اسرائیل کا غزہ کے بیشتر علاقوں سے انخلا کا اعلان، حماس کے بغیر غزہ کا دعویٰ

02:57 PM, 8 Jul, 2025

یروشلم / غزہ : اسرائیلی وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کے 75 فیصد زیر قبضہ علاقوں سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باقی 25 فیصد علاقے میں جنگ جاری رکھنا اب ضروری نہیں رہا، کیونکہ اس سے اسرائیلی یرغمالیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اگر جنگ بندی طے پا جاتی ہے تو حماس 10 زندہ یرغمالیوں کو رہا کرے گی اور مارے گئے یرغمالیوں میں سے کچھ کی لاشیں بھی واپس کی جائیں گی۔ ان کے بقول، "کل کے بعد غزہ، حماس کے بغیر ہوگا۔"

اسرائیلی میڈیا کے مطابق فریقین کے درمیان مکمل جنگ بندی، حماس کے مستقبل کے کردار، انسانی امداد کی فراہمی اور اسرائیلی فوج کی موجودگی جیسے معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں، لیکن ان نکات پر سیز فائر کے دوران بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہو چکا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ اور مصر کے درمیان واقع اہم سرحدی علاقے فلاڈلفی کوریڈور پر اسرائیلی اثر کو قبول کر لیا ہے۔ یہ علاقہ اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے اور کئی مہینوں سے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

اسرائیل نے رفح میں ایک نیا شہر بنانے کی تجویز بھی دی ہے جہاں غزہ کے شہریوں کو منتقل کیا جا سکے۔ تاہم، اس منصوبے پر حماس یا دیگر فلسطینی گروہوں کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ منصوبہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

مزیدخبریں