ماضی بھی کیا عجیب شے ہے؟ پیرِ تسمہ پا کی طرح پاؤں پہ پاؤں رکھے حال کی کھڑکیوں سے جھانکتا رہتا ہے اور بسا اوقات گھورنے کی جسارت بھی کرتا ہے۔ اگر آپ نے ماضی میں کھاتے پیتے گھر میں آنکھ کھولی ہے اور سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے ہیں تو یہی ماضی آپ کو حسین لمحوں کی یاد دلاتا رہے گا اور کئی بار آپ ماضی کے جھروکوں سے برآمد ہونگے۔ بعینہ اگر آپ کا ماضی غربت، تنگدستی یا مفلسی میں گزرا ہو تو یہ ماضی آپ کے اندر تلخیاں پیدا کر دے گا۔ جی جی اس بات کا اندازہ (ساحر لدھیانوی کی تلخیاںسے لگایا جا سکتا ہے) شاید اسی بنا پر ساغر صدیقی نے کہا تھا: میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا۔۔ غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا۔ آپ خواہ کامیاب زندگی گزار رہے ہوں یا دنیا بھر کی آشائشوں اور سہولتوں کو اپنے پاؤں تلے روند رہے ہوں۔ جب بھی آپ کو ماضی کی کوئی تلخی، کوئی ٹوٹی ہو خواہش یا کوئی حسرت یاد آئے گی تو آپ لمحہ بھر کے لیے اداس اور افسردہ ضرور ہو جائیں گے۔ یہ وہ اژدھا ہے جو ہر ذی شعور کا آخرِ کار تک ڈستا رہتا ہے۔ میرے نزدیک اس تلخی کا ایک فائدہ ہے اور ایک نقصان بھی ہے۔ فائدہ یہ ہے کہ انسان اپنی اوقات سے باہر نہیں ہوتا۔ اپنے آپ کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بقول پروفیسر سخن ور نجمی: میں فصیلِ ذات سے باہر نہیں۔ روشنی جو رات سے باہر نہیں۔ خاک تھا پھر خاک سا میں ہو گیا۔ دیکھ میں اوقات سے باہر نہیں دوسرے پہلو میں نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان یا تو احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے یا پھر احساس برتری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسان کی ذات کے اندر کوئی نہ کوئی خلا ضرور رہ جاتا ہے جسے پورا کرنے کی تگ و دو کہیں نہ کہیں جاگ جاتی ہے۔ بات ماضی کی چل رہی تھی تو ہمارے ماضی میں ہم دوستوں کے پاس ہاکی خریدنے اور گیند خریدنے کے پیسے نہیں ہوا کرتے تھے۔ کوششِ بسیار کے باوجود کامیابی نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے نہ دیا۔ ہم دوستوں میں ایک لمبا تڑنگا لڑکا ہوا کرتا تھا مجھے زندگی بھر تین لمبے تڑنگے دوستوں سے واسطہ پڑا اور خوب پڑا ایک وہ جو بچپن کا دوست تھا، ایک پروفیسر چودھری محمد عتیق کمبوہ جو گورنمنٹ کالج ساہیوال میں نفیسات کا پروفیسر ہے اور تیسرا ساجد علی امیر جو حال کی گھڑی میں میرا پی ایچ ڈی کا کلاس فیلو ہے اور خوب ہے۔ ساجد علی امیر کا یہ خاصا ہے کہ وہ اردو ادب کا اچھوتا قاری ہے۔ تنقید اور تحقیق سے ساجد علی امیر کو خاصی رغبت ہے۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ وہ ساجد علی امیر ہیں۔ ساجد علی میر نہیں۔ اس لمبے تڑنگے لڑکے نے ہاکی بنانے کا عجیب جگاڑ لگایا، جیسے پاکستانی سیاستدان کامیابی سے لگاتے ہیں اس لمبے لڑکے کی سیکم اور ذہانت زرداری صاحب سے قدرے کم نہ تھی۔ اس نے اپنے سمیت اور ہم چھ دوستوں کے لیے توت کے درخت کی دو سے تین انچ موٹی اور چار سے ساڑھے چار فٹ لمبی (لگریں) چھڑیاں کاٹ کر ان کو صاف کیا۔ اس کے بعد موصوف نے آگ جلائی اور ان چھڑیوں کو اس آگ کے اندر رکھ دیا۔ جب ان چھڑیوں کو آگ نے نرم کر دیا تو اس نے ایک ایک چھڑی کو دو ساہنگے (جڑواں تنے والے) درخت کے بیچ دے کر مروڑ دیا اور وہ چھڑی ہاکی یعنی کھونڈی کی شکل اختیار کر گئی۔ اس نے یکے بعد دیگرے سب کے لیے ہاکیاں بنا دیں۔ اب مسئلہ پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا والی بات ہو گئی۔ ہاکی بن گئی بال کہاں سے لائیں؟ ایک دن اس نے پی ڈی ایم یعنی (ہم) سے مشورہ کیے بغیر خود ہی سیکم سوچی۔ اس لمبے لڑکے نے موم جامے یعنی پلاسٹک کے کاغذ اکٹھے کیے۔ زمین پر ایک جگہ صاف کی اور ایک ایک کاغذ کو جلا کر موم بنانا شروع کر دیا۔ وہ گرم موم اتنا ظالم تھا کہ جہاں پڑتا وہاں سے کھال ادھیڑ دیتا جیسے کھال ادڑھنے کے ڈر سے کوئی (عسکری قوتوں کے خلاف چوں چراں نہیں کرتا)۔ اس لمبے لڑکے نے کافی سارا موم بنا کر اسے ٹھنڈا کیا اور ہاتھ گیلے کر کے اس موم کو پیڑے کی طرح گول مٹول کر دیا۔ دو تین بار ایسا کرنے سے وہ گیند بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ گیند
بن گئی مگر بہت سخت۔۔۔ وہ گیند کھیلنے کا کام تو دیتی مگر یہاں کہیں لگ جاتی تھی درد سے ہلکان کر دیتی اور وہاں سے جسم کا حصہ نیلا بھی کر دیتی اور ساتھ نشان بھی بنا دیتی۔ یار لوگ اس سے کرکٹ بھی کھیل لیتے تھے اور اچھی خاصی کھیل لیتے تھے۔ ایک دن ایسی ہی ایک گیند سیاست میں آ گئی۔ یہ گیند عسکری کورٹوں سے ہوتی ہوئی ذوالفقار علی بھٹو کو لگی اور بھٹو سمیت انکی سیاست کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی پھر یہ گیند عسکری کورٹ میں آئی اور محمد خاں جونیجو کو لگی اور اسکی حکومت کو پاش پاش کر گئی۔ موم جامے کی یہ جہموریت پسند گیند 1988 میں بے نظیر بھٹو کی کورٹ میں تھی۔ پھر عرصہ تک یہ جمہوری گیند نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان رہی۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو اسی گیند کو ایک دوسرے کو مارنے کے لیے قابو میں رکھتے رہے۔ 1999 میں پروپز مشرف نے اپنی ڈبِ کلاں سے یہ گیند نکال کر چپکے سے نواز شریف کو دے ماری اور خود برسر اقتدار ہو گیا۔ 2008 اور 2013 کے بعد 2018 میں یہ گیند عمران کے کورٹ میں جا گری اور عوام نے اس گیند کا بھر پور ساتھ دیا۔ عمران خاں کھلاڑی آدمی ہونے کے باوجود تین سال کچھ ماہ تک اس گیند سے کھیل سکا اور ساری سیاسی جماعتوں نے ایک طرف ہو کر عمران خان سے اس سخت گیند کے ساتھ مارکٹائی جیسا کھیل،کھیل کر اسے نیلا پیلا کر دیا بلکہ سیاسی میدان سے نکال باہر کیا۔ پھر یہ گیند ملکی تاریخ میں پہلی طویل نگران حکومت کے اشاروں پر اچھلتی رہی اس کے بعد یہ گیند 2024 سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کورٹ میں پوری شد و مد کے ساتھ موجود ہے۔ مگر واضح رہے اس گیند کے کورٹ بدلنے یا لگنے کا پی ٹی آٹی کے علاوہ کسی سیاستدان، حکمران، بیوروکریٹ اور نہ ہی دوسری کسی سیاسی پارٹی کو نقصان ہوا ہے لیکن ملک عزیز کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں۔ غریب کی عزت نفس تباہ ہو گئی ہے۔ لوگوں کو روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں۔ اس ادلا بدلی کی گیند نے ہمارے ملک کی سرحدوں کو کمزور کیا ہے۔ ہماری معشیت کو تباہ کیا ہے اور ہماری اخلاقیات کو برباد کیا ہے۔ ہم انسان کی معراج سے نیچے گر گئے ہیں۔ ہمارے شاہین کرگس بن گئے ہیں۔ ہمارے آبا و اجداد کا کوئی کارنامہ نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے آبا نے کچھ نیا تعمیر اور تخلیق کیا ہے کہ وہ یورپ کی لائبریریوں میں پڑا ہوا ہے جسے دیکھ کر دل پھر سے سپیارہ ہو جائے۔
میں فصیل ذات سے باہر نہیں
09:11 AM, 8 Dec, 2025