دل دکھی ہے،بوجھل ہے،پریشان ہے اور غصہ بھی ۔سوچا تھا کہ لاہو رمیں پچیس سال بعد منائے جانے والے بسنت تہوار اور رنگ رنگیلے فیسٹیول پر کچھ لکھوں گا۔ پچیس سال پہلے کا اپنا آپ یاد کروں گا۔پنجاب یونیورسٹی کے دنوں میںکلاس فیلوز اور سینئرزکے ساتھ اندرون لاہور بابا امجد کی چھت پرمنائی جانے والی بسنت کا احوال لکھوں گا۔ منٹو کے گھر بسنت کی دعوت پرکچھ لکھوں گا۔’’جین زی‘‘ کو بتاؤں گا کہ جن بومرزکا آپ مذاق اڑاتے ہیں جن کو کچھ سمجھتے نہیں آج بومرز کے ساتھ چھتوں پر چڑھ کر انہی سے پتنگوں کو ’’کنی ‘‘ دینا ’’تناویں ‘‘ ڈالنا اور گڈی اڑانا سیکھ رہے ہیں؟ لیکن دل بوجھل ہے ،پریشان ہے اور غصہ بھی!!۔
دکھ اس بات کا نہیں کہ میں پچیس سال پہلے کی بسنت پر کچھ لکھ نہیں پایا بلکہ دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارا دشمن متحد ہے ،ہمارا دشمن ایک ہے لیکن ہم تقسیم ہیں اپنی اپنی سیاسی سوچ کے غلام بنے ٹکڑیوں میں بٹے پڑے ہیں ۔اسلام آباد میں تین ماہ میں یہ دوسرابڑا خود کش دھماکہ ہے ۔دونوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ پہلے دھماکے کے وقت بھی ایک غیر ملکی سربراہ پاکستان کے دورے پر اسلام آباد میں موجود تھے اور جمعہ کے روز جب دہشتگردی کا واقعہ ہوا تو ازبکستان کے صدر اسلام آباد میں موجود تھے۔دشمن یہ طے کرچکا ہے اور بہت پہلے سے طے کرچکا ہے کہ پاکستان کو ترقی سے دور رکھنا ہے۔پاکستان کو خوش ہونے سے دور رکھنا ہے ۔پاکستان کو نارمل زندگی سے دوررکھنا ہے ۔ہمارے ملک کو کھیلوں سے دور رکھنا ہے۔چن چن کر دنوں کا انتخاب کرنا ہے ۔چن چن کر جگہوں کا انتخاب کرنا ہے۔مواقع کا انتخاب کرنا ہے۔ہمیں مصروف رکھنا ہے ۔دشمن طے کرچکا ہے لیکن ہم یہ طے نہیں کرپارہے۔
ہم اس تقسیم میں تقسیم در تقسیم ہیں کہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو مارنے والے ہیںکون؟ کسی کے نزدیک یہ ناراض لوگ ہیں۔ کسی کے نزدیک یہ محروم لوگ ہیں ،کسی کے نزدیک یہ اپنے ہی لوگ ہیں ۔کسی کے نزدیک ان سے بات کرنی بہت ضروری ہے ،کسی کے نزدیک ان سے ڈرتے رہنا ضروری ہے اور کسی کے نزدیک ان کو بھتہ دے کر اپنا کام چلاتے رہنا ضروری ہے۔کیا ہمیں اب ایک لاکھ شہدا کی قربانیاں دے کر بھی یہ طے نہیں کرلیناچاہئے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ کیا ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ا ن سے نمٹنے کا ایک طریقہ طے کرکے اس راستے پر ایک جُٹ نہیں ہوجانا چاہئے؟ ۔
اس ہفتے کا آغاز بلوچستان میںبڑے پیمانے پر حملوں سے ہوا اور اختتام اسلام آباد میں خود کش دھماکے سے ہوا۔کیا امام بارگاہ میں جمعہ کی نماز کے لیے جانے والے اس خود کش حملہ آور کے بارود کا نشانہ بننے کے لیے عزم باندھ کرگئے تھے؟ کتنے تھے جو اپنے کاروبار سے اٹھ کر نماز کے لیے گئے ہوں گے لیکن واپس آکر کام پر بیٹھنا نصیب نہ ہوا۔ہم کیا قوم بن گئے ہیں کہ لاہور میں بسنت کی اس لیے مخالفت کی جاتی رہی کہ اس کا اعلان مسلم لیگ ن نے کیا ہے اور پھر جیسے ہی اسلام آباد میں دشمن نے وار کیا تو یہ عناصر لٹھ لے کر پنجاب حکومت پر چڑھ دوڑے کہ اسلام آباد میں لاشیں ہیں تولاہور میں کوئی کیسے پتنگ اڑا سکتا ہے؟یہ غصہ جائز ہوسکتا ہے لیکن اس طریقے سے تو نہیں کہ پتنگ اڑاتی وزرا کی تصویریں اسلام آباد سانحہ کے ساتھ کلب کرکے موازنہ کرنا شروع کردیا جائے؟پنجاب حکومت نے مشکل وقت میں بہترین فیصلہ کیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازنے ایک بار پھر فرنٹ سے لیڈ کیا ۔انہوں نے کوئی بہانہ نہیں تراشا۔انہوں نے اپنی تمام ترمصروفیات منسوخ کردیں ۔ کئی ہفتوں سے لاہو رکے لبرٹی چوک پر ثقافتی پروگرام کی تیاری کی ،صرف چند گھنٹے پہلے اس کو منسوخ کرنا آسان نہیں تھا لیکن یہ مشکل کام مریم نواز نے کردیا تاکہ ملک میں یکجہتی کا پیغام جائے ۔ اتحاد کا پیغام جائے ۔اتفاق کا پیغام جائے۔ سانحہ کا نشانہ بننے والے کسی کے اہلخانہ کی دل آزاری نہ ہو۔
