جہاں جمہوریت ہوتی ہے وہاں لوگ اپنی بہتری و فلاح کے لئے نمائندے منتخب کرتے ہیں اس کے لئے ووٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جب وہ منتخب ہو جاتے ہیں تو ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں ان کا کام قانون سازی ہوتا ہے لہذا وہ ایسے قوانین وضع کرتے ہیں جس سے عوام کی زندگیاں سہل اور پ±ر آسائش ہوتی ہوں۔ ان کے مسائل و مشکلات کم یا ختم ہوتے ہوں۔ یورپ و مغرب میں چونکہ جمہوریت ہے لہذا لوگ ایک خاص مدت کے بعد اس عمل کو دہراتے ہیں اب اگر پہلے والے نمائندوں نے ان کے لئے ضروری اقدامات کیے ہوں ان کی بہبود کے لئے کام کیے ہوں تو وہ دوبارہ انہیں منتخب کر لیتے ہیں بصورت دیگر دوسروں کو موقع دیتے ہیں تاکہ وہ ان کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کر سکیں۔ یہ سلسلہ برس ہا برس سے جاری ہے اس لئے ان ملکوں میں جو حکومتیں وجود میں آتی ہیں وہ باقاعدہ اپنے منشور پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کرتی ہیں
ان ملکوں میں جمہوریت کا آنا کوئی آسان نہیں تھا لوگوں کو اس کے لئے دو اڑھائی صدیاں جہدوجہد کرنا پڑی تب جاکر وہ جاگیر داروں قبائلیوں اور سرمایہ داروں کے چنگل سے آزاد ہوئے۔اگرچہ اہل زر اب بھی کسی نہ کسی شکل میں حکومتوں میں موجود ہیں مگر وہ عوامی طاقت کے آگے جھکنے پر مجبور بھی ہیں لہذا وہ اپنی مرضی چند فیصد ہی کر سکتے ہیں اور جب کبھی وہ غیر عوامی فیصلے کرتے بھی ہیں تو لوگ سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا شعور اب پختہ ہو چکا ہے لہذا وہ معاشرے ترقی کے میدان میں بہت آگے نکل گئے ہیں ان کی حکومتیں چونکہ مخلص ہوتی ہیں لہذا وہ اقتدار کو ڈنگ ٹپاو¿ پالیسیوں اور چالاکیوں سے دوام نہیں بخشتیں وعدوں کو پورا کرتی ہیں اور ہمیشہ اپنے شہریوں کے لئے غور و فکر کرتی رہتی ہیں۔
اب سوال یہ بھی ہے کہ جن ملکوں میں جمہوریت نہیں‘ اظہار رائے کی آزادی بھی نہیں اور وہ ترقی میں ان سے بھی بہت آگے جا چکے ہیں تو کیسے؟ اس کا جواب یہ ہو گا کہ ان ممالک کی حکومتوں کا مطمع نظرعوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے وہ منتخب ہوں یا غیر منتخب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لہذا آج ان ملکوں میں خوشحالی بھی ہے اور سکون بھی۔ یہ درست ہے کہ ہر کوئی اپنی ایک سوچ اور فکر رکھتا ہے اور وہ اس کا اظہار بھی چاہتا ہے مگر جب وہ ایسا نہیں کر پاتا تو وہ گھٹن محسوس کرتا ہے مگر اس پہلو کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے کہ بنیادی انسانی ضروریات جب پوری ہو رہی ہوں زندگی آسان اور خوشگوار گزر رہی ہو تو وہ کچھ نہیں بھی کہہ پاتا تو کوئی بات نہیں کیونکہ جن ملکوں میں اظہار رائے مقدم سمجھتی جاتی ہے وہاں مسائل بھی ہوتے ہیں زندگی مشکل بسر ہو رہی ہوتی ہےلہذا اصل بات خلوص و نیت کی ہے جو ہمارے ہاں انتہائی کم ہے۔ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس دکھاوے کے لئے بہت کچھ ہے محض ووٹ لینے کے لئے اب تو ووٹ بھی اپنی قدر و قیمت کھو رہے ہیں کیونکہ ایک تو بعض اوقات ان کا انتخاب جزباتی ہوتا ہے دوسرے یہ رجحان بھی بڑھ رہا ہے کہ ووٹ کسی کو دیا جاتا ہے کامیاب کوئی اور ہوتا ہے تیسرے خواندگی کا بڑا مسلہ ہے اگرچہ مہذب ممالک تعلیم کے حصول کےلئے باقاعدہ رقوم فراہم کرتے ہیں مگر سیاسی لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ لوگ اس سے محروم رہیں تاکہ انہیں ان کے بارے میں سمجھ نہ آسکے یہی وجہ ہے کہ اب تک عوام کے مسائل حل نہیں ہوئے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک مخصوص طبقہ جو ”سٹیٹس کو“ کا زبردست حامی ہے سے تعلق رکھنے والے لوگ ایوانوں میں جاتے ہیں عوام میں سے ایک فیصد بھی نہیں ہوتے جو محض مغربی ممالک کو دکھانے کے لیے ہوتے ہیں کہ ہم بڑے جمہوری ہیں لہذا ان سے بہتری کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے؟ اب تو پچھلے پندرہ بیس برس سے ووٹ خریدنے کا رواج بھی چل نکلا ہے نتائج بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں جنہیں ”منتخب نمائندے “ کہتے ہیں عوام کو کمتر اور حقیر جانتے ہیں اور وہ ان کے ممنون احسان نہیں ہوتے لہذا وہ ان کی فلاح وبہبود کے لئے بھی سنجیدہ نہیں ہوتے فنڈز کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں ذاتی جائیدادوں میں اضافہ کرتے ہیں اور لوگوں کو صرف سبز باغوں کی سیر کراتے ہیں یعنی جو وعدے کرتے ہیں ان پر پورا نہیں اترتے جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ خزانہ خالی ہے مگر ان کا خزانہ بھرا رہتا ہے۔ اب جب اٹھہتر برس بیت چکے ہیں تو لوگ پریشان حال ہیں غربت افلاس نے ان کے چہروں کی تازگی چھین لی ہے۔
تب ہی کہا جا رہا ہے کہ یہ نظام فرسودہ ہو چکا ہے اس میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں کیونکہ نہ تو ووٹ دینے والے میرٹ کا خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی منتخب ہونے والے نمائندے اپنی اہلیت کو ثابت کرتے ہیں۔
”روسو نے کہا تھا کہ صحیح جمہوریت نہ کبھی وجود میں آئی ہے نہ آئے گی کیونکہ یہ بات فطری نظام کے خلاف ہے کہ اکثریت اقلیت پر حکومت کرے۔تمام سیاست منظم اقلیتوں کی باہمی رقابت پر مشتمل ہے عوام محض تماشبین ہیں جو فاتح کی حوصلہ افزائی اور شکست خوردہ کی تضحیک کرتے ہیں۔ ان حالات میں رائے دہی بے معنی چیز ہےاور یہ فقط اس لئے جاری رہتی ہے کہ لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھی رہے کہ وہی قانون بناتے ہیں اور اس طرح اجتماعی نظام کی چولیں ڈھیلی نہ ہونے پائیں۔ اس صورت میں انتخابات سے ایک ہی فائدہ ہے کہ بیدار لوگوں کی توجہ سے تعلیمی مواقع پیدا ہوتے ہیں مگر بسا اوقات اصلی مسائل کی پردہ پوشی سے یہ مواقع بے کارثابت ہوتے ہیں۔اس سیاست دان کی کوئی حثیت نہیں جو لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دینے میں کا میاب نہیں ہوتا“ لہذا ہمارے سیاستدانوں کا طرز عمل بھی ایسا ہی ہے کہ وہ مسائل کے خاتمے کے بجائے ان سے توجہ ہٹانے کےلئے کوئی نہ کوئی مرکزِ نگاہ تلاش کر لیتے ہیں اور انہیں اس میں عام طور سے کامیابی بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ اب تک کی ملکی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمران جماعتیں چالاکیوں سے کام لیتی رہی ہیں اسی لئے ملک کو قرضوں کی آکاس بیل نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ جس سے عوام اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں مگر حکمران طبقہ ان کے تکالیف کو محسوس نہیں کر رہا اور اپنی آپ کو ہر اعتبار سے مضبوط بنا رہا ہے اس پر لوگوں نے اس نام نہاد جمہوری نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دینا شروع کر دیا ہے تاکہ وہ برسوں کے بعد ہی سہی خوشحال اور انصاف پسند معاشروں کی طرح جی سکیں۔
حالات اپنے نگر کے کیوں نہیں بدل سکے ؟
09:37 AM, 9 Aug, 2026