اسلامی جمہوریہ پاکستان، جمہوریہ ترکیہ اور سعودی نے مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ مکہ معاہدہ کہلانے والے اس معاہدے پر سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ اس وقت کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ایک بار پھر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک ایک دوسرے کا دفاع مضبوط کریں گے اور ایک ملک پر دشمن ملک کا حملہ تینوں اتحادی ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کی تفصیلات تو پوری دنیا نے دیکھ اور پڑھ لیں ہیں مگر بعض ممالک کو یہ مسلم ممالک دفاعی اتحاد پسند نہیں آیا۔ اب کون ہے جو دنیا کے اہم ترین مسلم دفاع سے ناراض ہے یہ سمجھنا مشکل نہیں کیونکہ ہمارے تو ساتھ والے گھر سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
خطے میں امن کے دشمن بھارت میں خصوصاً گودی میڈیا پر پاک، ترکیہ، سعودیہ دفاعی معاہدے کو نیا مسلم ممالک اتحاد او آئی سی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس دفاعی معاہدے کو او آئی سی کی طرز کا ادارہ تصور کرنا فی الحال درست نہیں ہو گا مگر اس کے مینڈیٹ کو گھٹا کر بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔ جب دنیا بدترین جنگ اور جنگ بندی میں پھسا ہوا یے تو اس وقت مسلمان ممالک کے ایک فعال ادارہ کا ہونا ناگزیر ہے۔ جب پاکستان جیسا معاشی کمزور ملک اپنی قوت سے بڑھ کر امریکہ ایران کی ثالثی کرتا سکتا ہے تو او آئی سی اور اقوام متحدہ کیوں اور کیسے غیر فعال ہیں۔
یہ ایک سوچ اور نظریہ ہے جو عرصہ دراز سے قائم بین الاقوامی اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دنیا کا طاقتور ترین شخص ہونے کے باوجود یہ احساس کیوں ہوا کہ اسے ایک نیا پیس بورڈ تشکیل دینا چاہیے جس کے لئے اس نے آنا فانن فنڈنگ اور رکنیت سازی بھی مکمل کر لی۔ آج بھارت اور اسرائیل کا مسلم اسٹراٹیجک معاہدے سے خوفزدہ ہونا درست ہے کہیں آنے والے عرصے میں یہ مسلم ممالک دفاعی اتحاد پاکستان، سعوری عرب، ترکیہ سے بڑھ کر دنیا میں اپنی رٹ قائم نہ کر لے۔
مکہ دفاعی معاہدے سے قبل بھارتی میڈیا پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کی مکمل کروج کر رہا تھا جو اب بھی جاری ہے۔ اور اس وقت بھارت میں پاکستان کی دفاعی کامیابی پر خوب چرچا ہو رہی یے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ جس کے پس پشت سعودی عرب ہے جس نے اس معاہدے کو عملی جامہ پہنایا ہے اور اسکا براہ راست اثر بھارت پر پڑ سکتا یے۔ مگر میرا ماننا ہے کہ یہ اثر پڑ چکا ہے۔
بھارت میں ہندووں کی مذہبی انتہا پسندی کی تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھگوت نے عین پاکستانی قیادت کی سعودیہ عرب روانگی والے دن پاکستان بھارت کشیدگی کم کرنے کا بیان دیا ہے۔ موہن بھگوت ایک ڈیبیٹ میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان بھارت کا ہی حصہ ہے جسے بھارت سے الگ ہوئے سو سال بھی مکمل نہیں ہوئے ہیں۔تاہم بھارتیہ حل تصادم کی بجائے بات چیت میں ہے۔ بھارت کو جنگ کے بعد دوبارہ سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے چاہیے۔ بھگوت اس بات پر زور دیا کہ مستقل نفرت مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پاکستانی دل سے بھارت کے دشمن نہیں ہیں۔ ہمیں انسانیت کے لئے ایک ہونا چاہیے۔ بس یہ بیان سنیں سمجھئے اور سن دھنیئے کیونکہ آج یہ بھارت کا پالیسی بیان ہے۔ جسکی بھارتی میڈیا پر بھر پور تشہیر کی گئی ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوجی صلاحیت، ترکیہ کی ٹیکنالوجیکل سپورٹ اور سعویہ عرب کی مالی معاونت، مکہ معاہدے سے خوف کھانے والے یہ سمجھ رہیں ہیں کہ آپریشن سندور چل رہا ہے اور پاکستان مکہ معاہدے سے جواب دے رہا ہے۔
دوسرا او آئی سی
09:34 AM, 9 Aug, 2026