جس ملک میں قریباً آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہو وہ حرف و دانش جمہوریت، آمریت،آئینی ترامیم، انسانی حقوق اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کیلئے کہاں فکر مند ہو سکتی ہے۔کہتے ہیں کہ اگر ننھے ناسمجھ بچے کے سامنے زہریلا سانپ بھی چھوڑ دیا جائے تو وہ اسے پکڑ نے کو دوڑتا ہے اسے کیا معلوم کہ اس میں کوئی زہر ہے یا اسے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے اسلئے ہماری غربت کی لکیر سے نیچے آدھے عوام کو کیا علم کہ جمہوریت کیا ہے ؟ آمریت کیا ہے ؟ آئینی ترامیم کیا ہوتی ہیں ؟ یا انسانی حقوق کس بلا کا نام ہے ؟؟وہ تو اپنے اور اپنے بچوں کیلئے دو وقت کبھی ایک وقت کی روٹی کیلئے تگ و دو میں مصروف ہوتا ہے ۔ تعلیم کی کیوجہ سے آ ج تک ہم سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے کالا باغ ڈیم نہیںبناسکے ، پنجاب کہتا ہے بننا چاہئے اگروہاں کے عوام سے پوچھا جائے کہ کیوں بناناچاہئے تو اسکا جواب یہ ہوتا ہے میرے ملک صاحب، میرے میاں صاحب، میرے لیڈر چوہدری صاحب نے کہا ہے وغیرہ وغیرہ، سندھ کہتا ہے کالا باغ ڈیم بنا تو ہماری لاشوں پر بنے گا ، اگر وہاں کے عوام سے سوال کرلیا جائے کیوں ؟؟ تو اسکا جواب یہ ہو تا ہے کہ ہمارا سائیں کہتا ہے ، تعلیم کی کمی کی وجہ کو یہ سیاست دان خوب استعمال کرتے ہیں ذہنی طور پر جاگیر دار تو چاہتے ہی نہیں کہ کسی کو تعلیم حاصل ہو چونکہ عوام نا سمجھ ہو ، جاہل ہو اسی میں انکا فائدہ ہے ، پاکستان میں تحریک آزادی صحافت کے سلسلے میں دیگر بے شمار صحافیوں، مزدوروں، طلبا، کسانوںکے ہمراہ جیل جانے کا شرف حاصل ہوا ، خیرپور جیل میں زیادہ وقت گزارہ ، Bکلاس ہونے کی وجہ سے دو تین خدمت گار بھی حاصل تھے ( وہ بھی جیل کے قیدی ہی ہوتے ہیں ) خیرپور کی مشہور خوشگوار شام کو جب میں اور میرے ساتھ دو دیگر صحافی بھی چائے پینے بیٹھتے تھے تو ہم کرسی پر بیٹھتے تھے اور خدمت گار نیچے زمین پر با ادب بیٹھتے تھے ایک دفعہ میں نے ان سے درخواست کی کہ آپ لوگ بھی اوپر بیٹھو کرسی پر ، انہوںنے دونوںہاتھ جوڑ کر کہا کہ ”سائیں ہم نیچے ہی ٹھیک ہیں، ہمیں کرسیوں پر بیٹھنا نہیں آتا، یہ تو ہم نے یہاںدیکھی ہیں ہمارے گاﺅں میں اگر جاگیر دار کو علم ہوجائے کہ ہم کسی پلنگ ، کرسی پر گھر میں بیٹھتے ہیں تو وہ ہمارے گھر کو مسمار کردیتاہے یا آگ لگا دیتا ہے ، ہمارے ہمراہ خیرپور جیل میں پی پی پی کے ایک نامور رہنما کے صاحبزادے بھی جیل میں تھے ، شام کو ہم بیڈ منٹن کھیلتے تھے ، جس میں سپرنٹنڈنٹ جیل بھی ہوتے تھے ، رات کھانے کے وقت ایک سابق وزیراعلیٰ کے گھر سے کھانا آتا تھے اور بقو ل آج کے لیڈران ”غیر ملکی مارک کی بوتلوںمیںغیر ملکی ”پھکا پانی“ سپرنٹنڈنٹ جیل خود لاکر ہمارے سامنے قید پی پی پی کے رہنما کے قدموں میں رکھتے تھے پی پی پی رہنما اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے قبول کرتے تھے ، یہ کہانی لکھنے کی وجہ یہ بتانا ہے کہ طبقاتی فرق کی انتہا دیکھیں ایسے میں ایماندارانہ انتخابات ، یا اسمبلیوں میں براجمان جاگیر دار طبقے اوراشرافیہ سے کیا توقعات لگائی جاسکتی ہیں،عوام کے غیر تعلیم یافتہ ہونے کوتحریک انصاف نے استعمال کیا اور آج تک کررہے ہیں اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے وہ خرافات بکتے ہیںجس پر وہ کم تعلیم یافتہ ، دنیا ومافیہا سے بے خبر پی ٹی آئی کے چاہنے والے اسکے پیچھے چل پڑتے ہیں، زیادہ تر تباہی غیر ملکی پاسپورٹ ہولڈرزسابقہ پاکستانی امریکہ ، یورپ میں بیٹھ کر مچارہے ہیں، ہم سفارتی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ پاکستان میں تباہی پھیلانے والوںکو اپنے ملک لا کر انکی طبیعت صاف کریں، غیرملکی پاسپورٹ ہولڈرز اپنی جگہ ، یہاںتو وہ ہمارے غیر ممالک میںپاکستانی پاسپورٹ والے بھی ہمارے سفارت کاروںکی دسترس سے باہر ہیں یا انکے دوست ہیں غربت پر بات کی جائے تو انتخابات میں حصہ لینے والا مراعات یافتہ شخص کہتا ہے کہ میرا ووٹر ایک بریانی کی پلیٹ پر مجھے ووٹ دیتا ہے، اس طرح وہ اپنے غریب لوگوں کی ایک وقت کی بھوک ختم کرنے کا اہتمام کر دیتا ہے ایک سروے کے مطابق آپ ذرا غور کیجئے کہ 45 فیصد ایسے ہیں۔جنہیں ہر وقت روٹی کی تشویش ہے۔ دس فیصد ایسے ہیں جنہیں آئندہ 10/ 15 سال تک کسی وقت کی روٹی کی بھی فکر نہیں ہے۔ 25 فیصد ایسے ہیں جنہیں پانچ سال تک روٹی کی کچھ امید ہے۔ 20 فیصد کو مڈل کلاس جان لیں کہ وہ محنت کر رہے ہیں اور ایک ہفتے کی روٹی کیلئے مطمئن ہو جاتے ہیں۔وہ طاقتور پاکستانی جو حالات بدلنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور جنکی یہ ذمہ داری بھی ہے ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ ہمارے حکمران اونچی ہوا میںاڑتے ہیں۔ اس زمین پر اتر کے زمینی حقائق کا اعتراف نہیں کرتے۔حکمرانوں کی ترجیحات منطق اور تاریخ سے بہت دور رہتی ہیں۔منطق اور تاریخ کے فیصلے نہ تو کسی پرچی پر ہوتے ہیں نہ کسی چائے پانی سے اور نہ ہی کسی آئینی ترمیم سے۔ صدیوں سے ان کا اپنا ایک راستہ ہے۔اپنا ایک معیار ہے۔ اب کئی سال سے سوشل میڈیا کی جو یلغار ہے۔ اس میں بھی منطق اور تاریخ کی کسوٹی وہی ہے۔ وہ حالات و واقعات، پالیسیوں، اقدامات کو اپنے اسی معیار سے دیکھتے ہیں۔ اسی لیے منطقی اور تاریخی نتیجے اسی طرح برآمد ہو رہے ہیں۔جیسے صدیوں سے ہو رہے تھے۔ یہ جو عالمی بینک پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے 47 فیصد کا ذکر کررہا ہے ۔ یہ اس کے اپنے طے شدہ پیمانوں کی بنیاد پر ہے اگر ملک کے اندرونی علاقوںمیں ایک غیر جانبدار شخص کوئی شخص دورہ کرلے تو اسے ایسی ہوشربا کہانیوں سے واسطہ پڑے گا کہ ہوش ٹھکانے لگ جائینگے ۔ غربت انسان سے، قوموں سے کیسے کیسے احساسات چھین لیتی ہے۔غربت تعلیم، صحت،
زراعت، ٹیکنالوجی، تجارت، اخلاقیات سب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ عالمی بینک 2026 کیلئے پاکستان کے 45 فیصد کو غربت کی لکیر سے نیچے دیکھ رہا ہے اور پورا سال 40 فیصد اوسط رہنے کی توقع ظاہر کر رہا ہے۔ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ غربت کو اچھی تعلیمی پالیسیوں اور بہتر صحت کے اقدامات سے کم کیا جا سکتا ہے۔ یونیسکو کہتا ہے کہ پاکستان کو4 اعشاریہ 6فیصد تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے مگرہم 1.87فیصد خرچ کر رہے ہیں؟ اڑھائی کروڑ سے زیادہ پاکستانی بچے سکول نہیں جا پا رہے۔ انسانی وسائل کی بہبود میں 189 ممالک میںہم 150 ویں نمبر پر ہیں۔صحت میں 193 ملکوں میں 168 ویں نمبر پر ہیں۔ عالمی اداروں کے مطابق بلوچستان جہاں معدنی دولت سب سے زیادہ ہے۔وہ پاکستان کا سب سے غریب صوبہ ہے 70فیصدقریب غربت کی لکیر سے نیچے ہیں اور یہ زیادہ تر دیہی علاقوں میں۔ سندھ میں 40 فیصد غربت ہے اور بعض اضلاع میں 70 فیصد تک۔ پنجاب میں جنوبی اضلاع میں 48 فیصد غربت ہے۔ شمالی اضلاع میںحالات بہتر ہیں اور غربت صرف سات فیصد۔ کے پی کے میں غربت 48 فیصد آزاد جموں کشمیر میں 25 فیصد گلگت بلتستان میں 34 فیصد پھر بھی وہ کہتے ہیںہم ترقی کررہے ہیں ۔ یہ ہمارا مسئلہ ہے کہ غربت سے لڑیںیا ہم پر مسلط کی جانے والی دہشت گردی سے ۔
پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ سب اچھا ہے
09:02 AM, 8 Jan, 2026