خرم مشتاق کی طرف سے دی جانے والی دعوت میں سیر حاصل گفتگو رہی۔ جس میں سے کچھ کا حال گزشتہ کالم میں انہی صفحات پر قارئین کی نذر کیا گیا۔ کچھ باتیں تشنہ طلب رہیں جوکہ کالم کی ضخامت کے باعث مکمل نہ کی جا سکیں۔ اس کالم میں ان باتوں کا تذکرہ ضروری سمجھا اور یوں گزشتہ کالم کا ہی ایک اور حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا پڑ رہا ہے۔ تاکہ معلومات ادھوری رہنے کی بجائے مکمل ہو سکیں کہ جو بات تاریخ اور عوام کی امانت ہے وہ ان تک پہنچانا فرض ہے۔ اس ملاقات میں ملکی حالات، عالمی سیاست، پاکستان کا بدلتا کردار، ٹرمپ کی پالیسیاں، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مقبولیت، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی، بلاول بھٹو کی بین الاقوامی پہچان سب پر بات ہوئی۔ مگر اس بار گفتگو کا اصل محور بیوروکریسی میں اصلاحات تھا، ایک ایسا موضوع جسے آزادی کے بعد شاید ہی کسی نے سنجیدگی سے چھیڑا ہو۔ دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں کی کامیابی میں بیوروکریسی کا کردار ریڑھ کی ہڈی جیسا ہے۔ حکومتیں وژن اور پالیسی دیتی ہیں، مگر انہیں عملی شکل دینے والا نظام بیوروکریسی ہی ہوتا ہے۔ ایک ایماندار، تربیت یافتہ اور غیر جانبدار بیوروکریسی بحرانوں کو سنبھالتی، منصوبوں کو مکمل کرتی اور عوامی اعتماد قائم رکھتی ہے۔ لیکن جب یہی نظام بدعنوان یا نااہل ہو جائے تو بہترین پالیسی بھی محض کاغذ پر رہ جاتی ہے۔ سنگاپور اس حوالے سے دنیا کے لیے مثال ہے۔ چند دہائی پہلے ایک چھوٹا سا ملک، محدود وسائل اور کوئی خاص جغرافیائی طاقت نہ رکھنے والا، آج عالمی معیشت میں صفِ اول پر ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے ایک مضبوط، شفاف اور میرٹ پر مبنی بیوروکریسی ہے۔ وہاں نوجوانوں کی بھرتی تعلیمی نتائج، ذہنی صلاحیت، اخلاقی معیار اور تخلیقی سوچ پر ہوتی ہے۔ بھرتی کے بعد انہیں مسلسل تربیت دی جاتی ہے، جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ رکھا جاتا ہے اور ایک سخت احتسابی نظام کے تحت کارکردگی ناپی جاتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ سرکاری ملازمین کو معقول تنخواہیں اور سماجی تحفظ ملتا ہے، تاکہ وہ کسی مالی یا سیاسی دباو¿ سے آزاد رہ کر کام کریں۔ بیوروکریسی کو صرف حکم ماننے والا شعبہ نہیں بلکہ پالیسی سازی اور منصوبہ بندی میں شریک سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے فیصلے بروقت اور مو¿ثر ہوتے ہیں، کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے اور ادارے خودمختار رہتے ہیں۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ہمارا ڈھانچہ اب بھی نوآبادیاتی دور کی باقیات پر کھڑا ہے، جہاں افسر کو عوام کا خادم نہیں بلکہ حاکم سمجھا جاتا ہے۔ تقرریاں اور تبادلے اکثر سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں، میرٹ کمزور پڑ چکا ہے۔ فائلوں کا غیر ضروری چکر، سست روی، غیر شفافیت اور کرپشن روزمرہ کا حصہ ہیں۔ احتسابی نظام کمزور اور تربیت پرانی طرز کی ہے، جو افسر کو صرف قواعد رٹواتی ہے مگر قیادت، حکمت عملی یا عوامی خدمت کا شعور نہیں دیتی۔ خرم مشتاق کی رائے تھی کہ پاکستان کو بیوروکریسی کی ازسرِنو تعمیر کےلئے محض جزوی اصلاحات یا وقتی اعلانات نہیں، بلکہ ایک بنیادی اور انقلابی ماڈل اپنانا ہو گا۔ فوج کی طرز پر سول سروسز کے لیے بھی مربوط اور مسلسل تربیتی ڈھانچہ قائم کیا جائے۔ جیسے آرمی کیڈٹ کالجز اور ملٹری اکیڈمیز فوجی قیادت تیار کرتی ہیں، ویسے ہی انتظامیہ، پولیس، معیشت اور آئی ٹی کے شعبوں کےلئے نیشنل سول سروس اکیڈمیز یا پبلک ایڈمنسٹریشن سکولز بنائے جائیں۔ یہ ادارے میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد نوجوانوں کو مخصوص
سروسز میں لے کر نظم و نسق، قیادت، قانون، ٹیکنالوجی اور اخلاقیات کی تربیت دیں۔ اس سے بیورو کریسی میں پیشہ ورانہ سنجیدگی، حب الوطنی، خود احتسابی اور مقصدی سوچ پیدا ہو سکتی ہے، جو آج زیادہ تر فوج میں نظر آتی ہے۔ بھرتی کا عمل مکمل طور پر میرٹ اور شفافیت پر مبنی ہونا چاہیے، سیاسی مداخلت کا خاتمہ ضروری ہے۔ احتسابی ادارے خودمختار ہوں، ریاستی تحفظ حاصل ہو اور سزا جزا کا نظام فوری اور غیر جانبدار ہو۔ کرپشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔ ڈیجیٹل گورننس اس اصلاحات کا اہم ستون بن سکتی ہے۔ فائلوں کے کاغذی نظام کو ختم کر کے ای۔گورننس اپنائی جائے، تاکہ عوامی خدمات، شکایات، تبادلے، ترقیاتی منصوبے اور بجٹ کی نگرانی آن لائن ہو سکے۔ اس سے تاخیر، کرپشن اور غیر شفافیت میں نمایاں کمی آئے گی۔ مزید یہ کہ بیوروکریسی کی تربیت کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے۔ افسران کو غیر ملکی اداروں میں بھیجا جائے تاکہ وہ جدید گورننس ماڈلز اور تقاضوں سے واقف ہوں۔ انہیں صرف فائل ورک نہیں بلکہ قیادت، ٹیم ورک، تخلیقی منصوبہ بندی اور عوامی اعتماد جیتنے کی صلاحیت سکھائی جائے۔ سنگاپور ہمیں دکھاتا ہے کہ ادارے کیسے قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔ پاکستان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ فوج کی طرز پر ایک مضبوط، خدمت گزار اور جدید بیوروکریسی تشکیل دے۔ اگر ہم سیاسی مفاد سے اوپر اٹھ کر میرٹ، شفافیت، ٹیکنالوجی اور تربیت کو اپنالیں، تو ریاست مضبوط اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بڑے دعووں کی ضرورت نہیں، بس سنگاپور جیسے عملی ماڈل سے سیکھ کر اپنے اندر تبدیلی لانی ہے۔ یہی تبدیلی ہمارے بیشتر مسائل کا حل بن سکتی ہے۔ یہ نشست بڑی متاثر کن اور گفتگو میں وطن سے وفاداری، اُنس کے ساتھ ساتھ قربانی اور فکرمندی بھی نظر آئی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ خرم مشتاق صاحب ان پوائنٹس کو نہ صرف وزیراعظم صاحب تک پہنچائیں گے بلکہ ان سے مکمل طور پر ڈسکس بھی کریں گے تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں معاشی ترقی کی منزل سے ہمکنار ہو سکے۔
خرم مشتاق! پاک سنگاپور بیوروکریسی
09:01 AM, 9 Aug, 2025