ذرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

08:36 AM, 8 Jun, 2026


فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ”تمہیں حرص نے غافل کر دیا، یہاں تک کہ قبریں جا دیکھیں“۔ اسی حقیقت کو رسول اللہﷺ نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ابنِ آدم کے پاس اگر مال و دولت سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تب بھی وہ تیسری کی خواہش کرے گا، ابنِ آدم کا پیٹ قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھرتی۔ دینِ اسلام کا مقصدِ حیات آخرت کی کامیابی ہے، اسی کے لیے محنت اور جدو جہد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ”لوگو! اللہ کا وعدہ یقینا برحق ہے، لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے“۔ دورِ حاضر میں ہم نے دینِ اسلام کے بنیادی عقیدے یعنی تصورِ آخرت کو بالکل ہی فراموش کر دیا ہے۔ دنیاوی فوائد کے حصول کے لیے اس لگن سے محنت کرتے ہیں گویا کہ ہمیں کبھی اس دنیائے فانی سے رخصت ہی نہیں ہونا ہے۔ مال و دولت انسان کے لیے غیر ضروری آسانیاں، تعیشات، لالچ اور ہوس کو پیدا کرتے ہیں۔ انسان کو ہلاک کرنے والی اخلاقی بیماریوں میں سے ایک لالچ ہے۔ فرمانِ نبویﷺ ہے کہ لالچ سے بچتے رہو کیونکہ تم سے پہلی قومیں لالچ کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ معاشرے میں مقابلے کی دوڑ میں دولت اور ہوس نے ہماری خوشیوں کو محدود کر دیا ہے، روز بہ روز بڑھ رہے لالچ، حرص اور پیسوں کی فراوانی نے خوشیوں اور سکون کوبالکل ختم کر کے رکھ دیا ہے، مگر کیا وجہ ہے کہ آج دولت کی فراوانی اور لاتعداد سہولیات کے باوجود بھی انسان بے سکون ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔ مال و دولت کی ہوس ایسی چیز ہے جس کہ لالچ میں انسان اپنے ایمان کو بیچ ڈالتا ہے، اپنے مذہب و مسلک کو تبدیل کر لیتا ہے، دلوں میں نفاق اور ذہنوں میں کدورت بیٹھ جاتی ہے۔ ہم ہر روز اپنے سامنے کسی نا کسی کو مرتے اور قبر میں اترتا دیکھتے ہیں، ہمیں بہت اچھی طرح سے معلوم ہے کہ کفن میں جیب نہیں ہوتی اور مرنے والے ہر انسان کو قبر کی مٹی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا مگر انسان ہے کہ اس کے باوجود غفلت میں مبتلا ہے۔ اس کی حرص و ہوس کسی طور ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی، مال کو رشوت، حرام، دھوکے اور جھوٹ سے کمانے کے بعد اسے سینت سینت کر رکھتے ہیں۔ مگر قرآن کریم میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ سوف تعلمون تم عنقریب جان لو گے، جس مال کے پیچھے تم نے اپنی آخرت کو گنوایا، جس مال کو پانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکایا، جس مال کے پیچھے اللہ تبارک و تعالیٰ کے احکامات کو نظر انداز کیا، جس 
مال کو حاصل کرنے کے لیے مظلوموں کی دعائیں لیں، جس مال کے لالچ میں حقداروں کے حقوق کو دبایا وہ مال تو بالکل برباد ہو گیا کیونکہ آخرت کی ابدی اور حقیقی دنیا میں اس تمام مال کی کوئی بھی حقیقت و حیثیت نہیں 
ہے۔ آج کل کے انسان کے پاس دولت اور دنیاوی تمام آسائشوں کے ڈھیر تو موجود ہیں مگر اسے کسی طور بھی دلی سکون میسر نہیں ہے۔ آج انسان کو سونے کے لیے سکون آور ادویات کی ضرورت ہے، کھانے میں نمک اور چینی ممنوع ہیں، آج کے انسان کی زندگی پھیکی، بے چین اور ادھوری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فانی دنیا کو وجود بخشا، پھر اس میں حضرت ِ انساں کو بسایا اور ان کو راہ راست پر رکھنے کے لیے نبیوں، پیغمبروں اور رسولوں کا سلسلہ جاری و ساری فرمایا تاکہ انسان صراطِ مستقیم پر گامزن رہے لیکن انسان اپنی نفسانی خواہشات اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ہمہ تن مصروف ہو گیا۔ ربِ کائنات کی چاہی زندگی کے بجائے انسان اپنی مرضی کی زندگی گزارنے لگتا ہے۔ انسان کا مقصدِ حیات آخرت کی کامیابی ہے، اسی کے لیے محنت اور جدوجہد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور رشتوں کو فتنہ قرار دیا۔ مال اور دولت کی محبت انسان کے دل میں اس حد تک بیٹھ جاتی ہے کہ پھر انسان اسے عزت اور عظمت کا معیار سمجھنے لگتے ہیں، مال انسان کی بڑائی کا پیمانہ بن جاتا ہے اور جو اس سے محروم ہو اسے ہمارے سماج میں کچھ اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ قرآن مجید میں قارون اور اس کی بے انتہا دولت، اس کے تکبر اور عبرت انگیز انجام کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: کوئی شک نہیں کہ قارون موسیٰ(علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا۔ پھر اس نے ان کے خلاف سرکشی کی۔ اور ہم نے جو خزانے اس کو دئیے تھے، وہ اتنے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت بھی مشکل سے ہی اٹھا سکتی تھی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ (اپنی بے انتہا دولت پر) اِتراو¿ نہیں، کیونکہ یقیناً اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا (سورة القصص)۔ قارون نے مال و زر اور جاہ و منصب کے لالچ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون رعمسیس کا ساتھ دیا تھا۔ فرعونِ وقت نے قارون کو بنی اسرائیل پر حاکم بنا دیا اور بنی اسرائیل کو قارون کے تابع کرنے کے لیے اسے بے حساب دولت سے نواز دیا، وہ اس خزانے کو ہر چیز سے عزیز رکھتا تھا اور یہ دولت صرف اپنی عیش و عشرت اور نمود و نمائش پر خرچ کرتا تھا اس نے بہت عمدہ اور شاندار محل بنا رکھا تھا جس کی دنیا بھر میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس محل کے درو دیوارسونے اور ہیروں سے منقش اور قیمتی جواہرات سے جڑوا رکھے تھے، اس کے سیکڑوں غلام اور کنیزیں تھیں۔ اس بے انتہا دولت نے اس کو اتنا سر کش و خود غرض بنا دیا کہ وہ اپنی قوم کے خلاف ہو گیا۔ ہزاروں سال پہلے تو صرف ایک قارون تھا، لیکن آج اس دنیا میں لاکھوں قارون موجود ہیں جو دولت پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں۔ اسی طرح سردارانِ قریش نبی کریمﷺ سے کہتے تھے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت دی ہے، اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہوتے تو تمہارے پاس بھی کثیر مال و دولت ہوتی۔ اس طرح کی باتیں کر کے کفارِ مکہ یہ سمجھتے تھے کہ آپﷺ جو اسلام کی دعوت دے رہے ہیں، ان کے مقابلے میں اپنی ناداری کی وجہ سے کبھی کامیاب نہ ہو سکیں گے اور وہ خود اپنی دولت کی وجہ سے ہمیشہ سرخرو اور کامیاب رہیں گے۔ دولت اور عہدے انسان کو عارضی طور پر بڑا کرتے ہیں مگر ’انسانیت‘ اور اچھا ’اخلاق‘ انسان کو ہمیشہ بلند درجے پر رکھتے ہیں۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: اور اگر یہ بات نا ہوتی کہ لوگ ایک ہی ڈگر پر چل پڑیں گے تو جو لوگ خدائے رحمان کے منکر ہیں، ہم ان کے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی کر دیتے،جن پر وہ چڑھتے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے، جہاں ربِ کریم نے ایک طرف رشد و ہدایت کے اسباب مہیا فرمائے ہیں تو دوسری طرف ابتلا و آزمائش کے لیے ذلالت و گمراہی کے اسباب پیدا کیے ہیں۔ جب تک انسان اپنے خالقِ حقیقی اور پروردگار کو یاد رکھتا ہے، اس کے مقام، اس کی صفات اور اس کے اختیارات کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے تو گناہوں کے دلدل سے بچا رہتا ہے۔ یہ دنیا یہ زندگی سب کچھ درحقیقت ایک فریبِ نظر اور وہم و گمان ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ ہر چیز کی کثرت اور فراوانی اس چیز کی کشش کو کم کر دیتی ہے اور انسان کا دل اس سے بھر جاتا ہے، لیکن مال ایک ایسی چیز ہے کہ اس کی کثرت انسان کو مزید کا طالب بنا دیتی ہے۔ موجودہ حالات میں کاروبار، رشتہ داری، دنیاوی معاملات حتیٰ کہ اسلامی رسوم و رواج بھی دولت کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ حضرت کعب بن عیاض ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) ہر امت کے لیے (کوئی نا کوئی) فتنہ اور آزمائش ہے جس میں اس امت کے لوگوں کو مبتلا کر کے ان کو آزمایا جاتا ہے، چنانچہ میری امت کے لیے جو چیز فتنہ اور آزمائش ہے وہ مال و دولت ہے۔ آج کل یہ سب بآسانی دیکھا جا سکتا ہے، مال و دولت کا فتنہ اس قدر ہمارے معاشرے میں پھیل چکا ہے کہ قیامت کا منظر لگتا ہے۔

مزیدخبریں