اور’’ذہنی مریض‘‘کسے کہتے ہیں؟

09:12 AM, 8 Dec, 2025

اب اسے ذہنی مرض نہ کہے تو اور کیا کہئے گھرہو یا ملک بار بار توڑدینا اپنی حکومت میں اپنی ہی اسمبلی تور دینا حکومت میں آنے سے پہلے گورنر ہاؤس توڑنے کی تمنا وزیراعظم ہاؤس ختم کرنے کے دعوے ۔
ایسا لگتا ہے ایک پاگل ٹرک پر چڑھ کر آیا لوگوں سے کہا لوگو صرف میں پارسا ہوں میرے علاوہ باقی سب چور ہیں اور قانون شکن ایسا کہ ٹرالے پہ چڑھا ایک منتخب وزیراعظم کے دروازے پر آن کھڑا ہوا پاکستان میں منتخب جمہوری پانچ سالہ حکومت اور طرزسیاست کو ختم کرنے والا پہلا سیاست دان یعنی جس راستے سے سیاست دان کو آنا چاہے اور پانچ برس پورے کرنے چاہئیں یہ اس کی راستے میں دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔ قمر جاوید باجوہ فیض حمید اور بیرونی قوتوں کاپروردہ یہ شخص بالآخر تمام ترہتھکنڈوں کے ساتھ حکومت میں آگیا پونے چار سال ٹکے کا کام نہیں کیا دواڑھائی بجے ہیلی کاپٹرپر چڑھ کر دفتر آتا پوری سٹاک ایکسچینج کاتب تک بھٹہ بیٹھ جاتا…
یہ شخص یہیں تک نہیں رکا تمام جاری شدہ ترقیاتی منصوبے البتہ رک گئے۔ ایسا لگتا اس کو قرار نہیں تمام شواہد والا اس کاکردار اور پلے بوائے کا لقب سمیت اس نے اپنے جس عدلیہ کے کچھ لوگوں سے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ لے لیا۔ بیس پچیس برس کے نوجوانوں کورات بھر ٹرک پر پانچ چھ مشٹنڈوں کے ہمراہ گلے میں دوپٹے ڈال کر مقامی کلچر کا مذاق اڑاتے ہوئے رقص وموسیقی ڈی جے اور ساؤنڈ سسٹم کے بل بوتے پر جلسے کرتا لوگوں کو اس حدتک برین واش کرتا رہا کہ بچے یہ نہ کہتے کہ شعوران کے والدین نے دیا یہ کہنے لگے ہمیں شعور خان نے دیا …یعنی بدتمیزی کا شعور یہ بچے سمجھتے کہ تمام ملک ان کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں لے رہا ہے حالانکہ خیر سے انہوں نے کبھی ٹیکس نہ دیاہوگا سرکاری ملازموں کو تویہ اپنا ذاتی نوکر سمجھتے یہ شعورخیر سے ان کے لیڈر نے عطا کیا کہ پاکستان میں ٹیکس نادہندگی میں یہ قوم پہلے نمبرپر آتی ہے۔ اور اگر یہ ایسا ہی ٹیکس دینے والے ہوتے تو ہمارے منصوبے آئی ایم ایف کے قرضوں سے نہ چلتے ان کی ٹیکس کی رقم سے چلتے جو یہ کبھی نہیں دیتے تنخواہوں اور مراعات پر پابندیاں آئی ایم ایف لگاتا اور قوم یوتھ یہ سمجھتی ہے کہ سارا ملک ان کے ٹیکس پر پل رہا ہے۔ 
خان کی سب سے بڑی غلطی ہی یہ ہے کہ اس نے وہ راستہ بند کرنا چاہا جس پر چل کر جمہوریت کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اس نے پورے پونے چار سال رگیں پھلا پھلا گلا پھاڑ پھاڑ کر انتہائی غصے اور نفرت بھرے لہجے میں سیاست دانوں کو گالی گلوچ کسی کو ڈیزل کسی کی نقل کسی کودیوار سے لگاکر کسی کو  قیدکروا حتیٰ کہ ایک تہائی سیاستدان اس نے قیدکیے اور ببانگ دہل کہتا ان سب کو جیلوں میںڈالوں گا موصوف کو  اتنا بھی تکلف نہ ہوتا کہ یہ ہی کہہ دے کہ عدلیہ کے ذریعے ایسا ہوگا لوگوں کو ڈیڑھ کروڑ نوکریوں اور مکانات کا جھانسہ دے کر خود سویا پڑارہا۔ 
