مذاکرات کا خط، تحریک کی کال، خفیہ گواہ

09:54 AM, 8 Jul, 2025

اڈیالہ اور لکھپت جیلیں اپنا رنگ دکھانے لگی ہیں۔ دو دو سال سے سزائیں بھگتنے والے قیدیوں کا صبر جواب دے گیا۔ اعصاب چٹخنے لگے ہیں، سیاست نے کیسے کیسے دن دکھائے، عیش و عشرت میں زندگی گزارنے والوں پر زندگی تنگ ہوتی نظر آرہی ہے۔ خان کی دو بہنوں نے اڈیالہ جیل میں بھائی سے ملاقات کے بعد بتایا کہ خان کمزور دکھائی دیئے، کہنے لگے 22 گھنٹے بند رکھتے ہیں دو گھنٹے واک کراتے ہیں۔ پریشان ہیں لیکن انہوں نے 10 محرم الحرام کے بعد تحریک کی کال دے دی ہے۔ ادھر کوٹ لکھپت جیل میں قید شاہ محمود قریشی، ڈاکٹریاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، محمود الرشید اور اعجاز چوہدری نے (جنہیں گلہ ہے کہ پڑے ہیں قید میں کوئی پوچھتا نہیں) جیل سے تیسرا چوتھا خط لکھا ہے کہ بحران حل کرنے کے لیے حکومت سے مذاکرات کیے جائیں۔ جیل سے باہر قیادت نے مذاکرات کی حمایت کی۔ خان نے جو ’’خط کا مضمون بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر‘‘ مذاکرات کی تجویز پر برہمی کا اظہار کیا اور سڑکیں گرم کرنے کی ہدایت کردی۔ مذاکرات ہوئے تھے کیا نتیجہ نکلا تھا کھایا پیا گلاس توڑے ڈھاک کے تین پات، تحریک چلانے کی 19 کالیں ناکام، 20 ویں کال پر وہی عوام کے نہ نکلنے کا مسئلہ درپیش، پارٹی کے اندر باہر لڑائیاں، چیئرمین اور سیکرٹری جنرل میں ’’آپ ہوتے کون ہیں‘‘ جیسے مکالموں کی تکرار، گزشتہ ہفتے پارٹی اجلاس میں شاہد خٹک اور شہریار آفریدی میں ہاتھا پائی کی نوبت، لنکا سے جو نکلا سو باون گز کا، سارے غصے کے تیز ہیں۔ سیکرٹری جنرل کو آج تک کسی نے ہنستے مسکراتے نہیں دیکھا۔ نند بھاوج کی لڑائی بھی چل رہی ہے۔ اڈیالہ جیل میں ملاقاتیں محدود، گزشتہ کئی ماہ سے علیمہ باجی اور سلمان اکرم راجہ خان کی زیارت نہیں کرسکے۔ غالب نے کہا تھا۔ ’’رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو، ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو‘‘ ما شاء اللہ اپنے خان جیسا ہی مزاج پایا تھا۔ زندہ ہوتے تو نقص امن کے الزام میں کوتوال شہر اڈیالہ جیل میں خان کی بیرک کے ساتھ والی کھولی میں قید کردیتے، قسمت سے آمنا سامنا ہوجاتا تو غالب دلی کی کرخنداری زبان میں پوچھتے ’’میاں کیسے ہو‘‘ خان کرخت لہجے میں جواب دیتے ’’شٹ اپ، زبان سنبھال کر بات کرو، جنت ارضی سے نکالا ہوا انسان ہوں میں، سابق وزیر اعظم ہوں، حد ادب پروٹوکول کا خیال رکھو، میاں آج کل باہر ہیں میں اندر ہوں باہر ہوتا تو میاں کو اندر کر کے ان کے کمرے سے اے سی نکلوا دیتا۔ کیا کریں جنرل باجوہ نے یہ دن دکھائے‘‘ غالب اس لب و لہجہ کے عادی نہیں تھے چپکے سے کھولی میں چلے جاتے۔ بیاض نکالتے اور اپنے شعر میں معمولی ترمیم کر کے اظہار برہمی کرتے۔ ’’یوں پکارے ہیں مجھے جیل میں رہنے والے، ادھر آ او ابے او چاک گریباں والے‘‘ غالب تو جیسے تیسے زندگی گزار کر رخصت ہوئے مگر جو موجودہ دور کے ’’غالب‘‘ کے طرفدار نہیں وہ جیلوں میں پڑے سزائیں بھگت رہے ہیں، سیانوں نے کہا تھا اقتدار کے دوران کی گئی غلطیاں اور جرائم عمر بھر پیچھا نہیں چھوڑتے، سسٹم روز بروز مضبوط ہو رہا ہے۔ شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ شامت اعمال عدالتوں سے ضمانت یا رہائی کی کوئی صورت نظر نہیںآ تی، دور نزدیک کی خبریں رکھنے والے بتاتے ہیں کہ جولائی اگست میں جو ہونے جا رہا ہے وہ خان نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔ 9 مئی کے مقدمات میں ’’بڑی سزا‘‘ کا خطرہ دل و دماغ کو مفلوج کیے ہوئے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے خان کی ضمانت اور بریت کی 8 درخواستیں مسترد کرنے کے تفصیلی فیصلے میں انہیں بادی النظر میں جلائو گھیرائو کے واقعات کا سرغنہ قرار دیا ہے۔ مقدمہ کے دوران ’’خفیہ گواہ‘‘ کا بیان اہم ہوگا جس میں انہوں نے بتایا کہ 4 مئی کو چکری، 7 مئی راولپنڈی اور 9 مئی لاہور کے اجلاسوں میں خان کی موجودگی اور مشاورت شامل تھی چکری کے اجلاس میں ’’آدمی ایک ہمارا دم تحریر بھی تھا‘‘ کسی نے پہچانا ہی نہیں۔ خفیہ گواہ کا بیان مقدمہ کو فیصلے تک لے جائے گا۔ اللہ خان پر اپنا رحم فرمائے، برے دن آرہے ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خان پانچ سال جیل میں رہیں گے یہ نہیں بتایا کہ پانچ سال کب سے شروع ہوں گے۔ افواہیں ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آرہیں۔ کسی نے بے پر کی اڑا دی کہ نواز شریف خان سے ملاقات کریں گے اور انہیں جیل سے نکلنے کا رستہ بتائیں گے۔ کیوں؟ ساکت جھیل میں پتھر پھینک کر طلاطم پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف چوہدری نثار و عمران سے ملاقات کر کے 
نوازشریف سے مشاورت کریں گے باسی کڑھی میں ابال مخدوم جاوید ہاشمی اڈیالہ جیل پہنچ گئے تاکہ شاہ محمود قریشی فیملی کے آف لائن ہونے کے بعد خان سے ٹکٹ لے سکیں۔ ادھر گنڈا پور کو اپنی حکومت جانے کے لالے پڑے ہیں۔ دو کشتیوں میں سوار، خان کے طرفدار لیکن ادھر کے بھی فرمانبردار، مشکل کردار کے باعث گرفتار یا وزارت اعلیٰ سے ہٹائے جانے کا فیصلہ نہیں ہوا،تاہم مخصوص نشستوں کے فیصلہ کے بعد خیبر پختونخوا میں اتھل پتھل کا امکان، پی ٹی آئی کے دو چار آزاد ارکان ٹوٹ گئے تو تحریک عدم اعتماد آجائے گی قومی اسمبلی میں 22 ارکان اڑان کے لیے پر تول رہے ہیں پنجاب اسمبلی میں ہلڑ بازی اور گالم گلوچ پر 10 ارکان پر 20 لاکھ 70 ہزار جرمانہ اور  26 ارکان کی رکنیت ختم کرنے کا ریفرنس دائر حکومت مزید مضبوط ہوگی، اللہ حکمرانوں کو سلامت رکھے مگر عوام مہنگائی کے تنور میں کب تک جلتے رہیں گے۔ پیٹرول 9 روپے مہنگا گیس کے بلوں میں اضافہ، جنگ جیت لی ہے تو مہنگائی ختم کر کے عوام کے دل بھی جیت کر دکھائیں، ووٹ اسی صورت ملیں گے خان کی مقبولیت اسی طرح کم ہوگی۔

مزیدخبریں