اگر ہمارا دشمن متحد ہے تو ہم تقسیم کیوں ہیں؟کیا ہمارے شہدا کا خون اتنا سستا ہے کہ کوئی بھی’’ برین واشڈ‘‘جاہل اٹھ کر اپنے آپ کو بم باندھ کر آئے گا اور ایک ہی وار میں تیس چال لوگوں کی جان لے کر چلا جائے گا؟ کیا ہمارے مسلح افواج کے شہیدو ں کے لاشے اتنے ہلکے ہیں کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی پراکیسز یہ لاشیں ہمارے گھروں میں بھیجتے رہیں گے؟ کیوں نہ ان کی لاشیں ان کے گھروں کو بھیجے جانے پر اتفاق کرلیا جائے؟ہم ایک ملک ہیں ۔پچیس کروڑ لوگ ہیں۔امریکا دنیا کی سپر پاور کیوں ہے؟ وہاں ایک نائن الیون ہوا اور وہ ذمہ داروں کو تلاش کرتا ہمارے پڑوس میں آگیا اور پورا ملک خاک میں بدل دیا ْ۔اس دوران امریکا میں کئی حکومتیں بدلیں ۔کئی صدور آئے ۔حکومت کرنے والی پارٹیاں بدلیں۔ لیکن ہم نے کسی بھی سیاسی پارٹی کی حکومت کو نائن الیون کے ذمہ داروں کی حمایت یا ان پر رحم کھاتے دیکھا ؟ کیا کسی نے ان کو ناراض، بھٹکے ہوئے یا محروم کہتے ہوئے کبھی سنا؟آپ امریکا کی جنگوں کی پالیسیوں کو درست غلط جو چاہیں کہیں لیکن انہوں نے جو فیصلہ کیا ہر حکومت نے اس پالیسی کو آگے سے آگے بڑھایا اور اپنا ملک محفوظ کرلیا۔آج پچیس سال ہوگئے دوبارہ امریکا میں ویسی دہشت گردی کرنے کی ہمت کسی نے نہیں کی۔دہشت گردی کا سارا گند ہمارے پڑوس اور اسی خطے میں جمع ہوگیا اور ہم پر اس گندگی کی بدبومسلط کردی گئی لیکن کیا ہم اس گندگی کے ساتھ اسی طرح گزارا کرنا سیکھ جائیں؟۔
قومیں ملکی مفاد میں خود غرضی اور انتہا کی خود غرضی سے بنتی ہیں ۔اسی خود غرضی اور انتہا کی خود غرضی سے مضبوط ہوتی ہیں ۔ملکوں کے تعلقات اور خارجہ پالیسیاں صرف اور صرف قومی مفاد کے گرد گھومتی ہیں ۔قوموں کے لیے سب سے پہلے اپنا وطن ہوتا ہے ۔وطن رہے گاتو قوم رہے گی ۔قوم کہلائے گی ۔جو ا س وطن کا دشمن وہ اس قوم کادشمن ۔معیار اور پیمانہ سادہ بھی ہے اور طے شدہ بھی کہ جو اس ملک کا نہیں وہ اس قوم کا نہیں پھر ہم کیوں ایسے عناصر سے کوئی ہمدردی رکھیں جو ہمارے وطن میں دہشت گردی کرتے ہیں۔جو ہمارے وطن کو کمزورکرنے میں لگے ہوئے ہیں۔جو ہمارے وطن کو غیر محفوظ بنانے میں جُتے ہوئے ہیں تاکہ یہاں کوئی سرما یہ کار نہ آئے ۔یہاں ترقی نہ آئے یہاں امن نہ آئے اور یہاں کبھی سکون نہ آئے۔ کوئی یہاں کسی قوم کو ا سکی زبان یا رہن سہن کی وجہ سے برا یا دہشت گرد نہیں کہتا لیکن دہشت گردوں کو پناہ دینے اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کی سوچ تباہ کن ہے۔ دہشت گردوں سے پہلے ان کے ہمدردوں اور سہولت کاروں کو انجام تک پہنچانا ضروری ہے اگر سہولت کار اس معاشرے میں موجود رہیں گے تو دہشت گرد کبھی کمزور نہیں ہوں گے ۔دہشت گرد اور ہمارے دشمن فیصلہ کرچکے ہیں کہ پاکستان کو مضبوط نہیں ہونے دینا ۔پاکستان کو ترقی نہیں کرنے دینی ۔پاکستان کو پرامن نہیں رہنے دینا ۔جب ہمارے دشمن یہ سب فیصلے پوری شدت اور سوچ سمجھ کے ساتھ کرچکے ہیں تو کیا ہم اتنے گئے گزرے ہوگئے ہیں کہ ہم اپنے لیے ،اپنے وطن کے لیے کوئی ایسا فیصلہ نہ کرسکیں جو ان دہشت گردوں کو پیغام دے کہ اگر کوئی پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے اس طرف کا رخ کرے گا تو اس کا سامنا مسجد میں نماز پڑھتے چند نہتے لوگو ں سے نہیں بلکہ پوری قوم اور پچیس کروڑ متحد لوگوں سے ہوگا ؟؟کیا ہم اتنے گئے گزرے ہیں؟؟۔
گئے گزرے 25کروڑ۔۔؟
09:05 AM, 8 Feb, 2026