کائنات میں ابلاغ کی اہمیت وافادیت سے انکار ممکن نہیں اور ابلاغ میں سب سے زیادہ اہمیت زبان کی ہے۔ اگرچہ ابلاغ کے زبان کے علاوہ بھی دو طریقے رائج ہیں۔ ایک تحریری صورت میں ابلاغ اور دوسرا اشاروںکے ساتھ۔ ابلاغ کی انسانی زندگی میں اہمیت سے انکار اس لیے ممکن نہیں کہ انسان اپنی بات کو، اپنی سوچ کو اور اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کا خواہش مند رہتا ہے۔ اس کی یہ خواہش اسے اکساتی ہے کہ وہ اپنی بات کو اس انداز سے آگے پہنچائے کہ سننے والے کو سمجھ بھی آئے اور اسے سراہے بھی۔ اس کے لیے وہ طرح طرح کے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ اپنی بات میں رنگ بھرنے کے لیے وہ بولنے کے لیے بہتر سے بہتر طریقے ڈھونڈتا ہے۔ لب و لہجے کو سنوارنے کے لیے الفاظ کی بناوٹ پہ غور و فکر کرتا ہے۔ اس کی یہ کوشش اس کے لب و لہجے کو تقویت بخشتی ہے اور وہ دوسروں سے بہتر بولنے لگتا ہے۔ اس طرح اس کے لہجے کی شفافیت اس کی الفاظ کی تقدیس و اہمیت میں اضافہ کر دیتی ہے۔ زبان بلاشبہ ابلاغ میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ زبان انسانی قبیلے کی پہچان کی حیثیت بھی رکھتی ہے اور اقوام اس معاملے میں کسی طرح کا سمجھوتا نہیں کرتیں۔ سوال یہ ہے کہ زبان کیا ہے؟ اس سوال کے کئی جوابات اذہان میں ابھرتے ہیں۔ اس لیے کہ انسانی دماغ ہر چیز کے متعلق سوچتا بھی ہے اور سمجھنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اس کی اسی کوشش سے کئی نئی باتیںبھی سامنے آ جاتی ہیں اور وہ کمال بھی دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ زبان کی ابتدا اور اس کی بناوٹ پہ بہت کچھ کہا گیا، لکھا گیا۔ زبان کی ابتدا کے متعلق یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
”دنیا بھر میں ان گنت زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بہتوں کا تو ہمیں علم ہی نہیں۔ نہ جانے کتنی زبانیں قعرِ گم نامی میںکھو چکی ہیں جب زبان اس کے مضمرات کے مسائل اور مباحث چھڑتے ہیں تو کوئی مخصوص زبان مراد نہیں لی جاتی، نہ ہی کسی عالمی یا آفاقی زبان کا تصور ذہن میں ہوتا ہے۔ کسی آفاقی زبان کا وجود رہا بھی نہیں ہے۔ ہاں گویائی کا ملکہ عالمی حیثیت ضرور رکھتا ہے، اسے حیاتیاتی ورثہ کہہ لیجیے یا دہبی عطیہ، دنیاکی مختلف زبانوںکے طرح طرح کے روپ اس کے مظاہر ہیں۔ ان کی ملتی جلتی خصوصیات کی تعمیم کا اطلاق تمام زبانوں پر ہو سکتا ہے۔ زبان سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے یہی تعمیم پیش نظر رہتی ہے۔ انسان نے اپنی طویل تاریخ میں جو اکتسابات کیے ہیں، ان میں انتہائی بیش بہا ’زبان‘ ہے۔ انسان کا سب سے زیادہ قابل تعریف کارنامہ زبان ہی ہے۔ زبان زندگی کے لیے ناگزیر تو نہیں لیکن انسان سے اس کی وابستگی کچھ اتنی زیادہ ہو چکی ہے اور وہ انفرادی اور سماجی زندگی کی ایسی ضرورت بن چکی ہے کہ اس کے بغیر انسان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری مخلوقات سے ممتاز کرنے کے لیے انسان کو حیوانِ ناطق بھی کہا جاتا ہے۔ سماجی رشتے زبان ہی کے ذریعے مستحکم ہوتے ہیں۔ ذہنی و تہذیبی اور اخلاقی و روحانی ورثے اسی کے مرہونِ منت ہیں۔ تمام علوم اسی کے سہارے وجود میں آتے رہے ہیں۔ تعلیم و تربیت کا ذریعہ بھی وہی بنتی ہے۔ فکری جولاں گاہوں کو اسی کی مدد سے طے کیا جاتا ہے۔“ خلیل صدیقی، زبان کیا ہے؟، بیکن بکس، لاہور، ملتان۔ ص۔ 9.10، 2016ئ
