اگر یہ ممالک مل کر ایک متوازن حل تلاش کریں تو شاید اس بحران کو ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ کیونکہ سیاست میں کامیابی یہی ہوتی ہے کہ فریقین کو ایسی راہ دکھا دی جائے جس سے وہ اپنی عزت بچاتے ہوئے پیچھے ہٹ سکیں۔آج کی جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں ہیں بلکہ سائبر حملے، معاشی پابندیاں، میڈیا جنگ اور پراکسی لڑائیاں سب اس کا حصہ بن چکی ہیں۔ اس پیچیدہ ماحول میں کسی بھی غلط فیصلے کے نتائج بہت دور تک جا سکتے ہیں۔
دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ امن کی قیمت جنگ سے کہیں کم ہوتی ہے۔اسی لیے ضروری ہے کہ عالمی قیادت اس حقیقت کو سمجھے اور ایسے فیصلے کرے جو دنیا کو ایک نئی تباہی کی طرف دھکیلنے کے بجائے امن اور استحکام کی طرف لے جائیں۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دانشمندی سے سنبھال لیا گیا تو شاید دنیا ایک بڑے خطرے سے بچ سکتی ہے۔ لیکن اگر جذبات غالب آ گئے تو اس کے نتائج کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو گا۔

مزیدخبریں