اپنے اطراف تمام دونمبر لوگ اکٹھے کئے جیسے ہی جیل گیا تمام اس کا ساتھ چھوڑ گئے خاندان میں سب سے لڑائی عورتوںکے تعویز دھاگوں کی مددسے وزیراعظم بننے کا خواب دیکھنے والا یہ تک سمجھ نہیں رکھتا تھا کہ تعویز پیچھے بیٹھا لکھ کون رہا۔
اس کی تمام تر غلطیوں سمیت  اس سے صرف نظرکیا جارہا تھا مگر یہ کہاں رکنے والا تھا۔ 
9مئی کا واقعہ برپا کرکے اس نے براہ راست فوج سے تصادم کا راستہ اختیار کیا۔ 
اگر یہ صحیح سیاست دان ہوتا تو کہیں نہ کہیں سیاست دانوں سے ہاتھ ملاتا مفاہمت کی کسی ٹیبل پر ہی بیٹھ جاتا میاں نوازشریف اس کے گھر تک گئے مگر یہ اوئے نوازشریف ہی کہہ کر بدتمیزی کرتا رہا اس نے ازخود جیل میں رہنے کو ترجیح دی اور حکومتی اداروں کو اتنا مجبور کردیا کہ مجھے مسلسل جیل میں رکھو نہیں تو میں چین کا وزیراعظم آئے ترقی کے معاہدے ہوں یا بیرونی صدور کی آمد وطن کی رسوائی کا ہرسامان کروں گا ایک پورا صوبہ مسلسل اپنے ہی ملک پر چڑھائی پر معمور کردیا۔ 
اب اسے جیل میں بھی چین نہیں ملک دشمن بیانیہ جس طرح سے اس نے تشکیل دیا وہ تفصیل سے اپنی تازی بریفنگ نے جنرل احمد شریف چودھری نے بیان کیا کہ کیسے یہ ایک بیانیہ تشکیل دیتا ہے پہلے یہ خود ملک دشمن ٹویٹ کرتا  ہے۔ 
افواج پاکستان کے خلاف بیانیہ کا آغاز کرتا ہے وہیں سے اس کے حواری بیرونی اکاؤنٹس سے اس کی پیروی میں سوشل میڈیاپر طوفان مچا دیتے ہیں جس کے بعد افغانستان خوارج اور بھارتی میڈیا حرکت میں آجاتا اور پورا بیانیہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ 
یہ بیانیہ باوجود اس کے کہ افواج پاکستان نے بھارت کو عظیم الشان شکست دے کر ان کے چھکے چھڑا دیئے یہ بھارت کے حق اور اپنی افواج کے خلاف بناتا ہے حتیٰ کہ اس کے خونی رشتے یعنی بہنیں بھی بھارت نواز ایجنڈے کوفروغ دیتے ہوئے بھارتی چینلز کو انٹرویو دیتی ہیں پاکستان کی رسوائی کا یہ سلسلہ جیل سے چلتا ہے جہاں سے یہ ایجنڈا لے کر آتی ہیں اور پوری دنیا میں پھیلایا جاتا ہے اندازہ کریں اس وقت یورپ ، اسلامی ممالک اورامریکہ بمع ترکی ایران پاکستان اور افواج پاکستان کا مداح ہوا ہے ایسی شاندار خارجہ پالیسی جو فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر نے عوامی نمائندوں کے ہمراہ قائم کی ہے یہ ’’مورکھ‘‘ اسے تباہ کرنا چاہتا ہے۔ 
اس کی کس کس غلطی کی نشاندہی کی جائے ایک ایسا شخص کس طرح نارمل ہوسکتا ہے جو اپنے ہی ملک کے ایک صوبے کو لشکر کشی کا قافلہ بنادے بلوہ کرنے کیلئے جتھے تشکیل دے اور اپنے ہی دارالخلافہ پہ چڑھ دوڑے پاکستان پر افغانستان اور بھارت کے حملوں کے دوران اپنی فوج کی بجائے بھارت اور افغانستان کی دہشت گرد تنظیموں کے آپریشن کے خلاف ہو بلکہ ان سے مذاکرات کی بات کرے۔ 
مجھے حیرت ہوئی پوری دنیا نے پاکستان کے بھارتی رافیل گرانے پر تبصرے کیے اور ہرمحب وطن کا سرفخر سے بلند ہوگیا۔ اس بندے نے اپنی فضائیہ کیلئے ایک توصیف کا جملہ نہیں کہا۔ 
چیف آف ڈیفنس فورسز کی جانفشانی جنگی حکمت عملی بہادری اور شجاعت پر ایک کلمہ خیر نہیں کہا حالانکہ قوم نے عاصم منیر کو سرکا تاج بنالیا ہے ان کی دلیری کو دیکھتے ہوئے دلبری کے مقام پر فائز کردیا ہے۔  

مزیدخبریں