انگریزی سال کا آٹھواں مہینہ اگست پاکستان کے قیام کا مہینہ ہے ۔ یہ مہینہ آئے تو برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی اپنے عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے اور آزاد اسلامی مملکت پاکستان کے قیام کے لئے کی جانے والی لازوال جدو جہد اور بے مثال قربانیوں سے عبارت تاریخی حالات وواقعات کی یاد انگڑائیاں لینے لگتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ کاش آٹھ ، نو عشرے قبل کے اُس زمانے میں پہنچ جائیں جب پورا برصغیر جنوبی ایشیا ”بٹ کر رہے گا ہندوستان اور بن کر رہے گا پاکستان “ کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہا تھا۔ ظاہر ہے اب ایسا ممکن نہیں لیکن اُس دور کے حالات و واقعات کا گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را کے طور پر تذکرہ تو کیا جاسکتا ہے۔
برصغیر جنوبی ایشیا میں آزاد اسلامی ریاست یا مملکت کا قیام بلا شبہ تاریخِ عالم کا ایک ایسا واقعہ ہے جس کی قوموں کی تاریخ میں اور کوئی مثال نہیں ملتی۔ آزاد مملکت پاکستان جسے مملکتِ خدادادِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے کا قیام ایک نظریے جسے دو قومی نظریہ یا نظریہ پاکستان یا اسلامی نظریہ حیات یا مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص کا نظریہ کے نام دئیے جاتے ہیں کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ یہ اللہ کریم کا خصوصی کرم ہے کہ پچھلے تقریباً ڈیڑھ دو عشروں بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ برسوں سے اس بندہ ناچیز کا یہ معمول چلا آ رہا ہے کہ 14 اگست یومِ آزادی کے موقع پر اپنے اخبار کے لئے کوئی کالم یا مضمون ضرورلکھتا ہوں جس میں برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی انگریزوں سے آزادی اور اپنے لیے آزاد مملکت کے حصول کے لئے کی جانے والی جدوجہد کے بارے میں تاریخی حقائق جو تبدیل ہونے یا جھٹلائے جانے والے نہیں ہیں کا ذکر ہوتا ہے تو اس کے ساتھ قیامِ پاکستان کے حوالے سے کچھ دیگر باتوں جو پڑھنے ، سننے اور جاننے میں آئی ہیں یا گاہے گاہے آتی رہتی ہیں کا تذکرہ بھی ہو جاتا ہے۔ سچی بات ہے قیامِ پاکستان کے حالات و واقعات کا تذکرہ کرنا یا اُن کے بارے میں کچھ لکھنا میرے لئے ایک مشن اور جذبے کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس سے ہم اپنی نئی نسل کو وطنِ عزیز ، مملکت ِ خدادادِ پاکستان کے قیام کے مقاصد ، اس کی اہمیت اور قدروقیمت سے آگاہ کر سکتے ہیں۔
حسبِ روایت تمہید کچھ طولانی ہو گئی ہے تاہم آج کے اپنے اس کالم کے نفسِ مضمون کے حوالے سے میں کہنا چاہوں گا کہ اس میں اگست 1947 ءمیں قیامِ پاکستان کے وقت جب میری عمر ساڑھے چار، پونے پانچ سال کے لگ بھگ تھی کے وقت کی اپنے ذہن کے نہاں خانے میں موجود بھولی بسری اور آدھی ادھوری یادوں جن کا تعلق اپنے گاﺅں یا قصبے چونترہ جس میں سکھ اور ہندو بالخصوص سکھ کافی تعداد میں بستے تھے سے جُڑتا ہے کا ذکر ہو گا تو اس کے ساتھ اپنے بڑوں اور بزرگوں سے سکھوں اور ہندوﺅں کی تقسیم کے وقت گاﺅں سے نقل مکانی کرنے اور بھرے پُرے گھر اور مکانات ، دکانیں، زمینیں، جائیدادیں، کھیت کھلیان اور زرعی اراضی چھوڑ کر جانے کے حوالے سے حالات و واقعات کا بھی کچھ تذکرہ کیا جاسکتا ہے۔
ہمارے گاﺅں چونترہ جو تھانہ چونترہ ضلع راولپنڈی کا صدر مقام ہے اور تقسیم کے وقت ضلع اٹک (کیمبل پُور) میں شامل تھا میں جیسے اُوپر کہا گیا ہے سکھ اور ہندو کافی تعدا دمیں آباد تھے ۔ سکھوں میں کچھ مونے سکھ بھی تھے ۔ مونے سکھ اُنہیں کہا جاتا ہے جو سر اور داڑھی کے لمبے بال نہیں رکھتے ورنہ سکھوں کے ساتھ ”ک“ کے حرف سے شروع ہونے والی پانچ اشیاءکے نام منسوب ہیں۔ ان میں ”ک“ سے کیس جس کا مطلب ہے سکھوں کے سر اور داڑھی کے لمبے بال جنہیں منڈوایا نہیں جاتا ۔ ”ک“ کے حرف سے شروع ہونے والی باقی چار اشیاءکے نام کچھ اس طرح ہیں ۔ ”ک“سے کنگھا، ”ک“ سے کڑا(کلائی میں پہنا جانے والا دھات کا کڑا) ، ”ک“ سے کچھا(انڈروئیر وغیرہ) اور ”ک“ سے کرپان(تلوار کی طرح کا ایک ہتھیار) وغیرہ شامل ہیں۔ ہمارے گاﺅں میں تقسیم کے وقت لوئر مڈل نان ورنیکولر سکول تھا ۔ یہ وہ سکول ہوتے تھے جن میں چھٹی تک کلاسز ہوتی تھیں لیکن انگریزی کا مضمون نہیں پڑھایا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں اپنی چھوٹی عمر میں ایک دن اپنے بڑے بھائی کے ساتھ اس سکول میں گیا ۔وہاں ایک سے زیادہ لمبی داڑھیوں اور سر کے گھنے لمبے بالوں اور سکھوں کے مخصوص انداز میں پگڑیاں باندھے سکھ اُستاد بھی تھے ۔ ایک اُستاد کا نام مجھے کچھ یاد آ رہا ہے شاید ہری سنگھ تھا۔
