نیب کے ہاتھوں غیر قانونی مائننگ کا پردہ فاش، ٹھیکیدار کی جائیدادیں ضبط کرنے کی تیاری

12:17 AM, 8 Jan, 2026

اسلام آباد: غیر قانونی مائننگ کے الزامات میں گرفتار ٹھیکیدار کو احتساب عدالت کے حکم پر جسمانی ریمانڈ کے لیے نیب کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ملزم کو جج حامد مغل کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں نیب کے سینئر پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر بھی موجود تھے۔

نیب کے پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اپنے شریک کاروں کے ساتھ مل کر کاکول کے گزارہ جنگلات میں غیر قانونی طور پر مائننگ کی۔ تحقیقات کے مطابق، ملزم نے 2010 سے 2025 کے دوران ایک لاکھ 41 ہزار 869 میٹرک ٹن فاسفیٹ نکالا، جس سے قومی خزانے کو 643.7 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ پراسیکوٹر نے یہ بھی بتایا کہ ملزم کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

تفتیش کے دوران ملزم کی ملکیت میں ایبٹ آباد میں 8 پلاٹس اور 3 قیمتی گاڑیاں ہونے کا انکشاف ہوا۔ اس کے علاوہ، ملزم نے 12 مرلے کے پلاٹ اور مزید دو بینک اکاؤنٹس کا بھی اعتراف کیا ہے۔ نیب نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت ملزم کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

تفتیش کے لیے مزید وقت درکار ہونے پر نیب نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کی، جو عدالت نے منظور کر لی۔ اب نیب حکام ملزم سے مزید تحقیقات کرنے کے بعد اس کیس کی مکمل تفصیلات سامنے لائیں گے۔
 

مزیدخبریں