کیا مفاہمت کی سیاست کو ناکام ہی سمجھیں؟

09:35 AM, 9 Aug, 2026

پاکستان کی سیاست میں اختلاف، تنقید ، الزام تراشی اور محاذ آرائی کوئی نئی بات تو نہیں لیکن اس ماحول میں اگر یہ کہا جائے تو زیادہ غلط نہ ہو گا کہ نواز شریف ہی وہ واحد سیاستدان ہیں کہ جنہوں نے بار بار یہ کوشش کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے اور اگر ان کوششوں کے باوجود ایسا نہیں ہو سکا تو پھر یہ سوچنا پڑے گاکہ کیا پاکستان کی سیاست میں مفاہمتی سوچ، سیاسی حکمت عملی اور مثبت نظریہ کی کوئی گنجائش باقی بچی بھی ہے بھی یا نہیں؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اختلاف رائے کو جمہوریت کے حسن سمجھنے کے بجائے سیاسی جنگ بنا ئے رکھاہے۔سال 1977 کے بعد ملک مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا اور فوجی مداخلتیں بھی جمہوری عمل کو نقصان پہنچاتی رہیں۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی وہ ماحول پیدا نہ کر سکیں کہ جس میں جمہوریت کی مضبوطی کی فضا قائم ہوتی۔
 ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے بعد سال 1988 میں جمہوریت نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا، مگر اس کے ساتھ ہی پورے عشرے پرمحیط پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کے درمیان کشمکش نے بھی جنم لے لیا۔
نوے کی دہائی میں تو بس حکومتیں بننے اور گرائے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ کبھی بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم ہوئی، کبھی نواز شریف کی ،اور دونوں بڑی جماعتیں اپنی تمام تر توانائیاں عوام کی بہبود کے لیے کچھ کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو اقتدار سے باہر رکھنے پر صرف کیے رہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستی ادارے کمزور ہوتے چلے گئے اور بالآخر سال 1999 میں ڈکٹیٹر پرویز مشرف سیاسی نظام کو رول بیک کرنے کے بعد اقتدار سنبھال لیا۔ آج بھی بہت سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر اس وقت دونوں بڑی جماعتوں میں برداشت اور مکالمے کی روایت موجود ہوتی تو شاید تاریخ کا رخ مختلف ہوتا۔
شاید یہی تلخ تجربات تھے جنہوں نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو اپنی ماضی کی سیاست پر نظرثانی پر مجبور کیا اور سال 2006 میں لندن میںمیثاق جمہوریت سائین ہوا ۔ جو محض ایک سیاسی معاہدہ نہیں تھا بلکہ اس بات کا اعتراف بھی تھا کہ مسلسل محاذ آرائی نے جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔ دونوں رہنما¶ں نے اس دستاویز کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ آئندہ سیاسی اختلاف کا حل غیر جمہوری راستوں میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور عوام کے فیصلے میں تلاش کیا جائے گا۔لیکن بدقسمتی سے یہ سوچ پوری طرح سیاسی ثقافت کا حصہ نہ بن سکی۔
بات تھی نواز شریف کی مفاہمتی سوچ اور مثبت رویہ کی تو ہمیں یاد ہے کہ سال2007 میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد نواز شریف نے عام انتخابات کچھ عرصے کے لیے موخر کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ ملک میں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال معمول پر آ سکے۔ اس تجویز سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس وقت ان کے رویے میں سیاسی فائدے سے زیادہ قومی حالات کی جھلک نظر آتی تھی۔
بعد ازاں بھی ایسے کئی مواقع آئے جب نواز شریف نے اپنے سخت ترین سیاسی مخالفین کے ساتھ ذاتی احترام کا مظاہرہ کیا۔سال 2013 میں عمران خان ایک جلسہ کے دوران زخمی ہوئے تووہ ان کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے۔ بعد ازاں جب عمران خان کے اہل خانہ کرونا سے متاثر ہوئے تو وزیراعظم ہا¶س تک محدود رہنے کے بجائے ان کی رہائش گاہ جا کر خیریت دریافت کی۔ دنیا کی ترقی یافتہ جمہوریتوں میں ایسے اقدامات معمول کی سرگرمی سمجھے جاتے ہیں، لیکن پاکستان میں انہیں غیر معمولی سمجھا جانا چاہیے کیونکہ ہماری سیاست میں شائستگی ایک نایاب وصف بنتی جا رہی ہے۔
