قومیں زوال پذیر کیسے ہوئیں

09:54 AM, 8 Jul, 2025

دنیا کی خاک پر جب انسانیت نے اجتماعیت کے قالب میںمل کر قوم کی صورت اختیار کی تو اس کے ساتھ ہی ایک ایسا سلسلہ بھی جاری ہوا جسے ہم قوموں کے عروج و زوال کی سائیکل کہہ سکتے ہیں ۔ یہ سائیکل اس قدر اٹل اس قدر بار بار دہرایا گیا اور اتنا عبرتناک ہے کہ انسانی عقل آج بھی اس کے اسباب پر غور کر کے حیرت میں مبتلا ہے ۔دنیا کی عظیم ترین سلطنتیں جو صدیوں تک کائنات کی آنکھوں کا مرکز رہیں آخر پھر دھندلا کیو ںگئیں ؟آخر کیا وجہ ہے کہ جو قومیں کبھی دنیا کی معمار تھیں آج کھنڈرات میں ڈھل چکی ہیں ؟ وہ تہذیبیں جو آسمان سے باتیں کرتی تھیں آج تاریخ کی دھول میں مدفون ہیں ؟ وہ حکومتیں جو براعظموں پر پھیلی تھیں ان کے آثار بھی معدوم ہو چکے ہیں ؟کیا آسمان نے انہیں گرا دیا ؟ یا زمین ان پر تنگ ہو گئی ؟یہ سوال فقط ماضی کی کھوج نہیں بلکہ حال کا کڑا محاسبہ ہے کیونکہ قومیں دفعتاًمٹتی نہیں ، وہ آہستہ آہستہ اخلاقی ، فکری اور روحانی انحطاط سے گزرتی ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر تابناک دور کی بنیاد عدل پر تھی اوران قوموں کے زوال کی کہانی کہیں زیادہ انسان کے اندر سے شروع ہوئی ۔اس بات میں کوئی شک نہیں زوال آسمان سے نہیں اترتے بلکہ اندر سے اگتے ہیں ۔جیسے کسی روح میں خاموشی سے اترتی پثر مردگی ، جیسے خوشبو کا رنگت سے بچھڑ جانا ، جیسے جسم کے خول میں سانس تو موجود ہو مگر زندگی نہ ہو ۔قوموں کا زوال بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے یہ نا گہانی قیامت نہیں ہوتی ،بلکہ آہستہ آہستہ ایک خاموش خودکشی ہوتی ہے ۔ ایسی خود کشی جس میں نا خنجر کی آواز آتی ہے اور نا ہی خون دکھائی دیتا ہے ۔ بس ایک دن تاریخ کا مورخ کہتا ہے یہ قوم تھی ، اب فقط نام ہے ۔ قومیں توپوں ، ٹینکوں اور میزائلوں سے ختم نہیں ہوتی ہیں وہ اس وقت فنا ہونے لگتی ہیں جب ان کے کردار میں دراڑ پر جائے کیونکہ قوموں کی عمارت تلواروں پر نہیں بلکہ کردار پر کھڑی ہوتی ہے ۔جب دیانت صرف خطبوں میں رہ جائے ، جب صداقت لطیفہ بن جائے ، جب غیرت مذاق بن جائے ، جھوٹ ترقی کی سیڑھی بن جائے ، حیا ، وفا ، ایثار اور انصاف جیسے اخلاقی اصول معاشرے سے رخصت ہو نے لگیں تو بظاہر خوشحال قوم بھی اندر سے گلنے لگتی ہے ۔ اخلاقی زوال خاموش قاتل ہے جو قوموں کو اندر سے دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔
