خبر یہ ہے کہ جناب ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے کی پاداش میں انڈیا پر درآمدی ٹیرف 25% سے بڑھا کر 50% کر دیا ہے۔ یہ حقیقت میں مودی کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے اس پر بھی بات کریں گے لیکن پہلے یہ ذلالت کی داستان شروع کہاں سے ہوئی اس پر بات کرتے ہیں۔ اس لیے کہ پہلگام واقعہ کے بعد جس طرح مودی نے پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کی اور اس کے بعد پاکستان نے جو سبق پڑھایا تو مودی کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ مودی ہندوستان اور پاکستان کے لیے سرینڈر مودی بن گیا لیکن مودی کی یہ ذلت صرف ہندوستان اور پاکستان تک محدود نہیں رہی بلکہ 14 فروری 2019 کو پلوامہ واقعہ میں جب پاکستان نے انڈین جہاز کو مار گرایا اور ابھینندن کو گرفتارکیا تو مودی نے کہا کہ اگر رافیل ہوتے تو ایسا نہ ہوتا۔ رافیل کی آرتی اتارتے ہوئے انہیں خریدا گیا لیکن پاکستانی ایئر فورس کے سامنے وہ بھی نہ ٹک سکے اور گذشتہ دنوں برطانوی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح پاکستان نے انڈین طیاروں جن میں رافیل بھی شامل تھے انہیں با آسانی مار گرایا۔ اس سے کیا ہوا کہ پوری دنیا میں رافیل بنانے والی فرانسیسی کمپنی کے شیئرز کی قیمتوں میں دس فیصد کمی سے انہیں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور اس طرح پوری دنیا میں مودی سرکار جگ ہنسائی کا باعث بن گئی اور بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ اسرائیل کے ڈرون بھی مارے گئے اور روس کے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی تباہی نے میدان حرب میں ہندوستان کی نا اہلی کو پوری دنیا پر عیاں کر دیا۔ اس کے مقابلے میں چینی طیارہ ساز کمپنی کے شیئرز کی قیمتوں میں 16% اضافہ ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے یہ جنگ صرف ہندوستان سے ہی نہیں جیتی تھی بلکہ اس میں اسرائیل کے ڈرون بھی تھے اور یہ بات بھی اب سامنے آ چکی ہے کہ دوران جنگ اسرائیلی جنگی ماہرین بھی ہندوستانی افواج کی معاونت کے لیے موجود تھے۔ اس کے علاوہ پوری دنیا میں مانا ہوا S-400 ڈیفنس میزائل سسٹم بھی پاکستان نے تباہ کیا اور اس کے بعد اسی سسٹم کے حوالے سے مودی سرکار کو ایک اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا کہ جب اس نے S-400 کی مرمت اور اسے Upgrade کے لیے S-500 کی مانگ کی تو روس سے انکار کر دیا۔
نریندر مودی کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اسے اگر مکافات عمل کہا جائے تو غلط نہ ہو گا اس لیے کہ مودی نے ہندوستان کی اقلیتوں کے ساتھ اور خاص طور پر مسلمانوں پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے مودی کے امریکہ داخلے پر پابندی تھی اور یہ پابندی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے تھی۔ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ نسل پرست مودی حکومت پورے ہندوستان میں اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ اندازہ کریں کہ ہندوستان میں جب بھی الیکشن ہونا ہوتے ہیں تو ہندوستان کی جانب سے کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ کر دیا جاتا ہے کہ جس کا الزام براہ راست پاکستان پر یا ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر لگا دیا جاتا ہے اور اس کے بعد کبھی پلوامہ اور کبھی پہلگام اور کبھی سمجھوتہ ایکسپریس جیسے واقعات کی آڑ لے کر نریندر مودی انتہا پسند ہندوﺅں کی ہمدردیاں حاصل کر کے ان کے ووٹوں سے اپنی جیت یقینی بناتا ہے۔ مودی سرکار میں اس قسم کے کارنامے صرف ہندوستان میں نہیں ہوتے بلکہ ہندوستان سے باہر سات سمندر پار بھی کیے جاتے ہیں جن کی واضح مثالیں کینیڈا اور دیگر ممالک میں خالصتان تحریک کے سکھ رہنماﺅں کا قتل ہے اور تفتیش کے بعد وہاں کی حکومتوں نے اس کا براہ راست ذمہ دار مودی سرکار کو قرار دیا ہے۔
ان عوامل کے باعث ”گجرات کے قصائی“ مودی کے سیاسی تابوت کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے مودی کی بجائے فیلڈ مارشل صاحب سے ملاقات اور پھر ان کی تعریف کر کے مودی کو سیاسی تابوت میں لٹانے کا پورا پورا بندوبست کر دیا تھا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ گئے تو انتہائی غیر متوقع طور پر انہیں ٹرمپ نے ظہرانہ پر مدعو کیا اور یہ کسی بھی پاکستانی آرمی چیف کے لیے پہلا موقع تھا کہ ان کے اعزاز میں کسی امریکن صدر نے ظہرانہ دیا تھا اور پھر بعد میں دو مواقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی تعریف بھی کی تو فیلڈ مارشل صاحب کے بغض میں مبتلا بہت سے لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو سکی اور بار بار پوچھا گیا کہ آخر اس ملاقات میں ٹرمپ نے فیلڈ مارشل صاحب سے کیا مانگا اور انہوں نے کیا دیا تو ہمارے خیال میں ہندوستان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے تو اس سے بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ فیلڈ مارشل صاحب اور ڈونلڈ ٹرمپ میں سے کس نے کس سے کیا مانگا تھا اور کس نے کس کو کیا دیا۔ اس کے علاوہ اب ہر روز انڈین کانگریس میں مودی کی جو کلاس لی جا رہی ہے تو اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ حزب اختلاف مودی سے پوچھتی ہے کہ ٹرمپ 29 مرتبہ کہہ چکا ہے کہ اس نے صلح کرائی ورنہ پاکستان نے ہندوستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانا تھا اور اس پر مودی کے پاس راہ فرار کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اب راہول گاندھی نے کہا ہے کہ پچاس فیصد ٹیرف کے بعد مودی کو مستعفی ہو جانا چاہئے۔ اب تابوت تو تیار ہے اور اگلے الیکشن میں اسے دھوم دھام سے اٹھایا جائے گا۔
مودی کے سیاسی تابوت میں آخری کیل
09:05 AM, 9 Aug, 2025