حال ہی میں گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو نواز شریف نے نہ صرف کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کی بلکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو مبارکباد بھی دی۔امید تو یہ تھی کہ نواز شریف کا یہ طرز عمل ایک مثبت سیاست کی بنیاد رکھے گا لیکن افسوس آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال نے اس سوچ پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
 نوازلیگ کے حامیوں کاخیال ہے کہ پیپلز پارٹی، خصوصاً بلاول زرداری کے سیاسی فیصلوں اور بیانات نے یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ مفاہمت کی سیاست صرف ایک فریق کی ہی ذمہ داری ہے۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ کے حامیوں کا یہ خیال ہے کہ اگر ایک جماعت مسلسل سیاسی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرے اور دوسری جماعت ہر موقع پر سیاسی فائدے کو ترجیح دے تو پھر مفاہمت کا فلسفہ عملی طور پر کیونکر کامیاب ہو سکتا ہے؟
دوسری طرف پیپلز پارٹی کے حامی یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ سیاست میں ہر جماعت اپنے سیاسی مفادات اور عوامی مینڈیٹ کے مطابق فیصلے کرنے میں آزاد ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک کسی سیاسی اتحاد کو مفاہمت کی کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو دونوں جماعتیں اپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہی ہیں۔
لیکن اصل سوال شاید اس سے بھی بڑا ہے وہ یہ کہ کیا پاکستان میں صرف نواز شریف کی مفاہمتی سیاست ناکام ہوئی ہے یا پھر پورا سیاسی ماحول ہی مفاہمت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں؟
اگر ہم سیاسی منظرنامے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ صرف نواز لیگ، پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ تقریباً تمام ہی سیاسی جماعتیں یہ سوچ رکھتی ہیں کہ مخالفین سیاسی میدان میں صرف شکست دینا کافی نہیںبلکہ انہیں مکمل طور پر غیر متعلق بنا دینا بھی ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد مفاہمت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور اپوزیشن میں جاتے ہی مذاکرات کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔
دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں بھی سیاسی اختلاف شدید ہوتا ہے۔ برطانیہ میں کنزرویٹو اور لیبر پارٹی ایک دوسرے پر سخت تنقید کرتی ہیں، امریکہ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ایک دوسرے کے نظریات سے اختلاف رکھتے ہیں، لیکن انتخابات کے بعد اقتدار کی پرامن منتقلی اور مخالف کے مینڈیٹ کا احترام جمہوری روایت کا حصہ ہے۔ وہاں سیاسی مقابلہ ریاستی استحکام سے بڑا نہیں ہوتا۔لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی فتح ریاست سے زیادہ اہم بن چکی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مفاہمت یک طرفہ عمل نہیں ہوتی۔ مصافحہ کرنے کے لیے دو ہاتھ درکار ہوتے ہیں۔ اگر ایک ہاتھ مسلسل آگے بڑھے اور دوسرا ہر بار پیچھے ہٹ جائے تو بالآخر پہلا ہاتھ بھی تھک جاتا ہے۔ یہی احساس آج نواز لیگ کے بہت سے کارکنوں اور ہمدردوں میں پایا جاتا ہے کہ نواز شریف نے ہمیشہ سیاسی برداشت کا مظاہرہ کیاہے، مگر انہیں اس کا جواب مناسب انداز میں نہیں ملتا۔
اس سب کے باوجود شائد یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ مفاہمت کی سیاست مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ درحقیقت ناکامی مفاہمت کی نہیں بلکہ اس سیاسی کلچر کی ہے جو برداشت کو کمزوری، شائستگی کو مصلحت اور مکالمے کو پسپائی سمجھنے لگا ہے۔ اگر یہی رویہ برقرار رہا تو یقینا نقصان کسی ایک سیاسی رہنما یا جماعت کا نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کا ہوگا۔

مزیدخبریں