بھارت میں ہندو مذہب/ سناتھن دھرم کو خطرے کی بات کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں بھارت میں مذہبی انتہاپسندی کے واقعات سال 2014 سے بھارتی جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے سے شدت اختیار کر گئے ہیں۔ بھارت کے آئین کے مطابق وہ ایک سیکولر ملک ہے جس میں ہندو، مسلمان، عیسائی، سکھ، بدھ، جین تمام مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے آباد ہیں۔ بھارتی جنتا پارٹی نے اقتدار سنبھالتے ہی ہندو مسلمان کا ایک ایسا نعرہ لگایا کہ آج بھارت کی اپنی آواز اسی نعرے کی گونج میں گم سی گئی ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی کا سیاست میں مذہبی کارڈ کے استعمال، انتخابات جیتنے کے لئے، حکومتی ناکامیوں پر سے توجہ ہٹانے کیلئے استعمال ہونے والا یہ ہندو مسلم ، ہندو عیسائی کارڈ اب اپنی مدت مکمل کر کے بھارت کے لئے ایک بدنما داغ بن چکا ہے۔ جس کے دور رست نتائج بھارتی عوام کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔
آجکل سوشل میڈیا دیکھیں یا بھارتی ٹی وی چینلز سب پر ایک نام بھاری ہے محمد دیپک۔ نام انتہائی خوبصورت ہے ہندو مسلمان ایکتا کا مظہر ہے مگر اسے ہندو انتہا پسند/ ہندوتوا گروپس بالکل پسند نہیں کر رہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ 26 جنوری 2026 کو بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے شہر کوٹھدوار کے مصروف بازار میں ہندو انتہاپسند تنظیم بجرنگ دل کے غنڈے وکیل احمد نامی ایک مسلمان بزرگ کی دکان میں پہنچے جس کی دکان کا نام بابا تھا۔ بجرنگ دل کے غنڈوں نے مسلمان دکاندار پر زور ڈالا کہ وہ اپنی دکان کا نام تبدیل کر لے کیونکہ یہ نام بابا ہندو مذہب کا نام ہے۔ مسلمان دکاندار نے ان سے کوئی بحث و مباحثہ نہیں کیا کیونکہ کم عقلوں سے بحث کا فائدہ نہیں ہوتا۔ ہندتوا کے ان ٹھیکیداروں نے کہا بابا، گرو اور سنتھ ہمارے ہندو مذہب کے نام ہیں جنہیں اور کوئی استعمال نہیں کر سکتا۔ بجرنگ دل کے غنڈوں کا یک طرفہ فرمان ابھی جاری تھا کہ اسی دوران ایک اونچا لمبا گھبرو جوان دکان میں داخل ہوا اور بجرنگ دل کے لوگوں کو مسلمان دکاندار کو ہراساں کرنے سے روکا جس پر بجرنگ دل کے غنڈوں نے اپنا روایتی طریقہ واردات اپناتے ہوئے اس نوجوان کی شناخت پوچھی جس پر اس نے اپنا نام محمد دیپک بتایا۔ نام سنتے ہی ہندو مذہب کے رکھوالوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ بولتی بند ہو گئی اور بدمعاشی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد دکان کے باہر محمد دیپک اور بجرنگ دل کے غنڈوں کی بحث و تکرار اور ہاتھا پائی ہوتی رہی۔
اس واقعے کی دو منٹ کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔ بھارت کی نوجوان نسل اپنا نام محمد دیپک، دیپک محمد، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی تمام نام بدل کر محمد دیپک کو فالو کرنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز محمد دیپک کی بہادری سے متاثر ہو کر مذہبی ہم آہنگی پر مشتمل ویڈیوز اور پیغامات بنا رہے ہیں۔ بھارت کے مختلف شہروں میں دیپک کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ دنیا بھر سے لوگ اس پہلوان دیپک کمار کو ہندتوا کا سچا ماننے والے کا لقب دے رہے ہیں۔
عوامی رائے کے پیش نظر ہندتوا کے ٹھیکیدار پریشان ہیں کیونکہ ان کی روزی روٹی مذہبی منافرت پھیلانے سے چلتی تھی مگر اب ایک محمد دیپک کا نام بھی ان سے ہضم نہیں ہو رہا۔ انکی تمام تر سیاست، بدمعاشی، دھونس، غنڈہ گردی ایک نام پر آ کر رک گئی یے۔ گویا یہ اتنا کمزور نظریہ تھا کہ ایک نام سے آگے نہیں بڑھ پا رہا۔
بازار کے واقعے کے بعد بجرنگ دل نے شرمندگی سے بچنے کیلئے ایک اور احمقانہ اقدام اٹھایا اور محمد دیپک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ان غنڈوں نے محمد دیپک کی ماں اور بیوی کو بھی ڈرایا دھمکایا اور ہراساں کیا۔ محمد دیپک سوشل میڈیا پر کئی مرتبہ آ کر وضاحت دے چکا یے کہ وہ مذہب کی بجائے انسانیت کے لئے کھڑا ہوا تھا جس کے لئے ہمت اسے اپنے بھگوان سے ملی تھی۔
بی جے پی اور ہندو انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس کے گٹھ جوڑ والی سرکار میں ایسی اعلیٰ مثال کے لئے جگہ نہیں ہے۔ پولیس نے محمد دیپک اور اس کے دوست کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اور اس حوالے سے عملی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔
ہندو انتہا پسند تنظیموں نے بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے نام پر پورے ملک میں اودھم مچا رکھا ہے۔ کئی واقعات میں خونی کھیل بھی کھیلا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو ہندو مسلم فساد کے نام پر جان سے مارنے کے واقعات بھی روزانہ بھارت میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کا معاشی قتل عام اور انکا معاشرے میں بائیکاٹ روز کا معمول بن چکا ہے۔ جس مذہبی سیاست کو بھارتی سرکار اپنی اہم پالیسی سمجھتی ہے وہ انکو ناموں تک لے آئی ہے۔ مذاہب کی تعلیمات امن کی بات کرتی ہیں مگر افسوس بی جے پی اور آر ایس ایس کا مذہبی کارڈ اس نقطے تک نہیں پہنچ سکا۔
بھارت میں ہندو انتہاپسند تنظیموں میں ہندو مذہب برائے نام ہے کیونکہ یہ محمد دیپک، دیپک محمد یا دیپک کمار کے نام کے پیچھے کی سوچ / گتھی سلجھانے میں ناکام ہیں۔ ایسے لوگ ہندو مذہب کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں۔ جو ایک نام سے آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ مسلمان نام کا خوف یا ہندو نام کا خوف یا پھر دونوں کا مشترکہ خوف ہندوتوا گروپس ہندو مسلمان تقسیم کی غلطی پر غلطی دہرا رہے ہیں۔ اگر کوئی سیانا ان بے لگام تنظیموں کو دیکھ رہا ہوتا تو آج بھارت میں ہندو مذہب کی حالت اتنی خراب نہ ہوتی۔
مذہب برائے نام
09:06 AM, 8 Feb, 2026