پاکستانی فضائیہ کی برتری ، فرانس کی بھی تصدیق

09:52 AM, 8 Jul, 2025

پاکستان نے جس طرح بھارت کو دھول چٹائی یہ دنیا بھرکے لئے آج بھی بڑی خبر ہے۔ بھارتی جارحیت کے بعد پاکستان کا ردعمل مثالی ٹھہرا۔ رافیل طیارے راکھ کا ڈھیر بنائے گئے تو فرانسیسی کمپنی کو شدید دھچکا پہنچا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنوں میں کمپنی کے شیئرز گر گئے اور پاکستان کی طاقت سب کو نظر آنے لگی۔ 
ان حالات میں فرانسیسی کمپنی نے وضاحتیں پیش کرنا شروع کر دیں اوربھارتی چالوں سے متاثر ہوتے ہوئے ملبہ چین پر ڈالنے کی کوشش شروع کر دی۔ فرانس کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسی نے مئی میں پاک۔بھارت کشیدگی کے دوران رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد فرانسیسی ساختہ طیاروں کی گرتی ہوئی مانگ پر ردعمل دیتے ہوئے چین پر تازہ الزامات عائد کئے ہیں جبکہ چین نے تمام الزامات کو بے بنیاد قراردے کر مسترد کردیا ہے۔ خبررساں ادارے فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق فرانس کی انٹیلی جنس ادارے کی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ چین کے سفارت خانوں میں دفاعی اتاشی کی سربراہی میں رافیل کی فروخت میں کمی لانے اور خصوصاً انڈونیشیا سمیت ان ممالک کو اپنے مؤقف سے قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو فرانسیسی طیارے خریدنے کا معاہدہ کرچکے ہیں، وہ یہ طیارے مزید نہ خریدیں اور چینی طیارے خریدنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رافیل طیاروں اور دیگر دفاعی سازوسامان کی فروخت فرانس کی دفاعی صنعت اور حکومت کی دوسرے ممالک سے تعلقات مضبوط کرنے سمیت بڑا کاروباری شعبہ ہے، ان ممالک میں ایشیا کے کئی ممالک بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کے زیراستعمال تباہ ہونے والے رافیل طیاروں سے متعلق اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے 5 طیارے گرائے ہیں، جن میں سے 3 رافیل تھے جبکہ بھارت نے طیاروں کے نقصانات کا اعتراف کیا تھا لیکن تعداد نہیں بتائی تھی۔فرانس کی فضائیہ کے سربراہ جنرل جیروم بیلانگر نے کہا تھا کہ اس نے بھارت کے تین اقسام کے نقصانات کا مشاہدہ کیا ہے جن میں ایک رافیل، ایک روسی ساختہ سوخوئی اور میراج 2000 شامل ہے۔
فرانسیسی فضائیہ کے سربراہ نے کہا تھا کہ رافیل خریدنے والے تمام ممالک نے اس حوالے سے سوالات پوچھے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی حکام رافیل طیاروں کی شہرت کو پہنچنے والے نقصان کا دفاع کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ فرانسیسی ریسرچرز کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران سوشل میڈیا پر پاکستان کی برتری واضح دکھائی دی۔ فرانس کے فوجی عہدیداروں نے اس حوالے سے الزام عائد کیا ہے کہ رافیل کے حوالے سے آن لائن مہم کو براہ راست چین کی حکومت سے جوڑنے کے حوالے سے ان کے پاس ثبوت ہیں۔ چین نے رافیل طیاروں کے حوالے سے عائد کیے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔بیجنگ میں نیشنل ڈیفنس کی وزارت نے بیان میں کہا کہ مذکورہ دعوے مکمل طور پر بے بنیاد افواہیں اور الزامات ہیں کیونکہ چین دفاعی برآمدات میں ایک ذمہ دارانہ رویہ رکھتا ہے اور علاقائی اور دنیا کے امن و استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق فرانس کی ڈیسالٹ ایوی ایشن نے اب تک 533 رافیل طیارے فروخت کیے ہیں، جن میں مصر، بھارت، قطر، یونان، کروشیا، متحدہ عرب امارات، سربیا اور انڈونیشیا کو فروخت کیے گئے 323 طیارے بھی شامل ہیں۔مزید بتایا گیا کہ انڈونیشیا نے 42 رافیل طیاروں کا آرڈر دے دیا ہے اور مزید طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے۔ 
 فرانسیسی ایجنسی کی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے بھارت کو دھول چٹائی اور اپنی برتری ثابت کر دی۔ رپورٹ میں پانچ طیارے مار گرائے جانے کا تذکرہ ہے جس میں رافیل بھی شامل ہے۔ گو کہ فرانسیسی ایجنسی نے چین پر الزامات بھی عائد کئے ہیں مگر طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق پاکستانی شاہینوں کی پیشہ ورانہ مہارت پر مہر ثبت کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ آئندہ بھی اگر کوئی جارحیت ہوئی تو بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب ملے گا کہ دشمن یاد رکھے گا۔ اس رپورٹ نے پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کو بھی دنیا کے سامنے ایک مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ ٹیکنالوجی میں جتنی بھی جدت ہو پائلٹس کی پیشہ ورانہ مہارت سب کو مات دے سکتی ہے اور پاکستانی شاہینوں نے یہ ثابت کر دیا ہے۔

مزیدخبریں