چوپال میں محفل سجی ہوئی تھی، لیکن چپ سائیں ضرورت سے زیادہ ہی چپ تھے۔ نتھو اور پھتو نے ایک دوبار کوشش بھی کی کہ چپ سائیںسے پوچھا جائے کہ معاملہ کیاہے؟ لیکن جرات نہیں ہوئی۔۔۔خیر چاچاخیر و آئے اور سلام دعا کے بعد بیٹھ گئے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد چاچاخیروبولے۔۔۔ چپ سائیں جی ۔۔خیر تو ہے آج چوپال میںا تنی خاموشی۔۔۔۔ چپ سائیں بولے۔۔۔ بھائی خیر و میں دراصل یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر کسی کو اس دور میںیہ حقیقت بتائی جائے کہ وہ غلط ہے تو وہ برا مان جاتا ہے ، الٹا سمجھے کہ اس کی اصلاح ہورہی ہے وہ غلطی بتانے والے کے خلاف باتیں کرنا شروع کردیتا ہے۔۔۔ اس پر سب بیک زبان ہوکر بولے۔۔ سائیں جی بات تو سچ ہے۔۔ اس بارے میں آج تفصیل سے بتائیں۔
بھائیو! شاعر داغ دہلوی کے شعر کا مصرعہ ہے کہ ”آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے۔۔۔“، یہ انسانی نفسیات، معاشرتی منافقت اور ہمارے اردگرد پھیلے دوغلے پن کا ایک ایسا کچا چٹھا ہے جسے داغ نے صرف دو مصرعوں میں سمیٹ دیا ہے۔ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہاں یہ شعر کسی ایک فرد پر نہیں، بلکہ پورے معاشرے، نظام اور مقتدر حلقوں پر فٹ بیٹھتا ہے۔
دوستو!''آئینہ دکھانے'' سے مراد کسی کی ظاہری شکل و صورت کا جائزہ لینا نہیں، بلکہ کسی کے کردار، اس کی نیت، اس کی خامیاں اور اس کے اصل چہرے کو اس کے سامنے لا کھڑا کرنا ہے۔ چپ سائیں بولے بھائیو!انسان کی یہ ازلی خواہش رہی ہے کہ اسے ہمیشہ پارسا، عاقل اور ہر عیب سے پاک سمجھا جائے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی جھوٹی تعریفوں کے پل باندھیں، لیکن جیسے ہی کوئی ہمدرد یا نقاد اس کے سامنے حقائق کا آئینہ رکھتا ہے،یا اسے اس کی برائی بتائیں تو وہ اپنی اصلاح کرنے یا شرمندہ ہونے کے بجائے، الٹابات کرنے والے کے ہی درپے ہو جاتی ہیں یعنی اسے ہی اول فول اور مغلظات بکنے لگتے ہیں۔
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے سچائی کو برداشت کرنے کا حوصلہ بالکل کھو دیا ہے۔ ہم جھوٹ کی بنیان پر کھڑی عمارتوں میں رہنا پسند کرتے ہیں، لیکن سچ کی ایک تپتی ہوئی کرن کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
دوستو!اگر اس شعر کے دوسرے مصرعے پر غور کریں یعنی''محفلِ غیر میں پایا تو برا مان گئے''تو یہ ہماری سیاسی اور سماجی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ آج ہمارے سیاسی و سماجی رہنما¶ں کا حال بھی یہی ہے۔ وہ اپنے ووٹروں کے سامنے کچھ اور پس پردہ کچھ ہوتے ہیں۔
بات صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں، ہمارے نجی تعلقات بھی اسی منافقت کا شکار ہیں۔ ہم خود تو ہر آزادی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، لیکن جب ہمارا کوئی اپنا اسی روش پر چلتا ہے یا ہماری غلطی کی نشاندہی کرتا ہے، تو ہماری انا کو ٹھیس پہنچتی ہے اور ہم برا مان جاتے ہیں۔کسی بھی زندہ معاشرے کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں تنقید کو اچھے لفظوں میں لیا جاتا ہے کیونکہ تنقید اصلاح کا پہلا زینہ ہے لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ چپ سائیں بات کرتے کرتے چپ کرگئے۔۔