جو قوم اپنے اخلاق کی حفاظت نا کرے وہ اپنے دشمن کی ضرورت نہیں رکھتی۔ وہ عدالتیں جنہیں پناہ گاہ ہونا تھا، وہ نیلامی کے بازار بن گئیں ۔ وہ منصف جو حق کے محافظ تھے ، وہ حکم کے غلام بن گئے ، اور وہ قلم جو عدل کے فیصلے لکھتے تھے ،وہ دام کے بدلے گردنیں کٹوانے لگے ۔اندلس سے لے کر بغداد تک جب عدل کمزور ہوا تو دیواریںگرنے لگیں۔ ہر قوم کی قسمت اس کی قیادت سے بندھی ہوتی ہے ، اگر قائد خود نظریہ فراموش ہو ، خود غرض ، نعرہ باز یا محض طاقت کا بھوکا ہو ، تو قوم کی کشتی خود بہ خود بھنور میں جا گرتی ہے ۔ خلافتِ راشدہ سے لے کر سلطنت ِ عثمانیہ تک ، مسلم تاریخ کا جوبھی دور سنہری کہلایا ، اس کی بنیاد عدل پر تھی ۔جہاں انصاف قائم رہا وہاں استحکام بھی رہا لیکن جیسے ہی عدلیہ طاقتور کے زیرِ اثر آئی اور قانون کمزور کے خلاف ہتھیار بنا سلطنت کے ستون لرزنے لگے ۔قائد وہ ہوتا ہے جو فکری سمت دے ، کردار کی بلندی پر کھڑا ہو اور قوم کو ماضی سے جوڑ کر مستقبل کی جانب لے جائے ۔ لیکن جب قیادت کرسی کی بندر بانٹ بن جائے اور رہنمائی اشتعال انگیز نعروں تک محدود ہو تو قوموں کے خواب خاک میں مل جاتے ہیں ۔فکر ، سوال اور تحقیق قوموں کے دماغ میں روشنی کے چراغ جلاتے ہیں جب تک سوال کی آزادی باقی رہے قومیں ابھرتی رہتی ہیں ۔قوموں کا عروج علم ، سوال اور تحقیق سے مشروط ہے ،جب تک شعور زندہ ہو ، قومیں شکست کھا کر بھی ابھر جاتی ہیں یہ تلواروں سے نہیں بلکہ قلموں سے بنتی ہیں ،جب تک سوچتی رہتی ہیں ، وہ زندہ رہتی ہیں لیکن جب سوچ جرم بن جائے اور تحقیق کو مغربی ایجنڈا کہا جائے تو پھر تعلیم بس ایک ڈگری ہوتی ہے شعور کا دروازہ نہیں ۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں قوم کی فکری قبر کھودنا شروع ہو جاتی ہے۔ 
اندلس ، جہاں اذان علم کی صدا تھی، جب وہاں مناظروں نے اجتہاد کو نگل لیا تو مسجدیں ویران ہو گئیں ۔ بغداد ، جو حکمت کا مرکز تھا جب وہاں علمائے حق کی جگہ درباری فتویٰ فروش چھا گئے تو علم خاک ہو گیا ۔ مغلیہ سلطنت ، جس کا پرچم فلک بوس تھا ، جب اس کے اندرونی ایوان سازشوں سے بھر گئے تو تخت خاک پر آن پڑا ۔ یہ سب کچھ صرف گزرا ہوا کل نہیں یہ آج کی صدا بھی ہے ۔ آج ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ انصاف مخصوص طبقات تک محدود ، تعلیم محض کاروبار ، دین جذباتی تقاریر تک محدود اور نوجوان ڈیجیٹل فضا میں گم ۔ ہم نے ماضی کے زوال سے کچھ نا سیکھا ، بلکہ اسے تقدیر سمجھ کر تسلیم کرلیا ۔ لیکن وقت کسی کے لیے نہیں رکتا جو قومیں خود کو نا بدلیں انہیں تاریخ سے خارج کر دیا جاتا ہے ۔ضرورتِ وقت ہے کہ ہم حقیقت سے آنکھ ملانے کا حوصلہ پیدا کریں ، کردار کو نظام سے مقدم جانیں،تعلیم کو شعور سے جوڑیں ، دین کو رسم سے نکال کر روح کی گہرائیوں تک لے جائیں اور اختلاف کو انتشار کے بجائے تنوع کا حسن سمجھیں ۔قومیں معجزوں سے نہیں مسلسل شعور ، عمل ، قربانی ، اور خود احتسابی سے بنتی ہیں ۔ وہی اقوام دوام پاتی ہیں جو اپنی شکست کو تسلیم کر کے اس سے ابھرنا جانتی ہیں ۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے : بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا ، جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے ۔ 

مزیدخبریں