حقوق کی آڑ میں انتشار کی سیاست

08:37 AM, 8 Jun, 2026

جس طرح کوئی ماں اپنے چھوٹے بیٹے کو بے جا لاڈ پیار سے بگاڑ دیتی ہے اور وہ بچہ روز کوئی نہ کوئی نیا چاند چڑھا کر گھر کا امن برباد کرتا ہے، بالکل اسی طرح اس وقت آزاد جموں و کشمیر میں صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ تین روپے فی یونٹ بجلی استعمال کرنے والے ریاست کے لاڈلے عوام کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن جیسے عناصر حقوق کے نام پر ورغلا کر ایک ایسے راستے پر ڈال رہے ہیں جس کی منزل صرف اور صرف تباہی ہے۔ 30 مئی 2026 کو مذاکرات کے ذریعے معاملات سلجھانے کی کوشش کی گئی تا کہ بدامنی اور انتشار کو روکا جا سکے۔ وزیرِ اعظم کشمیر اور چودھری یاسین جیسے معتبر سیاست دانوں کی موجودگی میں وفاق کی جانب سے قمر الزمان کائرہ، احسن اقبال اور راجہ پرویز اشرف جیسے ناموں کا ان مذاکرات میں بیٹھنا حکومت کی معاملات کی سنگینی پر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ پھر سوچیے کہ 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کر لیے جائیں، پھر احتجاج پر زور دینا عوامی مفاد ہے یا سیاسی ضد؟
جے اے اے سی کی قیادت کی نیت پر سوال تو یقینا اٹھتے ہیں۔ حال ہی میں بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا ایک زہر آلود بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا: ”ہمیں آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں، وہاں کے لوگ خود بھارت کا حصہ بننے کی بات کریں گے“۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دینے والا بھارت اب آزاد کشمیر میں اپنے کچھ کارندوں کے ذریعے انتشار پھیلانے کی بھرپور کوشش میں ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف بھارت آزاد کشمیر میں اندرونی خلفشار کی امید لگائے بیٹھا ہے اور دوسری طرف حقوق کی آڑ میں ریاستی ڈھانچے کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
ریٹائرڈ جنرل بخشی کی ویڈیو غالباً آپ نے دیکھ رکھی ہو گی جس میں انہوں نے جواہر لال نہرو جی کو کشمیر کا راج ونش دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکنے سے تشبیہ دی، اور کہا کہ صاحب میں ایک سینک ویکتی ہوں ہمارے پاس جے اے اے سی کی صورت میں ایک اور آپشن موجود ہے جنہوں نے پاکستان کے خلاف وردھ کر رکھا ہے جس کا ہمیں بھرپور لابھ اٹھانا چاہیے۔ اور میں سرکار کو نویدن کرتا ہوں کہ جے اے اے سی کا اپیوگ کرے اور کشمیر کو بھارت کا انگ بنانے کی دِشا میں کارے کرے۔ بچپن سے آج تک بالی وڈ کی فلمیں دیکھنے کے باوجود مجھے یہ ویڈیو کوئی سات مرتبہ دیکھ کر بھی آدھی زبان سمجھ آئی لیکن زبان کو چھوڑیے صاحب بخشی جی جو زہر اُگل رہے ہیں وہ بنا زبان کے بھی کسی بھی ذی شعور کو بآسانی سمجھ آ سکتا ہے۔ اور انسان نے زندگی میں کبھی غلطی سے آئی آر پڑھ لی ہو تو سب روزِ روشن کی طرح عیاں ہو سکتا ہے۔
میں بحیثیت انٹر نیشنل ریلیشنز سکالر اس صورتحال کو دیکھوں تو میرے ذہن کے پردے پہ کلاز وٹز اپنی کتاب آن وار اٹھائے کھڑے نظر آتے ہیں اور اندھی نفرت کے کارن کی جانے والی جنگ اور اس کے ہتھکنڈوں پہ روشنی ڈالتے ہوئے مجھے فرینک ہاف مین کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو ہائبرڈ وار سمجھانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور پیچھے میکاولی، تھامس ہابز، چنکیا کوتالیا، میئر شائمر اپنی اپنی شہرہ آفاق تصنیفات کیے کھڑے ہیں۔۔۔ خیر ذہن سے ان سب کو جھٹک کر موجودہ صورتحال کی طرف آتے ہیں۔ تو شوکت نواز میر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم تو بس حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن چند منفی عناصر بیرونی سازشوں کے چلتے انتشار پھیلانے میں مگن ہیں۔ کچھ نام نہاد صحافی اور سیاست دان بھی اس سرگرمی میں شامل ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مطالبات مان لیے گئے عمل درآمد بھی شروع کر دیا گیا تو کیا یہ محض ایک احتجاج ہے؟ یا اس کٹھ پتلی کی ڈوریاں کسی اور ہاتھ میں ہیں؟ جواب دینے کی شاید مجھے ضرورت نہیں، بھلے شدھ ہندی میں زہر اگلا ہے لیکن چاچا بخشی نے بہت سے سوالوں کے جواب خود ہی دے دئیے۔
آزاد کشمیر، جس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سیاحت کو سمجھا جاتا ہے، وہاں مسلسل ہڑتالوں اور پہیہ جام کی کالز سے کاروبارِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ 9 تاریخ سے ہونے والی مکمل ہڑتال نے وینٹیلیٹر پہ پڑی معیشت کا مین سوئچ آف کرنے کی ٹھان لی ہے۔ انہی سنگین شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم تنظیم قرار دے دیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، اس تنظیم کے خلاف ریاست دشمن سرگرمیوں، عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور نفرت کو فروغ دینے کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔ آج راولاکوٹ میں ہونے والے واقعے نے جے اے اے سی کے مذموم عزائم کا پردہ فاش کر دیا۔ جو گروہ ہڑتال کا دن مقرر کر کے پھر اسی دن سے پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہتھیار اٹھائے اور پولیس اہلکار کو زخمی کر دے وہ حقوق کی بات کرتا کچھ غیر مناسب سا لگتا ہے۔
موجودہ نازک ترین مصلحت کا تقاضا ہے کہ کشمیری عوام اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں، ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کریں اور کسی بھی ایسی تحریک کا حصہ نہ بنیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ دلی میں بیٹھے آقاو¿ں کے بیانیے کو تقویت پہنچاتی ہو۔ آزاد کشمیر کی بقا قانون کی حکمرانی اور پاکستان کے ساتھ مضبوط رشتے میں ہی پنہاں ہے۔ حکومت کشمیر میں قانون کی پاسداری ، امن اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ 
نہیں ہے اقبال نومید اپنی کشت ویراں سے
زرہ نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

مزیدخبریں