اسی طرح زبان کی اہمیت اور زبان کے معاملے میں انسان کی حساسیت کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ اس معاملے ہر قوم تھوڑی سی متعصب دکھائی دیتی ہے، وہ اپنی زبان کے ساتھ کسی زبان کو اس سطح پہ برداشت نہیں کرتی کہ اس کی حیثیت اس کی زبان سے بڑھی ہوئی محسوس ہو۔ یہ کوئی ایسی معیوب بات بھی نہیں اس لیے کہ زبان معاشرے کے تشخص کو ظاہر کرتی ہے۔ اردو زبان اس وقت دنیا کی بڑی زبانوں میں شمار کی جاتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے معاشرے پہ انگریزی کی چھاپ زیادہ ہے اس کہ باوجود بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو زبان کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں یا کرنے میں محو ہیں۔ کتاب ”اصلاحِ تلفظ و املا“ کی ابتدا میں ڈاکٹر تحسین فراقی نے چند تاثرات کے عنوان سے ایک مختصر مضمون تحریر کیا ہے۔ اس میں سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
”عربی کے دو مشہور مقولے ہیں: ”اَلناسُ بِاللباَسِ“ اور ”جمال ُ الانسانِ فی اللسانِ“ یعنی انسانی وقار اور باتوںکے اچھے اور شائستہ لباس سے وابستہ ہے اور انسان کا جمال اس کی زبان میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موزونی لباس و لسان اعلیٰ اور برتر تہذیب کے مظاہر ہیں اور اقوام و ملل کی شناخت اور پہچان ان سے وابستہ ہے۔ ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور اربابِ بست و کشادکی کوتاہ نظری کے باعث صیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ ہند ایرانی تہذیب کی مظہر یہ زبان اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پہ لکھا بولا جا سکے۔ اس باب میں بعض عمدہ کاوشیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ بعض کتب نصابی نوعیت کی ہیں اور بعض کا تخاطب قارئین کے متنوع اور وسیع حلقے سے ہے۔“ (طالب الہاشمی، اصلاحِ تلفظ و املا، القمر انٹرپرائزز، لاہور۔ ص۔7، سن ندارد)
جس طرح زبان درست انداز میں بولی جائے تو بولنے والے کے الفاظ میں اثر پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح تحریر کے وقت بھی کچھ قاعدے اور دستور ہونے ضروری ہیں۔ بولنے میں تو پھر بھی کہیں نہ کہیں سمجھوتے کے ایسے آثار ممکن ہیںکہ اگر تلفظ درست نہیں لیکن بات سمجھ میں آ جائے تو معاملہ حل ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ بولنے میں یہ چھوٹ ہر زبان میں میسر ہے۔ لیکن اس کے برعکس تحریر میںایسی کوئی چھوٹ موجود نہیں۔
(جاری ہے)
تحریر میں زبان کے مزاج کا خیال رکھنا لکھنے والے کی اولین ترجیحات کا حصہ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ تحریر میں اسلوب ہوتا ہے اور قلم سے یہ لہجہ میسر آتا ہے۔ اگر قلم سے نکلنے والے الفاظ اپنی صورت و ہیئت برقرار نہ رکھ سکیں تو تحریر بے رنگ اور بے ذائقہ ہو جاتی ہے۔ اس بے رنگی میں بات کا مزہ اس لیے کرکرا ہو جاتا ہے کہ بات سمجھ میں آنے کی حالت ہی میں نہیں ہوتی۔ جملوں کی بناوٹ اور لفظوں کا چناﺅ اس سلسلے میں اہمیت رکھتے ہیں لیکن سب سے زیادہ اہمیت املا کی ہے۔ اگر الفاظ کی ظاہری حالت ہی درست نہیں ہو گی تو اس کے باطنی معنی کبھی بہتر تاثر مہیا نہیں کر سکتے۔ بالکل اسی طرح جیسے انسان کھانا کھاتا ہے تو اس کھانے کو چبانے کے دوران اگر کوئی پتھر یا کنکر اس کے دانتوں تلے آ جائے تو اعلیٰ کھانے کا ذائقہ بھی بے مزہ ہو جاتا ہے، اسی طرح شاندار تحریر میں اگر املا کی غلطیاں آنکھوں سے ٹکرا جائیں تو بینائی کی رونق میں بھی فرق آ جاتا ہے۔ جو لطف تحریر کو پڑھ کر حاصل ہونا ہوتا ہے اس تحریر کا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے۔ کسی بھی زبان میں تحریر کی اہمیت سے انکار نہیں اور تحریر میں زبان کے قوانین بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ قوانین میں سب سے پہلے املا کی حیثیت نمایاں ہوتی ہے۔ اس لیے کہ املا سے زبان کے الفاط کے معنی ذہن پہ بناوٹ کے اعتبار سے واضح ہوتے ہیں۔ ہر زبان میں املا میں تھوڑا بہت مسئلہ بلاشبہ پایا جاتا ہو گا لیکن اردو زبان میں املا میں مسائل اس لیے زیادہ ہیںکہ اردو زبان لشکری زبان ہے۔ جب زبان میں الفاظ کئی زبانوں سے شامل ہوں تو اس طرح کے مسائل کا سامنے آنا ایک فطری بات ہے۔ ایک اور بڑی وجہ تلفظ کا مسئلہ بھی ہے اس لیے کہ برصغیر میں لہجوں کا فرق ہے اور لہجوں کے فرق سے الفاظ کی ادائیگی میں ایک فرق ابھرتا ہے یہی فرق تلفظ کی صورت میں سماعتوں سے ٹکرانے لگتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
”کسی زبان بولنے میںسب سے ضروری بات یہی ہوتی ہے کہ ہرلفظ کوصیح صیح اداکیاجائے۔مطلب توٹوٹے پھوٹے لفظوںمیںبھی پورا ہوجاتاہے لیکن صیح تلفظ کے بغیر زبان ،زبان نہیںرہتی۔عام گفتگو،تقریر،نظم خوانی،داستان گوئی،ریڈیائی نشر،غرضکہ ہرقسم کے بیان میں صحتِ تلفظ سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔مضمون اچھے سااچھاکیوںنہ ہو،مقررکی زبان سے کوئی غلط تلفظ اہل ذوق کواس طرح ناگوارگزرتاہے جسطرح کباب کھاتے وقت دانتوںمیںہڈی کاٹکڑاآجائے۔ایسی غلطی میںاکثرمقرر کی علمی قابلیت کے متعلق شبہ ہوجاتا ہے،خطابت اورزورِ بیان کاطلسم ٹوٹ جاتاہے اوربعض اوقات تومضمون کی افادیت بھی غیرمحسوس طورپرمجروح ہوجاتی ہے۔“(طالب الہاشمی،(اسدملتانی مرحوم)اصلاحِ تلفظ واملا،القمرانٹرپرائزز،لاہور۔ص۔17،سن ندارد)
برصغیر میںمختلف لوگوںکے لہجے بھی مختلف ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاںاردوزبان مقبول ہونے کے باوجود تلفظ کے ہیر پھیر میں الجھی ہوئی ہے۔یہاں مقامی لوگوں کے لب ولہجے میں بھی نمایاں فرق ہے اس لیے جب مختلف لہجوںکے لوگ ایک زبان بھی بولتے ہیںتوزبان الگ ہی محسوس ہوتی ہے۔یہاںجولوگ باہرسے آکر بسے ہیںان کے لہجے اور تلفظ کا فرق تو واضح طور پہ مختلف ہے اور یہاں ہر دور میں باہرسے آنے والے لوگوں کی ایک کثیر تعداد ہے۔وہ لوگ اپنی تہذیب وثقافت بھی یہاںلائے اورثقافت میں زبان کومرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔اردوزبان پہ مختلف زبانوں کا اثر ہے۔انگریزی زبان کودنیابھرمیںمقبولیت سے کسی کوانکار نہیں اس لیے کہ برطانیہ کا سیاسی تسلط اس سلسلے میں بہت کارآمد رہا۔وہ جہاںجہاں بھی پہنچے انہوںنے اپنی زبان کوبھی ترقی دی۔آج انگریزی زبان دنیا کی زبانوںمیں ممتاز حیثیت اختیار کر چکی ہے۔برطانوی لوگ جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح برصغیر سے جڑاانہوں نے یہاں کی زبانوں کوسمجھنے کے لیے کوشش کی لیکن اپنی زبان ایک درست لب ولہجے کے ساتھ بھی پہنچائی۔اس مسئلے میںانگریز بہت محتاط ہیں کہ ان کی زبان میں کسی قسم کا بگاڑ پیدا ہو۔ہمارے ہاں دوسری زبانوں بالخصوص انگریزی کوسیکھنے اور اس کے لہجے اورتلفظ پہ خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔اس سلسلے میں یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