توقف کے بعد بولے۔۔۔دوستو! ہم نے آئینے توڑنے کی عادت اپنا لی ہے۔ اگر میڈیا کوئی سچ دکھائے، تو اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے، اگر کوئی دوست مخلصانہ مشورہ دے، تو اس سے تعلقات توڑ لیے جاتے ہیں اور اگر ضمیر کبھی اندر سے ملامت کرے، تو ہم مصروفیت کی چادر اوڑھ کر اسے سلا دیتے ہیں۔ہم یہ بھول چکے ہیں کہ آئینے توڑنے سے چہرے کے داغ دھبے یا نشان تو ختم نہیں ہوتے، بلکہ عکس مزید مسخ ہو جاتا ہے۔ جب تک ہم میں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور اپنے گریبان میں جھانکنے کی جرات پیدا نہیں ہوگی، ہم ایک بہتر معاشرے کی تشکیل نہیں کر سکتے۔
چپ سائیں نے کہاکہ بھائیو !ہمیں اپنی جھوٹی انا کے خول سے باہر نکلنا چاہئے۔ اگر کوئی ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے، تو ناراض ہونے، غصہ کرنے یا برا ماننے کے بجائے، اپنے چہرے پر لگی اس دھول کو صاف کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس کی وجہ سے عکس دھندلا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہونی چاہئے کہ آئینے میں نظر آنے والی خامیوں کو دور کرنے کا عزم کریں، کیونکہ سچی قومیں اور سچے لوگ وہی ہوتے ہیں جو آئینے کے سامنے سر جھکا کر اپنی اصلاح کر لیتے ہیں، برا نہیں مانتے۔
صاحبو!گھروں اور دوستوں کی محفل میں اگر آپ کسی قریبی عزیز یا دوست کو اس کی کسی غلطی، حسد یا دوغلے پن پر مخلصانہ مشورہ دیں، تو وہ ممنون ہونے کے بجائے آپ کا دشمن بن جائے گا۔ لوگ کہتے ہیں "تم نے ہماری عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچائی"´´۔۔۔بھائیو! ہم سچے دوستوں کو کھو دیتے ہیں اور منافق خوشامدیوں کو گلے سے لگا لیتے ہیں جو پیٹھ پیچھے کچھ اور، اور سامنے کچھ اور ہوتے ہیں۔ قابل ذکر بات ہے کہ سیاستدان خود تو بند کمروں میں ہر طرح کے سمجھوتے کرتے ہیں، مخالفین سے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں، لیکن جب کوئی کیمرہ یا قلم ان کے اس تضاد کو عوام کے سامنے لے آتا ہے، تو وہ اسے جمہوریت پر حملہ یا ذاتی زندگی میں مداخلت قرار دے کر واویلا شروع کر دیتے ہیں۔
نتھو، پھتو اور چوپال کے دوستو، ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جب کسی انسان کے سامنے اس کی اصل حقیقت لائی جاتی ہے، تو اس کے اندر ایک شدید نفسیاتی تناو¿ پیدا ہوتا ہے ، اس تناو¿ سے بچنے کے دو ہی طریقے ہوتے ہیں اول یہ کہ انسان اپنی غلطی مان لے اور خود کو بدلے ، جس کے لیے بہت بڑے ظرف اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے، دوم ،انسان سامنے والے کے سچ کو ہی جھوٹا کہہ دے تاکہ اس کا جھوٹا سکون برباد نہ ہو۔
بھائیو !ہم برا اس لیے مانتے ہیں کیونکہ سچ کو تسلیم کرنے کے بعد ہمیں اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا پڑتا ہے، اور اپنے ہی سامنے شرمندہ ہونا پڑتا ہے، جو کہ سب سے مشکل کام ہے۔ صاحبو!اگر کوئی قوم، ادارہ یا فرد اپنے چہرے کے داغ دھونے کے بجائے آئینے کو توڑنے کا عمل جاری رکھے، تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ حقیقت پسندی سے اتنی دور نکل جاتا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ملتا۔آئینے کبھی برے نہیں ہوتے۔ اگر کوئی ہمیں ہماری خامی دکھا رہا ہے، تو وہ ہمارا دشمن نہیں بلکہ محسن ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم "برا ماننے" کی روش ترک کریں، تنقید کا حوصلہ پیدا کریں ۔۔۔۔رہے نام اللہ کا !۔
”آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے۔۔۔“
08:37 AM, 8 Jun, 2026