پاکستان کی تاریخ قربانیوں، استقامت اور مسلسل آزمائشوں کی تاریخ ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر ہماری مسلح افواج سرحدوں پر سیسہ پلائی دیوار بن کر نہ کھڑی ہوتیں تو شاید پاکستان کو آج جن خطرات کا سامنا ہے، ان سے کہیں زیادہ سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑتا۔ افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر صرف سرحدوں کی حفاظت ہی نہیں کی بلکہ ہر اس موقع پر قوم کے اعتماد اور ریاست کی بقا کا استعارہ بھی بنی ہیں۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف فوج کے بل بوتے پر مضبوط نہیں بنتی، بلکہ مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جہاں عوام، آئین، ادارے اور قومی سلامتی کا تصور ایک دوسرے کا دست و بازو بن جائیں۔ جب قوم متحد ہو، ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں اور عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
گزشتہ دنوں چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں ملکی سلامتی، دہشت گردی، کشمیر، سندھ طاس معاہدے، قومی دفاع اور خطے کی مجموعی صورتحال پر جو گفتگو سامنے آئی، وہ صرف ایک عسکری اجلاس کا اعلامیہ نہیں بلکہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان کے قومی مو¿قف کی عکاسی بھی ہے۔
پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں ہر لمحہ نئی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں۔ مشرق میں روایتی حریف موجود ہے تو مغربی سرحد پر دہشت گردی کا خطرہ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ایسے میں ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ اگر ریاست اپنی سرحدوں کی حفاظت نہ کر سکے تو پھر ترقی، جمہوریت، معیشت اور خوشحالی جیسے تمام خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں انتشار کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ بلاشبہ انتشار کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ قومی اتحاد صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، قانون کی بالادستی، شفاف حکمرانی اور عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتا ہے۔ جہاں انصاف ہوگا، وہاں انتشار کی گنجائش خود بخود کم ہو جائے گی۔
پانی اب صرف قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ آنے والے برسوں میں یہ قومی سلامتی کا سب سے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے جائز آبی حقوق کا تحفظ محض ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی، زراعت اور معیشت کا سوال ہے۔ اگر کسی بھی سطح پر پاکستان کے آبی حقوق کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف قومی سطح پر مو¿ثر اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
کشمیر آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ کشمیری عوام کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد صرف ایک سفارتی مو¿قف نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے جڑا ہوا بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ خطے میں دیرپا امن اسی وقت ممکن ہے جب کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دیا جائے۔
افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں پر اظہارِ تشویش بھی ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ ہر خودمختار ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اگر دہشت گرد سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں حاصل کر لیں تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور دنیا اس حقیقت کو تسلیم بھی کرتی ہے۔
تاہم ایک اور حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف بندوق سے حاصل نہیں ہوتی۔ جہاں تعلیم، روزگار، انصاف، مقامی حکومت اور عوامی اعتماد موجود ہو، وہاں انتہاپسندی کی جڑیں خود بخود کمزور پڑ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بہتر طرزِ حکمرانی کی ضرورت پر زور دینا ایک مثبت اور اہم پہلو ہے۔
آج جنگوں کی نوعیت بھی بدل چکی ہے۔ اب صرف توپ اور ٹینک فیصلہ نہیں کرتے بلکہ سائبر جنگ، مصنوعی ذہانت، اطلاعاتی جنگ اور معاشی دباو¿ بھی قومی سلامتی کے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایسے میں جدید تقاضوں کے مطابق دفاعی تیاری ناگزیر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی اور قومی معیشت کو بھی اتنی ہی اہمیت دینا ہوگی، کیونکہ مضبوط معیشت ہی مضبوط دفاع کی بنیاد بنتی ہے۔
پاکستان کو آج سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ قومی یکجہتی ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر ریاست، آئین، قومی سلامتی اور قومی مفادات پر پوری قوم کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔ دشمن ہمیشہ ہماری اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ہم خود تقسیم ہوں گے تو دشمن کو کسی بڑی سازش کی ضرورت نہیں رہے گی۔
افواجِ پاکستان ہماری دفاعی قوت ہیں اور قوم ان کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔ اسی طرح ایک مضبوط جمہوری نظام، آزاد عدلیہ، ذمہ دار میڈیا اور باشعور عوام بھی ریاست کے اتنے ہی اہم ستون ہیں۔ جب یہ تمام ستون اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کو مضبوط کریں گے تو پاکستان نہ صرف محفوظ ہوگا بلکہ ترقی کی نئی منزلیں بھی طے کرے گا۔
پاکستان کی بقا سرحدوں کے دفاع کے ساتھ دلوں کے اتحاد سے وابستہ ہے۔ شہداءکی قربانیاں ہم سے یہی تقاضا کرتی ہیں کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں نہ بدلیں، سیاست کو ریاست پر مقدم نہ کریں اور قومی مفاد کو ہر ذاتی مفاد سے بلند رکھیں۔
یہ وطن لاکھوں قربانیوں کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت فوج کے ساتھ، پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب سپاہی سرحد پر جاگتا ہے تو قوم پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے کردار، اپنی دیانت اور اپنی وحدت سے اس کے حوصلے کو مضبوط کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک محفوظ، مضبوط اور باوقار ریاست بنا سکتا ہے۔
ریاست کی طاقت، قوم کا اتحاد اور پاکستان کا مستقبل
09:27 AM, 9 Jul, 2026