پاکستان کی معیشت: بحران سے استحکام تک

09:03 AM, 8 Jan, 2026

پاکستان کی حالیہ معاشی سمت کو محض وقتی ریلیف یا قلیل المدتی بحالی کے طور پر دیکھنا حقیقت کا ادھورا ادراک ہوگا۔ 2023 میں جب معیشت ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار تھی، اس کے بعد دو برس کے اندر مالی استحکام کی بحالی اور 2026 کے لیے پائیدار ترقی کے امکانات کا ابھرنا ایک واضح اصلاحاتی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت کسی اتفاق یا بیرونی خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے پانے والے مشکل مگر ناگزیر فیصلوں، مالی نظم و ضبط اور دیرینہ ساختی کمزوریوں کو تسلیم کر کے ان کے تدارک کی سنجیدہ کوششوں کا حاصل ہے۔
2023 میں زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم، افراطِ زر دو ہندسی سطح پر اور بیرونی ادائیگیوں کا دباو¿ شدید تھا۔ ایسے حالات میں آئی ایم ایف کے ساتھ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ نے فوری ڈیفالٹ کے خطرے کو ٹالا اور معیشت کو سانس لینے کا موقع دیا۔ اپریل 2024 میں اس پروگرام کی کامیاب تکمیل کے بعد پاکستان ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی اور ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی میں داخل ہوا، جس نے اصلاحات کو محض استحکام تک محدود رکھنے کے بجائے طویل مدتی پائیداری سے جوڑ دیا۔
ان پروگراموں کے تحت ٹیکس اصلاحات، توانائی کے نرخوں میں حقیقت پسندی، پبلک فنانشل مینجمنٹ اور گورننس میں بہتری جیسے اقدامات کیے گئے۔ اگرچہ یہ فیصلے سیاسی طور پر مشکل تھے، مگر معاشی اعتبار سے ناگزیر تھے۔ 2025 میں آئی ایم ایف کے اہم جائزوں کی کامیاب تکمیل، خصوصاً دسمبر میں ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کی قسط کا اجرا، عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے واضح پیغام تھا کہ پاکستان 
اصلاحاتی راستے پر قائم ہے۔ اس پالیسی ساکھ کا اثر سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑا، جس کی جھلک آئی ایم ایف منظوریوں سے قبل پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بہتری سے واضح ہوئی۔
میکرو اکنامک استحکام کے نتائج تیزی سے سامنے آئے۔ 2025 میں افراطِ زر کم ہو کر تقریباً چار فیصد تک آ گیا، جو سات برس کی کم ترین سطح ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں استحکام اور سخت مالی ہم آہنگی نے عوامی دباو¿ میں نمایاں کمی کی۔ اسی تناظر میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے دسمبر 2025 میں پالیسی ریٹ کم کر کے دس اعشاریہ پانچ فیصد کر دیا، جس سے کاروباری لاگت میں کمی اور معاشی سرگرمی کو سہارا ملا۔
بیرونی محاذ پر بھی صورتحال میں واضح بہتری آئی۔ دسمبر 2025 تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر اکیس اعشاریہ صفر نو ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ صرف سٹیٹ بینک کے ذخائر دو اعشاریہ نو ارب ڈالر سے بڑھ کر پندرہ اعشاریہ نو ارب ڈالر ہو گئے، جس سے درآمدی کوریج بہتر ہو کر تقریباً تین اعشاریہ دو ماہ تک پہنچ گئی۔ اس سے بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں معیشت کی لچک مضبوط ہوئی اور قلیل المدتی قرضوں پر انحصار کم ہوا۔
استحکام کے بعد حکومت نے ترقی کے نئے شعبوں پر توجہ مرکوز کی۔ کان کنی کا شعبہ، جس میں تقریباً چھ کھرب ڈالر کے معدنی ذخائر موجود ہیں، ایک سٹرٹیجک موقع کے طور پر سامنے آیا۔ 2025 میں ریکوڈک منصوبے میں پیش رفت نے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا۔ صنعت کے تخمینوں کے مطابق کان کنی کا مجموعی قومی پیداوار میں حصہ قریباً دو فیصد تک بڑھ سکتا ہے، جبکہ 2030 تک سالانہ آمدنی چھ سے آٹھ ارب ڈالر تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسی طرح بلیو اکانومی پاکستان کی معاشی تنوع کی حکمتِ عملی کا اہم جزو بن چکی ہے۔ حکومت کی جامع پالیسی کے تحت 2047 تک ماہی گیری، ایکواکلچر، بندرگاہوں اور ساحلی سیاحت کے ذریعے سو ارب ڈالر تک کی معاشی قدر پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ نیشنل فشریز اینڈ ایکواکلچر پالیسی اور نیشنل میری ٹائم پالیسی نے نجی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کی بنیاد رکھی۔
اصلاحات کی ساکھ کا ایک نمایاں مظہر دسمبر 2025 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری تھی۔ تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بڑی نجکاری شفاف اور براہِ راست ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی نیلامی کے ذریعے مکمل ہوئی، جس میں پچھتر فیصد حصص ایک سو پینتیس ارب روپے میں فروخت ہوئے۔ اس اقدام سے حکومت پر مسلسل نقصانات کا بوجھ کم ہوا اور دیگر سرکاری اداروں کی اصلاحات کے لیے واضح مثال قائم ہوئی۔
ڈیجیٹل معیشت بھی ایک روشن پہلو کے طور پر ابھری۔ 2025 میں آئی ٹی برآمدات تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں تقریباً بیس فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ مصنوعی ذہانت کی قومی پالیسی اور ڈیجیٹل سیکٹر روڈ میپ نے تعلیم، صحت اور گورننس میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کیا اور پاکستان کو علاقائی نالج اکانومی میں جگہ دلانے کی بنیاد رکھی۔
مجموعی طور پر پاکستان کی معیشت 2023 کے بحران سے نکل کر 2026 میں ایک نسبتاً مستحکم اور متنوع بنیاد پر کھڑی ہے۔ آئی ایم ایف کی معاونت سے حاصل ہونے والی پالیسی ساکھ، کم افراطِ زر، مضبوط ذخائر اور شعبہ جاتی اصلاحات نے ترقی کے نئے راستے کھول دیئے ہیں۔ اصل امتحان اب اصلاحاتی رفتار کو برقرار رکھنے اور اس استحکام کو وسیع تر عوامی خوشحالی میں بدلنے کا ہے—کیونکہ پائیدار ترقی کا اصل معیار یہی ہوگا۔

مزیدخبریں