مذاکرات کا ماحول

09:04 AM, 8 Jan, 2026

 اس میں کوئی شک نہیں کہ مذاکرات کی بات ہو یا کوئی اور اقدام اس میں حکومت وقت کی ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کا ہر گز ہر گز یہ مطلب بھی نہیں کہ فریق مخالف کی کوئی ذمہ داری ہی نہیں۔ فریق مخالف ہر لمحہ مذاکراتی عمل کو بگاڑنے پر تل جائے تو ایسے میں کسی صورت حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہو گا ۔ حکومت پر تو یہ الزام آتا ہے کہ ایک جانب عدالتیں بانی تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ کو 17سترہ سال قید کی سزائیں سناتی ہیں تو دوسری جانب اگر حکومت مذاکرات کاکہتی ہے تو ایسے ماحول میں مذاکرات کیسے ممکن ہیں ۔ عمران خان جب تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے تو وہ اپنی ہر تقریر میں حزب اختلاف پر الزام لگاتے تھے کہ وہ ان سے این آر او مانگتے ہیں تو اب اگر مذاکرات کے لئے ماحول بنانے کے نام پر سزائیں ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو کیا یہ بھی این آر او کی ہی ایک قسم نہیں ۔خیر بات ہو رہی تھی مذاکراتی ماحول کی تو ایک طرف تو بانی پی ٹی آئی مذاکرات کے لئے محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو نامزد کرتے ہیں لیکن دوسری جانب جب حکومت حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت دیتی ہے تو محترمہ علیمہ خان بیان داغ دیتی ہیں کہ جو مذاکرات کی بات کرے گا وہ عمران خان کے ساتھ نہیں ۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو علیمہ خان صاحبہ کے اس بیان کے بعد مذاکراتی ماحول کو ساز گار بنانے کے عمل کو جو چار چاند لگے وہ کسی حکومتی اقدام سے تو ممکن ہی نہیں تھے لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس بیان کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے ایک بیان آتا ہے کہ علیمہ خان صاحبہ نے جو بیان دیا ہے وہ تحریک انصاف کی پالیسی نہیں بلکہ ان کا ذاتی بیان ہے لیکن بات یہاں بھی نہیں رکتی بلکہ چند دن بعد شیخ وقاص اکرم کا بیان آتا ہے کہ تحریک انصاف چوروں اور ڈاکوﺅں سے مذاکرات نہیں کرے گی ۔ اب ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ فرض کر لیں حالانکہ ایسا نہیں ہو گا لیکن فرض کر لیں کہ حکومت تحریک انصاف کی ڈیمانڈ کے عین مطابق مذاکرات کا ماحول بنانے کے لئے بانی پی ٹی آئی کے تمام مقدمات کو ختم کر دیتی ہے اور سزائیں بھی معاف کر دیتی ہے تو اس کے بعد عمران خان کی جانب سے ایک بیان آ جائے کہ میں چوروں اور ڈاکوﺅں سے مذاکرات نہیں کروں گا تو پھر حکومت کیا کرے گی کیونکہ عمران خان کا کوئی پتا چلتا ہے کہ وہ کب کیا بیان دے دیں ۔
اب ماحول کون بگاڑتا ہے اس کی بڑی مختصر تفصیل قارئین کے سامنے رکھتے ہیں اور فیصلہ بھی قارئین پر ہی چھوڑتے ہیں ۔ ایک ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنی ذمہ داری کے تحت وزیر اعظم عمران خان کے سامنے کرپشن کے کچھ ٹھوس دستاویزی ثبوت رکھے جنھیں دیکھ کر بجائے اس کے کہ خان صاحب تحمل سے کام لیتے انھوں نے کہا کہ ” یہ تو میرے اہل خانہ تک پہنچ گئے “ ۔ اس کے بعد انھیںغیر مناسب انداز سے اس منصب سے ہٹا دیا جاتا ہے ۔ چلیں بحث سے بچنے کے لئے عمران خان کی بات ہی مان لیتے ہیں تو اس ڈی جی آئی ایس آئی کو جس طرح ان کے منصب سے ہٹایا گیا تو اس کے بعد بات ختم ہو جانی چاہئے تھی اور ان کی طرف خیر سگالی کا پیغام بھیجتے لیکن ایسا نہیں ہوا اور یہ جو ہر بات پر مذاکرات کا ماحول بنانے کا راگ الاپتے ہیں اور اس پر حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں لیکن اب اصل حقائق کیا ہیں انھیں دیکھتے جائیں۔ نومبر2022میں جنرل باجوہ کی مدت ملازمت ختم اور نئے آرمی چیف کا تقرر ہونا تھا ۔ نئے آرمی چیف کے تقرر کا اختیار وزیر اعظم کو تھا لیکن عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب سے فارغ ہونے کے باوجود بھی نئے آرمی چیف کے تقرر کے لئے پیغام بھیجتے ہیں اور جب ان کی بات کو نہیں سنا جاتا تو پھر کہتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کے علاوہ کسی کو بھی آرمی چیف بنا دو ۔ جب یہ بات بھی نہیں مانی جاتی تو پھر اس تقرر کو رکوانے کے لئے لاہور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کرتے ہیں اور وہاں پر دھرنے کا پروگرام بناتے ہیں لیکن عوام کی قلیل تعداد کے باعث دھرنا نہیں دیا جاتا ۔ 
اس کے بعد کوئی دن ایسا نہیں گذرا ہو گا کہ جب تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل صاحب کے خلاف انتہائی زہریلا پروپیگنڈا نہ کیا گیا ہو اور پھر 9مئی کیا جاتا ہے ۔ 9مئی میں ایک تو وہ سب کچھ ہوتا ہے کہ جو بظاہر ٹی وی سکرینوں پر پوری دنیا دیکھتی ہے کہ کس طرح کور کمانڈر ہاﺅس لاہور اور جی ایچ کیو سمیت 2سو کے قریب فوجی تنصیبات پر حملے کئے جاتے ہیں اور ان میں شہداءکے مجسموں کو بھی توڑا جاتا ہے لیکن یہ سب تو سامنے نظر آ رہا تھا لیکن اس سے بھی زیادہ گھناﺅنا کام اس پورے دن سوشل میڈیا پر ہوتا رہا جس میںآرمی چیف کے خلاف افواج پاکستان میں بغاوت کی کوشش کی گئی ۔ سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل صاحب کے خلاف پروپیگنڈا اب بھی جاری ہے اور اس پر مستزاد کہ خود بانی کی جانب سے ہر چند دن کے وقفہ کے بعد فیلڈ مارشل صاحب کے خلاف ایک انتہائی زہر آلود ٹویٹ کر دیا جاتا ہے تو اگر تو یہ سب کچھ مذاکرات کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے کیا جاتا ہے تو پھر تو واقعی حکومت قصور وار ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھربقول غالب 
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے 
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

مزیدخبریں