گاﺅں میں سکھوں اور ہندوﺅں کے پختہ رہائشی مکانات جن میں کچھ چوبارے یا دو منزلہ بھی تھے کے ساتھ اُن کی عبادت گاہیں بھی بنی ہوئی تھیں۔ گاﺅں کے بالکل درمیان میں اُونچی جگہ پر ایک خوبصورت دو منزلہ عمارت موجود تھی جسے گوردوارہ (سکھوں کی عبادت گاہ) کہا جاتا تھا ۔ قیامِ پاکستان کے بعد کئی برسوں تک یہ عمارت قائم رہی پھر امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں بوسیدہ ہونا شروع ہو گئی اور قریب کے کسی رہائشی نے اس پر قبضہ جما لیا۔ آج کل اس جگہ پر یوفون کا ٹاور ایستادہ ہے۔ اسی طرح گاﺅں کا اُس دور کا بازار جس میں زیادہ تر ہندوﺅں اور سکھوں کی دکانیں تھیں وہ بھی کچھ کچھ موجود ہے ۔ اس کے سِرے پر پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف (ڈاکخانے) کی عمارت ہوتی تھی جو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اب بھی موجود ہے اس کے بالمقابل ایک بڑی ڈیوڑھی اور اُونچی دیواروں والی پختہ اور کشادہ عمارت ہے جسے دھرم شالہ (سکھ اور ہندو مسافروں کے ٹھہرنے کے لئے مسافر خانہ) بنا ہوا تھا ۔ مسافر خانہ یا دھرم شالہ کی یہ عمارت پچھلی صدی کے پچاس کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں جب مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجر کنبوں کو ہمارے گاﺅں میں آباد کیا گیا اور انہیں سکھوں اور ہندوﺅں کے چھوڑے ہوئے مقانات اور زمینیں وغیرہ الاٹ کی گئیں تو ایک مہاجر کے نام پر دھرم شالا کی یہ عمارت بھی الاٹ کر دی گئی۔ بہت عرصے تک یہ عمارت تھانہ چونترہ میں تعینات ہونے والے تھانے داروں کی رہائش گاہ کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی۔ اب یہ عمارت تھانے کے تصروف میں نہیں ہے بلکہ اس میں دو چار دکانیں بنا دی گئی ہیں ۔ اس عمارت کے قریب ایک اور بڑی دو منزلہ عمارت جسے سکھ سردار کا چوبارہ بھی کہا جاتا تھا اب بھی بوسیدہ حالت میں موجود ہے۔ اس عمارت کی ایک بڑی سی ڈیوڑھی جس کے لکڑی کے دروازے پر جہاں بڑا خوبصورت اور محنت طلب کام نظر آتا تھا وہاں اس ڈیوڑھی کے دائیں بائیں کے حصوں میں خوبصورت رنگوں میں پھول بوٹے بھی بنے ہوئے تھے۔ یہ عمارت اور اس کے دروازے کی چوکھاٹ تو اب بھی موجود ہے لیکن دروازے کے پٹ عرصہ ہوا کوئی نکال کر لے گیا تاہم اس کے اوپر چھت سے کوئی ڈیڑھ دو فٹ نیچے ”دھن دیو مہاراج گورونانک جی “ کے الفاظ اب بھی پڑھے جاسکتے ہیں۔ ان کے اوپر عمارت کے مالک کا نام لعل سنگھ جسے بعد میں لال خان بنایاگیا کے نام مدھم نیلے رنگ میں دکھائی دیتے ہیں ۔ لعل سنگھ سے لال خان کیسے بنا اس کی تفصیل اور اس کے ساتھ ایک سکھ ٹھیکیدار لعب سنگھ (لبھو)جو ہماری زمین پر کچھ اور شراکت داروں کے ساتھ اینٹوں کا بھٹہ چلاتا تھا اور والدِ گرامی حاجی ملک محمد خان مرحوم و مغفور سے اُس کے گہرے دوستانہ تعلقات تھے کے بارے میں تفصیل ان شاءاللہ اگلے کالم میں بیان کی جائے گی اور اس کے ساتھ یہ ذکر بھی ہو گا کہ ہندو اور سکھ کنبوں کے گاﺅں سے نقل ِ مکان کے وقت کیسے سکھ بٹالین کی ایک کمپنی کے ٹرک ہمارے گاﺅں پہنچ گئے اور انہوں نے خوف و ہراس کی فضا قائم کرتے ہوئے ہمارے گاﺅں کے ایک کسان جس کا نام غالباً غلام نبی تھا اور گاﺅں کے باہر اپنے کھیتوں میں کام کر رہا تھا کو ہی گولیوں سے نہ بھون کر رکھ دیا بلکہ سکھ اور ہندو کنبوں کو بھی بحفاظت گاﺅں سے نکال کر لے گئے ۔
گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را۔۔۔!
09:04 AM, 9 Aug, 2025