ہمیں یادہے بچپن میں ہم گاؤں سے کچھ دورایک گھرسے دودھ لانے جایاکرتے تھے۔اب توگاؤں کے ساتھ شہروں میں بھی لوگ بھینسیں،گائے اوربکریاں رکھنے وپالنے لگے ہیں لیکن اس وقت شہراورگاؤں میں گنتی کے چند لوگ ہی مال مویشی رکھاکرتے تھے۔گاؤں سے دورپہاڑوں،بیابانوں اورصحراؤں کی طرف جولوگ مستقل آبادہوتے یاوہ خانہ بدوش جوموسم کے ساتھ ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں وہ مقامی آبادی اورلوگوں کی ضرورت کے مطابق اتنی بھینسیں،گائے اوربکریاں وغیرہ پالتے رہتے تھے کہ پھران کا دودھ، مکھن اورگھی بیچنے کیلئے گاؤں میں ان کے ٹھیکے ہوتے۔ ایسے ہی جوزگاؤں سے کچھ دور کیری نامی جگہ میں ایک مال مویشی والے سے ہمارا بھی دودھ کا ٹھیکہ لگا ہوا تھا۔ اکثر وہ خودصبح سویرے ہمارے گھرتک دودھ پہنچایا کرتے تھے لیکن کبھی کبھاران کی بیماری،غمی خوشی یاکسی اورمجبوری کے موقع پردودھ لانے کے لئے ہمیں بھی جانا پڑتا تھا۔ ہمارے ٹھیکے والے گھرسمیت اس سائیڈپراس وقت جتنے گھر آباد تھے ان سب نے مال مویشیوں کی رکھوالی وچوکیداری کیلئے بڑے بڑے کتے پال رکھے تھے ۔ان کتوں کے ڈروخوف کی وجہ سے آسانی کے ساتھ ہم کبھی اس طرف نہ جاتے لیکن جب مجبوری کی انتہاء ہوتی توپھرمرتے کیانہ کرتے کے مصداق ڈروخوف کے سائے میں ہم بوجھل قدموں اوربے قراردل کے ساتھ اس گھرکارخ کرتے۔اکثر وہ کتے زنجیروں کے ساتھ بندھے ہوئے ہوتے تھے لیکن کبھی کبھارکوئی کتابغیرزنجیرکے استقبال کے لئے تیارکھڑابھی ہوتا۔ایک بات جوہم نے باربارنوٹ کی وہ یہ کہ جب بھی ہم ان گھروں کے آگے سے گزرتے وہ کتے خاموشی سے ہمیں دیکھتے لیکن جونہی ہم تھوڑے آگے جاتے تو پیچھے سے وہ ہپ ہپ شروع کرکے زنجیروں کودانتوں سے کریدنے لگتے ۔کتوں کی اس حرکت کاذکرہم نے گاؤں کے کچھ بڑوں اوربزرگوں کے سامنے کیا تووہ کہنے لگے کہ بچ کے رہنا کتے کی خاصیت ہی یہ ہے کہ یہ پیٹھ پیچھے وارکرتاہے۔سامنے سے آکرحملہ کرنااس کی عادت نہیں۔اسلام آبادامام بارگاہ میں ایک ایسے وقت میں جب لوگ قبلہ رخ ہوکراللہ کی بارگاہ میں آگے جاچکے تھے پیچھے سے ان پرظالموں کاواردیکھ کرہمیں اپنے گاؤں کے بڑوں اوربزرگوں کی وہ کتے کی خاصیت والی بات یادآنے لگی ہے۔جن کاکوئی دین مذہب نہیں ہوتا اور جو خود انسان نہیں ہوتے یہ پھرکتے ہی تو ہوئے۔ عبادت گاہوں اوردرسگاہوں کووہی لوگ نشانہ بناتے ہیں جن میں سامنے سے آنے کی جرات اورہمت نہیں ہوتی۔اسلام آبادترلائی کے امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے جن میںتین درجن کے قریب بے گناہ لوگ شہید ہوئے نے پوری قوم کودکھی بہت دکھی کردیاہے۔یہ سانحہ اس بات کاثبوت ہے کہ بزدل دشمن میدان میں مقابلہ کرنے کی ہمت اورجرات نہ رکھتے ہوئے اب معصوم لوگوں کی جانیں لینے کے درپے ہوچکاہے۔