”اکثردیکھاگیاہے کہ انگریزی زبان میںہم لوگ صحتِ تلفظ کابڑاخیال رکھتے ہیں۔اول توڈکشنریوںمیںصیح تلفظ عموماََدرج ہوتاہے،پھر کالجوںمیںپروفیسراس کے لیے خاص اہتمام کرتے ہیں،بعدازاں انگریزوںکے ساتھ بول چال میںصحیح تلفظ کا نمونہ ملتارہتاہے،نیزریڈیو بالخصوص بی بی سی لندن سے معیاری تلفظ سن کرتلفظ درست کیا جاسکتاہے۔اس کے برعکس اردوزبان میںنہ توصحتِ تلفظ کے تعلیمی ذرائع موجودہیںاورنہ اس کی طرف کوئی خاص توجہ کی جاتی ہے۔جس کاجس طرح جی چاہے،بولتاہے اوربالعموم کوئی کسی معیار کی پرواہ نہیں کرتا۔اردوزبان ،پاکستان کی قومی زبان ہے لیکن مشکل یہ آن پڑی کہ کسی علاقہ میںیہ زبان بولی نہیںجاتی،نیزہندوستان سے جواردوبولنے والے ادھرآئے ہیںوہ ہیںبھی مختلف علاقوںکے،اورآباد بھی متفرقمقامات پرہوئے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ اب کسی ایک جگہ کے بارے میں یہ نہیں کہاجاسکتاکہ یہاںکی زبان معیاری ہے۔خود ہندوستان میںبھی،جہاںاردوبولی جاتی ہے،وہاں کچھ تومختلف زبانوںکے خلط ملط ہوجانے سے اورکچھ ہندی زبان کے مصنوعی فروغ کی کوشش کے باعث ،معیاری زبان میںبہت کچھ فرق آگیاہے۔ان حالات میںاہلِ پاکستان کے لیے اوربھی ضروری ہوگیاہے کہ وہ اپنی قومی زبان کے معیاری تلفظ کے حفظ وبقا کے لیے خاص اہتمام کریںاورصحتِ تلفظ کاخاص خیال رکھیں۔“(طالب الہاشمی ،(اسدملتانی مرحوم)اصلاحِ تلفظ واملا،القمرانٹرپرائزز،لاہور۔ص۔17.18سن ندارد)
جب بول چال ٹھیک ہوگی ،تلفظ ٹھیک ہوگا توپھراگلا مرحلہ تحریر کاآتاہے۔تحریر میں املاکا کرداربہت اہم ہے۔اس لیے کہ املاکا درست ہونا تحریر کے حقیقی حسن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ایک ایسی زبان جوکئی ادوارسے گزری ہو،کئی لہجوںمیں ڈھلی ہو،کئی الفاظ کودامن میں سموکر ان کی اجنبیت کواپنایت میں ڈھالاہو،اپنے دامن کی وسعت کا اعلان کئی طرح سے کیا ہو،اس کا املا ایسا ہونا چاہیے تھا کہ اس میں اختلاف کی گنجائش کم سے کم رہے۔اس سلسلے میں بہت سے زبان سے محبت کرنے والوں نے اپنے اپنے ہنرکامظاہرہ کیا ہے اور ریاضت کے اثرات دکھائے ہیں۔ایسے ہی لوگوں میں ایک نام رشید حسن خان کابھی ہے۔”اردواملا“رشید حسن خان کی ایک ایسی کاوش وکوشش ہے جس نے بلاشبہ املا کے مسائل حل کرنے میں نمایاںکردارادا کیا ہے۔مجلسِ ترقی ادب،لاہور کے زیرِ تحت چھپنے والی یہ کتاب نئے ایڈیشن کی صورت میں 2014میں شائع ہوئی۔ڈاکٹر تحسین فراقی (ناظم مجلس ترقی ادب،لاہور)اس کتاب کے ناشر ہیں۔706صفحات پرمشتمل اس کتاب میں املاکے ان مسائل پہ گفتگوکی گئی ہے جواغلاط کی صورت میں رائج ہیں یاپھرہم لاعلمی کی بنیاد پہ ان اغلاط ہی کودرست سمجھے بیٹھے ہیں۔کتاب کا سرورق دیدہ زیب ہے،انتساب ڈاکٹر عبدالستار صدیقی مرحوم ،کے نام کیاگیا ہے۔پیش لفظ شہزاد احمد (مرحوم)نے تحریر کیا ہے۔شہزاد احمد کے پیش لفظ میںسے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
