تاریخ ساز جنازہ اور کم ظرف لوگ

09:26 AM, 9 Jul, 2026

 امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ حق پر کون تھا ۔ ایران کے شہید سپریم رہنما آیت اللہ خامینائی کے جنازے میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد افراد شریک ہوئے لیکن کحھ عقل کے اندھوں کو پھر بھی سمجھ نہیں آئی کہ حق پر کون تھا ۔ یہ ایک تاریخ ساز جنازہ تھا اور تاریخ میں کم ہی ایسے جنازے ہوں گے کہ جن میں اس قدر عوام شامل ہوئے ہوں ۔ 6جون2026 کو ہمارا کالم” قحط الرجال کی صورت حال “ شائع ہوا تھا ۔ اس میں جس حد تک کالم میں گنجائش تھی قارئین کو بتایا تھا کہ عصر حاضر میں ہر شعبہ میں قد آور شخصیات کا قحط ہے لیکن قد آور شخصیات کا نہ ہونا اور کم ظرف لوگوں کا منصب قیادت پر فائز ہونا دو مختلف امر ہیں ۔ قد آور شخصیات نہیں ہیں لیکن کم از کم کم ظرف تو نہ ہوں ۔ آپ کسی سے پوچھئے کہ اس وقت اس کرہ ارض پر سب سے طاقت ور ملک کون سا ہے تو ہر کوئی ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر کہہ دے گا کہ امریکہ ۔ اندازہ کریں کہ اسی امریکہ کے صدر اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو بلا شبہ اس وقت دنیا کے طاقت ور ترین انسان ہیں لیکن اس قدر بڑے منصب پر فائز ہونے کے باوجود بھی ان کی ذہنی حالت یہ ہے کہ خامنہ ای صاحب کے جنازے میں شریک لاکھوں لوگوں کے اجتماع کو دیکھ کر شاید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں کہ ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ جس کی کسی ہوش مند بندے سے توقع نہیں کی جا سکتی ۔ ٹرمپ بہادر کہتے ہیں کہ ” خامینائی کے جنازے میں لوگوں کو روتے دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی ۔ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ ایرانی عوام ان سے نفرت کرتے ہوں گے ۔ “ پھر کہا کہ ” شاید یہ نقلی آنسو ہوں ۔ “ اتنے بڑے منصب پر فائز کسی شخصیت سے ایسے ریمارکس کی توقع نہیں ہوتی لیکن اس کے بعد انھوں نے جو کہا تاریخ میں چنگیز خان ، ہلاکو خان اور عصر حاضر میں نیتن یاہو اور نریندر مودی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جن سے جنازوں پر بھی بمباری کے واقعات ہوئے ہیں اور ان سے یہ توقع کی بھی جا سکتی ہے ۔ ٹرمپ نے بھی کہا کہ ” میں چاہتا تو جنازے پر بمباری کر کے ایرانی قیادت کو ختم کر سکتا تھا لیکن اس کے بعد مذاکرات کے لئے کوئی نہ بچتا ۔ “ 
ہمارے معاشرے میں ایک روایت ہے اور اسے ہم آفاقی سچائی بھی کہہ سکتے ہیں کہ انسان کسی کی خوشی سے رہ جائے لیکن غم کے مواقع پر لازمی شریک ہو ۔ کم ظرفی کی انتہا دیکھیں کہ جنگ کے آغاز میں 28 فروری کو میزائل حملے میں ایرانی قیادت کو شہید کر دیا گیا تھا اور ان کی شہادت کے بعد خود ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھیں قوی امید تھی کہ خامینائی کی شہادت کے بعد ایرانی عوام موجودہ رجیم کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ سیانے کہتے ہیں کہ اگر اپنے پاس عقل نہ ہو تو انسان کسی سے پوچھ لیتا ہے اور خامینائی صاحب کی شہادت کے بعد اگر ایرانی عوام موجودہ رجیم کے خلاف باہر نہیں نکلے تھے تو کسی سے پوچھ لیتے تو انھیں پتا حل جاتا کہ ایرانی عوام کا سڑکوں پر نہ نکلنا عوام کا موجودہ رجیم سے محبت کا اظہار ہے ۔اگر کسی کو ایرانی عوام کی اس وقت بھی سمجھ نہیں آئی تھی تو اس کے بعد شہید خامینائی کے فرزند مجتبیٰ خامینائی کی سپریم لیڈر کے منصب پر تقرری کے موقع پر جس طرح لاکھوں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر نکل والہانہ محبت کا اظہار کیا تھا تو اسی وقت سمجھ جانا چاہئے تھا کہ ایرانی عوام موجودہ رجیم سے کس قدر عقیدت رکھتے ہیںلیکن وہ کہتے ہیں کہ انسان کا آنکھوں کا اندھا ہونا اور بات ہے لیکن خدائے پاک کسی کو عقل کا اندھا نہ کرے ۔یہ تو دنیا کے سب سے زیادہ طاقت ور ملک کی قیادت کا حال ہے لیکن اب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا حال بھی دیکھ لیں کہ اس ملک میں سب سے زیادہ مذہبی اقلیتوں کا استحصال کیا جاتا ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری اس ملک کی سیاسی قیادت وہاں کے وزیر اعظم نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے ۔ اپنے ملک میں ریاستی طاقت کے بل پر مخالف مذہبی اقلیتوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے نریندر مودی کتنے بہادر ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامینائی کی آخری رسومات میں اس لئے شریک نہیں ہوئے کہ کہیں ٹرمپ ناراض نہ ہو جائیں ۔ یہ بات ہم نہیں کہہ رہے بلکہ پورا انڈین میڈیا کہہ رہا ہے اور صرف کہہ نہیں رہا بلکہ شدید مذمت بھی کر رہا ہے ۔
تیسری نیتن یاہو کی شکل میں اسرائیلی قیادت ہے جو دور جہالیت کی طرح ایرانی قیادت کو مارنے پر فخر کا اظہار کر رہی ہے لیکن یہ جتنے بھی بڑبولے ہیںیہ سب انتہائی پست قامت ہیں اور ان کے متعلق تاریخ تو بعد میں فیصلہ کرے گی لیکن پوری دنیا کا میڈیا اور خود امریکن کانگریس کے لوگ ایران کی فتح اور امریکہ اور اسرائیل کی شکست کا برملا اظہار کر رہے ہیں ۔ ایران کی فتح اور امریکہ و اسرائیل کی شکست میں اگر کسی کو کوئی شک یا ابہام ہے تو وہ مفاہمت کے نقاط کو پڑھ لے کہ جس میں سوائے ایک بات کے کہ جس میں یورینیم کی افزودگی کی بات کی گئی ہے اور وہ بھی مبہم انداز میں ، اس کے سوا باقی تمام شقیں ایران کی فتح کی گواہی دیتی ہیں ۔ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ حق پر کون تھا ۔

مزیدخبریں