قبائلی علاقوں،بلوچستان اوراب اسلام آبادمیں معصوم لوگوں کونشانہ بنانایہ صرف بزدلی نہیں بلکہ بہت بڑی بے غیرتی بھی ہے۔ایساکام اورظلم توجنگل میں رہنے والے درندے بھی نہیں کرتے۔معصوم بچوں، خواتین، بزرگوں اورعبادت میں مشغول نمازیوں پروارکرنے والوں کوانسان کہنا اور سمجھنابھی انسانیت کی توہین ہے۔ رب نے قرآن میں ایک انسان کے قتل کوپوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ اب خود سوچیں جوشمالی وجنوبی وزیرستان سے بلوچستان اور اسلام آبادتک درجنوں نہیں سینکڑوں انسانوں کوآگ وخون میں نہلا کر شہید کریں وہ انسان اورمسلمان کیسے ہوسکتے ہیں۔؟ عبادت گاہوں اوردرسگاہوں میں ایسی حرکت تودرندے بھی نہیں کرتے جو ظلم انسانیت کا لبادہ اوڑھے ان شیطانوں نے کیا۔ اسلام آبادمیں رونما ہونے والایہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ یہ وہ قومی سانحہ ہے جس نے پوری قوم کوخون کے آنسو رولا دیا ہے۔ وہ جگہ جہاں کچھ دیرپہلے رب اوربندوں کے درمیاں رازونیاز،بخشش اورنیک کوشش کی باتیں ہورہی تھیں وہاں بکھرے انسانی اعضاء اورہرطرف خون ہی خون دیکھ کرواللہ کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔ وہ معصوم بچے جواپنے باپ داداکی انگلیاں پکڑکرجمعہ پڑھنے گئے تھے وہ گھرواپس جانے کے بجائے سیدھاجنت چلے گئے۔جمعہ پڑھنے کے لئے جانے والے جوانوں، بزرگوں اوربچوں کی واپسی کیلئے پھر مائیں، بہنیں،بیٹیاں اوربیویاں راہیں دیکھ کر ایک ایک سیکنڈگنتی ہیں۔سوچتے ہیں ترلائی امام بارگاہ میں جان رب کے سپردکرنے والے جب گھروں کوواپس نہیں گئے ہوں گے توان کی ماؤں، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں پر کیا گزری ہو گی۔؟ گھروں سے صحیح سلامت امام بارگاہ جانے والوں کی جب ٹکڑوں میں نعشیں گھروں کو پہنچی ہوں گی تواس وقت ان گھروں کا کیا منظروعالم ہوگا۔؟عام لوگوں کے لئے تویہ ایک سانحہ ہے لیکن جن کے اپنے اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بچھڑگئے ہیں ان کے لئے یہ صرف سانحہ نہیں بلکہ وہ قیامت ہے جوانہیں نہ اب جینے دے گی اورنہ مرنے۔ہنستے مسکراتے اورجیتے جاگتے انسانوں کے جنازے جب اس طرح اٹھتے ہیں توپھرپیچھے زندہ رہنے والوں کے لئے جینے اورمرنے کے پیمانے بے معنی ہوکررہ جاتے ہیں۔ جن ظالموں اوردندوں نے یہ ظلم کیاان کاتعلق چاہے جس بھی قوم قبیلے سے ہوان کوفوری طور پر کیفر کردار تک پہنچاناہوگا تاکہ کل کوکوئی اوردرندہ اس طرح معصوم اورنہتے لوگوں پرہاتھ اٹھانے کی جرات نہ کرسکے۔ہماری عبادت گاہیں بھی اگرمحفوظ نہیں رہیں گی توپھراس ملک میں امن کیسے قائم ہوگا،امن کے قیام کے لئے ہمیں اپنی عبادت گاہوں کوہرطرح سے محفوظ بناناہوگاتاکہ لوگ آرام وسکون کے ساتھ رب کی عبادت کرسکیں۔
سجدے میں گرتالہو
09:05 AM, 8 Feb, 2026