”زندہ قومیںاپنی زبان کی حفاظت اور تزئین ایک مسلسل شعوری عمل کے طور پرکرتی ہیں۔زبان کے اصول وقواعد کا مطالعہ اورتحقیق زندہ اورباوقار قوموںکی حیات کے لیے اُتنا ہی ضروری ہے جتنازندگی گزارنے کے لیے نظم وضبط اور ضابط حیات لازم ہے۔اردوکی بقاوترقی کے لیے اس کے اصول وضوابط کے اورمعیارات پرتحقیق کر کے اس کے نتائج سے حامیاں واہالیان ِ اردوکومستفید کرنانہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ اردوزبان کے حق میں نیک فال بھی ہے رشید حسن خان کی پیشِ نظرکتاب ”اردواملا“انھی خصوصیات کی حامل ہے۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے ،جو اب مرحوم ہوچکے ہیں،تحقیق اورتلاش کے بعد اردوزبان میںالفاظ کی املا کے اصول اورقواعدواضح کیے ہیںتاکہ اردوداں طبقہ اردوزبان کے صحیح خدوخال سے آگاہی حاصل کرسکے اوراس کی تاریخ اورروایت کومدِ نظررکھ کراس کے استعمال میںمعیارات کی پیروی کرسکے۔“ (رشید حسن خان،اردواملا، مجلس ترقی ادب،لاہور، ص۔5 ،2014)
رشیدحسن خان نے الفاظ کی بناوٹ پہ زور دیااوراملاکوزبان کے معاملے میں سرِ فہرست رکھا ہے۔املا کاتعلق براہِ راست تحریر کی صورت سے ہوتاہے۔جس چیزکی صورت پُرجمال ہواس کی باطنی کیفیت تک پہنچنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے اورعام قیاس بھی یہی بنتاہے کہ یہ بہتر تحریرہوگی۔اس لیے کہ لکھنے والے نے بنیادی شرائط کوپورا کرنے میںاپنا کردارابھرپورادا کیاہوتاہے۔جوابتدامیںٹھیک ہواس کی انتہا بھی بہتر ہی گنی جاتی ہے۔ اردوزبان میں قدم قدم پہ ایسے کئی مسائل موجود تھے جن کے لیے باقاعدہ قانون کی ضرورت تھی۔املا کوٹھیک کرنے کا مقصد بنیادی طور پہ یہ ہوتاہے کہ ان الفاظ کوواپس زبان کے اصل بہاﺅمیںشامل کیا جائے جوکسی نہ کسی طرح تغیر کے نام پہ اغلاط کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔اس کی کئی مثالیںہیں،املا میںایسے الفاظ موجود ہیں،جن میںابہام پایاجاتاہے۔وہی الفاظ املا میںاغلاط کاسبب بنتے ہیں۔مثلاََ” ہ“اور”ح“کا فرق ایسے ابہام کی وجہ ہے۔جیسے ”اژدحام،اژدہام،ازدہام“یہ سب غلط صورتیںہیں۔”ازدحام“یہ درست صورت ہے۔رشیدحسن خان نے ”اردواملا“کے ابتدائیہ میںتحریرکیاہے۔اقتباس ملاحظہ کیجیے
”اردومیںقواعد زبان کے جن اہم مسائل کی طرف کم توجہ کی گئی ہے،ان میں املاکے مسائل کوفہرست میںسب سے اوپررکھاجاسکتاہے۔جس طرح یہ معلوم ہوناچاہیے کہ ہم جس لفظ کوبول رہے ہیں،اس کا مفہوم کیا ہے ،اسی طرح یہ بات بھی معلوم ہوناچاہیے کہ ہم جس لفظ کولکھناچاہتے ہیں،اس کی صحیح صورت کیاہے۔بل کہ صورت کے علم کی اہمیت زیادہ ہے اوراس کی دووجہیںہیں:پہلی بات تویہ ہے کہ مادری زبان کی تعلیم کے شروع ہی میںطالب علم کی نظر،یادداشت اورقلم ،پہلے لفظوں کی صورتوںسے شناسا ہوتے ہیں۔ضرورت بھی اسی کی ہوتی ہے،کیوں کہ ابتدائی نصاب میںشامل عام لفظوںکے معنی مطلب تووہ جانتا ہی ہے ،اس منزل پروہ صرف صورت نویسی کوسیکھتاہے۔آگے چل کر جب خاص خاص لفظوں کے معانی ومفاہیم کوذہن نشین کرانے کی نوبت آتی ہے تواس وقت تک وہ صورت شناسی کے مرحلے سے گزر چکاہوتا ہے،یعنی رسم خط کے لکھنے کا جوطریقہ ہے،وہ اسے سیکھ چکاہوتاہے،اورروشِ خط ،حرفوںکے جوڑ پیوند ،نشست،ان سب بنیادی امور کی تکمیل ہوچکی ہوتی ہے۔اس لحاظ سے دیکھاجائے تومعلوم ہوگاکہ مادری زبان کی تعلیم کے آغاز ہی میںبنیادی حیثیت الفاظ کے املاکی ہے۔“(رشید حسن خان،اردواملا، مجلس ترقی ادب،لاہور، ص۔5 ،2014)
رشید حسن خان نے اس بات کی مزیدوضاحت کی ہے۔”اردواملا“میںفاضل مصنف نے اسی تسلسل کوآگے بڑھایاہے اور الفاظ کے معانی ومفاہیم،الفاظ کے معنی کی وضاحت کچھ اس انداز میںکی ہے۔اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
