ڈکی بھائی کی جانب سے NCCIA اہلکاروں کے خلاف تشدد اور مالی بدسلوکی کے الزامات عائد

05:18 PM, 8 Dec, 2025

لاہور: پاکستان کے مشہور یوٹیوبر سعد الرحمان، جو کہ ڈکی بھائی کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق، اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، بدسلوکی کی، گالیاں دیں اور بڑی رقم کا تقاضا کیا۔

ڈکی بھائی نے اپنے ویڈیو بیان میں 100 دنوں کی حراست کے دوران پیش آنے والے تکلیف دہ واقعات کا تذکرہ کیا۔ ان کے مطابق، انہیں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری کے سامنے پیش کیا گیا، جنہوں نے نہ صرف توہین آمیز زبان استعمال کی بلکہ انہیں بار بار تھپڑ بھی مارے۔

انہوں نے بتایا کہ سرفراز چوہدری نے دوران تفتیش ان سے ان کے ذرائع آمدنی کے بارے میں سوالات کیے اور جب انہوں نے بتایا کہ ان کا ذریعہ آمدنی یوٹیوب ہے اور ان کے 80 لاکھ سبسکرائبرز ہیں، تو سرفراز چوہدری نے انہیں الزام تراشی کا نشانہ بنایا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ بچوں کے ذہن خراب کر رہے ہیں۔ "مجھے اتنی بار تھپڑ مارے گئے کہ میں گن بھی نہیں سکا،" ڈکی بھائی نے کہا۔

ڈکی بھائی نے الزام لگایا کہ NCCIA کے کچھ اہلکاروں نے انہیں 70 سے 80 کروڑ روپے میں معاملہ نمٹانے کی پیشکش کی، مگر وہ اتنی بڑی رقم دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے 3 لاکھ 26 ہزار ڈالر ضبط کر لیے گئے اور انہیں بائنانس اکاؤنٹ کھولنے پر مجبور کیا گیا تاکہ ان کا تجارتی عمل بند کر دیا جائے۔ اس کے بعد، ان کی رقم ڈالرز میں تبدیل کر کے مبینہ طور پر اہلکاروں کے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کر دی گئی۔

ڈکی بھائی نے کہا کہ حراست کے پہلے ہی دن انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا تھا، اور باوجود اس کے کہ وہ مکمل تعاون کر رہے تھے، انہیں مسلسل مارا پیٹا گیا۔ ایک موقع پر جب انہیں حراست کے دوران اپنے ایک جاننے والے شخص کا چہرہ نظر آیا، تو انہوں نے ان سے منت کی کہ وہ گارڈز سے کہہ کر انہیں کم مارنے کی درخواست کریں۔

این سی سی آئی اے نے ابھی تک ڈکی بھائی کے الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

اس سے قبل، ستمبر میں، NCCIA لاہور کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جن پر مختلف تنازعات کے ساتھ ساتھ ڈکی بھائی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزامات بھی تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کو اس سال اگست میں لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے جوا اور بیٹنگ ایپس کی تشہیر کی تھی۔

مزیدخبریں