”دوسری وجہ یہ ہے کہ معانی ومفاہیم میںکثرت کی جلوہ گری ہوتی ہے۔ایک لفظ کے ایک سے زیادہ معنی ہوسکتے ہیں،معانی کی تعداد سے کہیںزیادہ مفاہیم اس سے وابستہ ہوسکتے ہیں،اورکسی بھی لمحے پران میںٹھراﺅوالی کیفیت پیدا نہیںہوپاتی،مگرایک لفظ کی صورت ایک ہی ہوتی ہے۔یہ شرط نہیں لگائی جاسکتی کہ بولنے والے کولفظ کے سب معنی معلوم ہونا چاہیے،البتہ لکھنے والے کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ لفظ کی صورت کا صحیح طور پرعلم رکھتا ہو۔جس قدر معانی آج ایک لفظ سے نسبت رکھتے ہیں،بہ خوبی ممکن ہے کہ ان کی تعداد میںکل اضافہ ہوجائے ۔نئے معانی پرانے معانی کوبے دخل بھی کرتے رہتے ہیں،یہ سب کچھ ہوتاہے،مگرلفظوں کا املااس طرح نہیںبدلتا۔“(رشید حسن خان،اردواملا، مجلس ترقی ادب،لاہور، ص۔11،2014)
ہمارے ہاں املا کا مسئلہ ہردور میںرہا ہے۔اس حقیقت کوتسلیم کرنا پڑے گا کہ حروفِ تہجی کوملاکرالفاظ بنانے میںکئی ایسے الفاظ ہیںجوایک ہی معانی،ایک ہی تلفظ کے باوجود لکھے مختلف طریقوںسے گئے ہیں۔جس طرح ”ہ“مختفی کا مسئلہ ہے۔اس کوکئی جگہ جہاں”الف“استعمال ہوناچاہیے وہاں”ہ“ لگا کراملاکامسئلہ پیداکردیا جاتا ہے۔ہم آج بھی الفاظ کے ان الجھاﺅمیںہیں کہ ”مجھ کو“لکھنادرست ہے یا”مجھکو“،”معمہ“لکھنا چاہیے یا معما۔”بھروسہ“یا پھر” بھروسا“لکھنا صحیح ہے۔ایسے ہی معاملہ ”ڈرامہ“ اور”ڈراما“میں ہے۔ایسے اور بھی بہت سے الفاظ ہیں۔رشید حسن خان نے ساری محنت اسی بحث کوصحیح سمت لے جانے کے لیے کی ہے۔”اردواملا“میںانہوں نے ان مسائل پہ روشنی ڈالی ہے تاکہ اردوپڑھنے والے ایک سمت کا باقاعدہ تعین اصولوں کی بنیاد پہ کریں اور یہ جورسمِ دیرینہ چلی آرہی تھی، اس کودرست کرکے زبان کی اچھی صورت ابھاری جا سکے۔اس سلسلے میں یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
”صحتِ املا کا دائرہ وسیع ہے۔جن لفظوںمیںکسی طرح کی غلط نگاری راہ پاگئی ہے،ان کوصحت دائرے میںواپس لانا،اس کاخاص مقصد ہے۔جیسے ”بھروسا“کو”بھروسہ“ لکھنایا”معما“کو”معمہ“لکھنایا”بارہ“کو”بارا“لکھنا۔یہ کہا جائے گا کہ ”بھروسا“اور”معما“صحیح املاہے،اور”معمہ “اور”بارا“غلط املاہے۔”اژدحام“ ،”اژدہام“ ،”ازدہام“ ،یہ سب غلط صورتیںہیں۔لفظ کی صحیح صورت ہے :”ازدحام“۔”آذر“(نام )،”ذکریا“ ،”ذخار“ ،یہ سب لفظ ’ذال‘کے بجائے ،’ز‘ سے صحیح ہیں،یعنی:”آزر“ ،”زخار“ ،”زکریا“۔ان سب لفظوں می ںکسی بھی زمانے میںکسی قسم کا تغیر نہیں ہواہے،محض ناواقفیت نے غلط نویسی کے پھیرمیںڈالاہے۔“(رشید حسن خان،اردواملا، مجلس ترقی ادب،لاہور، ص۔15،2014)
املاکے اصولوں کوسہی معنی میں سمجھنے سے قبل یہ جاننااہم ہے کہ املا کیاہے؟اوریہ کہ زبان کی اہمیت میںکس طرح اس کا انداز مرکزی ہے؟املاکے غلط ہونے کی صورت میں کس طرح زبان کا رنگ پھیکا پھیکا سا محسوس ہوتا ہے۔زبانوں میں الفاظ کی وضاحت لغات کے ذریعے کی جاتی ہے۔جس قدر لغات میں غلطیاں کم ہوںگی اسی قدراملا کا مسئلہ بھی کم ہوگا۔لیکن جب زبان میں نئے نئے الفاظ کی آمد ہوتی رہتی ہے اور وارد ہونے والے الفاظ کے لیے کوئی باقاعدہ قاعدہ بھی وضع نہ ہوتو اس نوعیت کے مسائل پیدا ہونا کوئی عجیب بات نہیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ املا کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کوئی ایسا کام کیا جائے،جس سے زبان کاتقدس واہمیت بھی مضبوط ہواورقوانین بھی اس طرح کے ہوںجوعام ہوجائیں۔اس سلسلے میں رشید حسن خان کے کام کوسراہنا چاہیے۔انہوںنے بلاشبہ املا کے مسئلے کوحل کرنے کے لیے ”اردواملا“جیسی کتاب کوترتیب دیا جس نے املاکا معاملہ حل کرنے میں نمایا کردارادا کیا۔املا کیا ہے ؟اس سلسلے میں یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
”املادراصل لفظوں میں صحیح صحیح حرفوں کے استعمال کانام ہے اورجوطریقہ ان حرفوں کے لکھنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے ،وہ ’رسمِ خط‘ کہلاتا ہے ۔ ‘ ‘(رشید حسن خان،اردواملا، مجلس ترقی ادب،لاہور، ص۔21،2014)
اس کے علاوہ بھی ایسے کئی اغلاط موجودہیں۔ہمارے ہاں”ئ“ کے استعمال میںبھی ایسے مسائل موجود ہیں۔کن الفاظ میں ”ئ“ استعمال کرنا ہے اور کن میں نہیں کرنا۔یہ تذبذب،بہت عام ہے۔”لئے“اس طرح لکھتے ہیںکچھ ”لیے “اس انداز میںلکھتے ہیں۔”ئ“ املا میںاہم ہے اس لیے کہ اس سے تلفظ تووہی برآمدہوتا ہے لیکن املاکا معاملہ بالکل الگ ہے۔اس لیے کہ تحریراورتقریر دوالگ چیزیںہیں۔زبان کی حقیقی صورت اسی وقت نمودار ہوتی ہے جب اس کی تحریر میں زبان کے اعتبار سے کمی کم سے کم نظرآئے۔اردوزبان کااندازاس لحاظ سے دیگر زبانوں سے مختلف ہے کہ اس کے حروف تہجی میںایسے کئی الفاظ شامل
ہیںجن میںاس نوعیت کے مسائل ہیں۔ان کا استعمال کرنے والوںنے اپنی سہولت کے لیے جیسے مناسب ہوا لکھناشروع کردیا۔املاکا معاملہ ایسا تھا کہ اس پہ ابتدا میںوہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔رشید حسن خان نے بلاشبہ املاکا جہاںجہان بھی مسئلہ در پیش ہونے کے امکانات تھے ان سب کواپہنی تحقیق کا حصہ بنایا اور اپنی تحقیق کواحاطہ قلم میںلا کرآنے والی نسلوں پہ احسان کیا ہے۔رشید حسن خان نے علمی انداز میں ،لغات کو سامنے رکھتے ہوئے املا کے مسئلے پہ بحث کی ہے۔پھران مسائل کوبھی موضوع بنایا ہے جولغات میں بھی مختلف طریقوں سے درج ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیںکرسکتا کہ لغت کی زبان میں شامل الفاط کوسمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔اگر الفاظ مختلف لغات میں،مختلف طریقوںہی کے ساتھ آئیں ہوںتو بھی املاکا مسئلہ ابھرتا ہے۔اس سلسلے میں یہ اقتباس ملاحطظہ فرمائیں
”لغت استناد کا اہم ترین ذریعہ ہوتا ہے،آج اگر کسی لغت کومرتب کیا جائے توسب سے پہلا مسئلہ وہاںبھی یہی ہوگاکہ لفظوںکااملاکیاہو؟کیوں کہ حروف کے تعین کی نسبت ہی سے لغت میںلفظوں کی فصلیںقائم کی جاتی ہیں۔انگریزی کے کسی لفظ میں کچھ شبہہ ہو،لغت اٹھاکردیکھ لیجیے،فوراََ قطعیت کے ساتھ معلوم ہوجائے گاکہ وہ کن حروف سے مرکب ہے اور ان حروف کی ترتیب کیا ہے۔اردولغات میں آپ کویہ کرشمہ بھی نظرآئے گا کہ الفاظ کے معانی تولازماََ صاحبِ لغت کے متعین کیے ہوئے ہوںگے ،مگربہت سے الفاظ کااملاکبی تومرتب کامتعین کیاہواہوگااورکبھی کاتب کا۔اوریہ بھی ممکن ہے کہ بعض جگہ کاپیوںکی تصیح کرنے والے بزرگ کی پسندیدگی کاکرشمہ ہو۔اس کے علاوہ ،املامیںعد م تعین نے جوپریشان کن رنگارنگی پیداکررکھی ہے،اس کے اثرسے ایک ہی لفظ دولغات میں دوطرح سے بھی مل جائے گا۔اب پڑھنے والاالجھتا رہے ۔میںدو مثالوں سے اس کی وضاحت کرنا چاہوںگا:
۱۔نوراللغات میں لفظ ”منہدی“کے ذیل میںمولف نے صراحت کردی ہے کہ اس لفظ میںہائے ہوز سے پہلے ’نون‘لکھناچاہیے،مگرفرہنگِ آصفیہ میں،یہی لفظ ”میم مع نون“کی فصل میں بھی مل جائے گااور”میم معہائے ہوز کی فصل میں بھی۔اب اگرایک شخص نے نوراللغات کودیکھا ہے،وہ تو”منہدی “کوصحیح سمجھے گا۔اوردوسرے نے اگر آصفیہ میں”میم مع نون“ کی فصل کوپہلے دیکھا ہے تووہ بھی” منہدی “کودرست مانے گا،لیکن اس نے اگر پہلے ”میم مع ہائے ہنوز“کی فصل دیکھ لی ہے تووہ مہندی کوصحیح سمجھے گا۔“ (رشید حسن خان، اردواملا، مجلس ترقی ادب،لاہور، ص۔19.20،2014)
رشید حسن خان نے الف ممدودہ کی وضاحت بھی کی ہے۔الفاظ کااملا اور املاکے بعد الفاظ کی ہئیت کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔”الف ممدودہ “دوالف کے برابرہوتا ہے۔اس لیے کہ ”الف“ کے اوپر مد کی علامت ،اسی دوسے ”الف“کی علامت ہے۔کسی زمانے میںالف ممدودہ ،دوالف کی صورت میں لکھا جاتا تھا۔مگرآہستہ آہستہ جب زبان کی صورت مین حسن زبان کارقص شروع ہوا تودوالف کی جگہ الف پہ مد کی علامت آنے لگی۔رشید حسن خان نے حروفِ تہجی کے لحاظ سے املا کے اصول واضح کیے ہیں۔اردوزبان پہ کئی زبانوں کے اثرات ہیں لیکن تسلیم کرنا پرے گا کہ عربی اورفارسی کے اثرات اردوپہ نمایاں ہیں ۔بالخصوص جب ہم املا کے مسائل پہ بات کرتے ہیں تویہ اثرات زیادہ واضح ہوتے ہیں۔املا میں ”ہ“ مختفی کے علاوہ ،”ت“اور”ة“کے مسئلے کوبھی رشید حسن
خان نے واضح کیا ہے۔عربی زبان میں ”ت“ اور”ة“کی صورتیں دکھائی دیتیں ہیں۔لیکن فرق آسان ہے جس کورشید حسن خان نے واضح کیا ہے کہ اگر”ت“لفظ کے آخرپہ آئے تو”الف“لگا کر دو زبر لگاتے ہیں۔جیسے دقتاََ،اردو میں بہت کم الفاظ ایسے ہیں جن میںدوزبر استعمال کیے جاتے ہیں۔چند الفاظ ایسے ہیںجیسے مثلاََ،حکماََ وغیرہ۔جن الفاظ کے آخر میں”ة“آتا ہے ،ان کے بعد ”الف“نہیں لگاتے۔جیسے دفعة ،ساعة۔وغیرہ۔اردومیں بھی بعض لوگوں نے اس عربی کی پیروی کرنے کی کوشش کی اورصلوة،زکوة لکھنے کوترجیح دی۔اس کے علاوہ” ت“اور”ط“ میں بھی فرق واضح کیا گیا ہے۔بہت سے ایسے الفاظ ہیںجو”ت“ہی سے لکھے جانے چاہیے تھے لیکن ہمارے ہاںوہ ”ط“سے لکھے جاتے ہیں۔جیسے ”طشت،طباشیر،“ان کو”ت“سے لکھنا چاہیے تھا۔اسی طرح ”طپیدن“اس کو بھی ”تپیدن“لکھنا چاہیے۔اسی طرح لفظ” تشنا“کی وضاحت کی گئی ہے کہ نوراللغات میں یہ اس انداز ہی سے درج ہے”تشنا“اس کی سند میں امانت کا شعر بھی درج ہے۔
زبان ِموج سے تشنا دیا جو دریانے
برس پڑی مری ہر آنکھ ،چشمِ ترکی طرح
لفظ ”ناطہ“لکھا جاتا ہے جب کہ یہ ”ناتا “ ہے۔اس کے علاوہ تنوین کا ذکر بھی بہت تفصیل سے کیا گیاہے اور زبانوں کے لحاط سے اس کی وضاحت کی گئی ہے۔رشید حسن خان دو”نون“ یکجا ہونے کی وضاھت بھی تفصیل سے کی ہے ۔انہوںنے بیان کیا ہے ایسے مصادرجن میںدو نون آجاتے ہیں۔جیسے،بننا،چھیننا،دھننا،مانناوغیرہ۔ان مصادرکی محرف صورت میں بھی ان کے دونوں ”نون“برقراررہیںگے۔جیسے،ماننے،دھننے،چھیننے اوربننے وغیرہ۔
اس میں کوئی شک نہی کہ رشید حسن خان کی کتاب”اردواملا“زبان کی ترویج کے لیے ایک اہم کتاب ہے۔اس لیے الفاظ کا املا تحریر کے لیے بہت ضروری ہے۔ہم جوگفتگوکرتے ہیں وہ عام طور پہ ہمارے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے لیکن جوچیز ہمیشہ زندہ رہتی ہے وہ تحریر کی صورت میں ہوتی ہے اور تحریر کا ذائقہ املا کی درستی کے بغیر معیاری ہو ہی نہیں سکتا۔اس حقیقی ذائقے کوزندہ تازہ رکھنے میں رشید حسن خان کی ”اردواملا“کوہمیشہ نمایاںحیثیت حاصل رہے گی۔
زبان اور املا کے مسائل
09:03 AM, 9 Aug, 2025