عمران نیازی کے پانچ اگست کے احتجاج کا وہی انجام ہوا جو متوقع تھا اور میں نے اپنے گزشتہ کالم میں لکھ دیا تھا اُس سے کچھ بھی زیادہ نہیں ہوا۔ غیر تربیت یافتہ ورکر ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہتا۔ افواج پاکستان کی ہیرو شپ چیلنج کرنے والوں کو ایک بار پھر منہ کی کھانا پڑی ہے اور آپ سو سال بعد بھی اگر ایسا تجربہ کریں گے تو انجام یہی ہو گا۔ جیل کے اندر اور جیل کے باہر لوگوں کے تجربات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اور جو جیل کے باہر ہیں ان کے اندر تین طرح کے لوگ ہیں۔ دوسری جماعتوں سے آئے سیاسی ورکر جو عمران نیازی کے سیاسی نظریے کو جانتے ہی نہیں اور ایک جعلی کمپین کے جھانسے میں آ گئے اُن کیلئے واپسی شرمندگی کا باعث بنی ہوئی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر وہ لو گ آتے ہیں جنہوں نے کبھی سیاست نہیں کی لیکن اکتوبر 2011ءکے مینار پاکستان جلسے کے بعد تحریک انصاف کا حصہ بنے، پاکستان تحریک انصاف اُن کی زندگی کی پہلی سیاسی جماعت تھی اور تیسرے وہ جو ہمیشہ سیاسی پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ غیبی اشاروں کے منتظر سیاسی ورکر ہوتے ہیں۔ حقیقی تحریک انصاف تو عمران نیازی اپنے ہاتھوں سے اقتدار کے دنوں میں دفن کر کے گیا تھا سو 5 اگست کو جو کچھ ہوا اُس میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ افواج ِ پاکستان 21 ویں صدی کے پہلے ربع میں اپنی مقبولیت کے عروج پر ہیں۔ عمران نیازی کی شکست بھارت کی شکست کے ساتھ ہی منظرِ عام پر آ گئی تھی البتہ ابھی پاکستان میں بھارتی پراکسیز گنڈا پور، مہ رنگ بلوچ، بلوچ دہشت گرد تنظیمیں اور طالبان کو شکست دینا باقی ہے کہ ان سب کے مرکب کا نام ہی فتنہ الہندوستان ہے۔ افواج ِ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف موجودہ جنگ میں قربانیوں کی نئی داستان رقم کی ہے۔ جس نے پاکستانی قوم کے مزاج کو یکسر بدل دیا ہے۔ ٹرمپ پاکستان کی تعریفیں کرتا نہیں تھک رہا لیکن ٹرمپ کے حوالے سے میرے تحفظات اپنی جگہ ہیں کہ وہ عمران نیازی کی اصل ہے جو کسی وقت بھی یوٹرن لے کر بھارت کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ کا ہمارے خطے میں قدرتی اتحادی بھارت ہی ہے کیونکہ اہلِ کتاب والا جھانسہ ہم قوم کو افغانستان وار میں دے چکے ہیں۔ سو اب اگر جنابِ ابراہیم کے نام سے کوئی معاہدہ سامنے بھی آیا تو وہ سوائے جھانسے کے اور کچھ نہیں ہو گا۔ بھارت پر گرائے جانے والا ٹیرف بم بظاہر بہت تباہ کن دکھائی دے رہا ہے لیکن ٹریڈ پالیسیاں کب بدل جائیں اِن کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن سرحدیں ساتھ رہتی ہیں کہ انہیںکسی صدارتی آرڈر سے بدلا نہیں جا سکتا۔
ملک ریاض کی موجودہ حالت دیکھ کر خدا کے انصاف پر یقین اور بڑھ جاتا ہے۔ جس کے آگے پیچھے طاقتور ترین لوگ بھاگے پھرتے تھے جو ریٹائرڈ جرنیلوں کو نوکریاں اور آن ڈیوٹیز کو سب کچھ فراہم کیا کرتا تھا، جس کی لا محدود قیمتی زمینوں کے چرچے ہم نے عمران نیازی کی زبان سے بھی سنے، جس کی طاقت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کا سول شہری ہونے کے باوجود ”بحریہ ٹاﺅن“ چلا رہا تھا۔ اُسے یہ نام کیسے ملا؟ کیوں ملا؟ کس نے دیا؟ اور ضیاءدور میں افغانستان وار میں کی گئی ”کمائی“ کس کس نے ملک ریاض کے ذریعے بیرون ملک وصول کی۔ ملک ریاض اچھا بزنس مین تھا اور پاکستان کے سیاسی اور ریاستی معروض میں اُس کیلئے ہر گنجائش موجود تھی۔ اپنا دیس حقیقت میں بنا ہی ایسے لوگوں کیلئے ہوا ہے لیکن کون جانتا تھا کہ ریاست ہمیشہ ایسے افراد سے تو افضل ہی ہوتی ہے سو کاروبار بھی کرنا اور ہر سہولت بھی لینا اور ریاست کے سامنے کھڑا بھی ہونا یہ کسی صورت ریاست کو برداشت نہیں ہوتا۔ آج وہ ملک ریاض جو کل تک ایک بڑے نیوز چینل پر بیٹھ کر اپنی مرضی کا سوال نامہ لکھوا کر پروگرام کرتا تھا، لمبے لمبے ایکس لکھ کر اپنے سے طاقتوروں کو یقین دلا رہا ہے کہ میں ”آئندہ کچھ نہیں کروں گا“۔ ملک ریاض کو امریکہ اور برطانیہ کے دوستوں سے دوستی نبھانا مہنگا پڑ گیا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک طویل انتظار کے بعد استحکام ِ پاکستان پارٹی کے انٹر پارٹی الیکشن کو قبول و منظور فرما لیا ہے۔ جس سے بے یقینی کی دھند جو عرصہ دراز سے چھائی تھی چھٹ گئی ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات و مرکزی صدر استحکام پاکستان پارٹی برادرم عبد العلیم خان اس موقع پر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے دن رات اس جماعت کو بنانے میں صرف کیا ہے۔ بہت سے ہیوی ویٹ اور لا تعداد سیاسی ورکرز جو اس انٹر پارٹی الیکشن کے نتائج کے منتظر تھے اور عبدالعلیم خان کے شانہ بشانہ ایک نئے عزم کے ساتھ اپنا سیاسی سفر شروع کرنا چاہتے تھے انہوں نے تنظیمی عہدیداروں سے رابطے شروع کر دئیے ہیں۔ یقینا یہی وہ وقت ہے کہ جب آئی پی پی کو عبدالعلیم خان کی قیادت میں ایک مکمل سیاسی جماعت بنانے کیلئے نہ صرف اپنا سیاسی ٹریننگ ونگ بنانا ہو گا بلکہ سیاسی تربیت کی نشستیں بھی کرانا ہوں گی۔ عبدالعلیم خان ایک بہترین منتظم ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ اپنا تنظیمی ڈھانچہ بناتے ہوئے سیاسی تربیت کو لازمی تنظیم کا حصہ بنائیں گے کہ یہیں سے اُن کو اپنے جانثار اور نظریاتی ساتھی ملیں گی۔
5 اگست کو تحریک انصاف کی کایا کلپ ہوتے دیکھ کر معراج محمد خان کی بڑی یاد آئی۔ معراج اکثر کہا کرتے تھے ”یہ پٹھان آسرا ڈھونڈ رہا ہے جس دن اسے آسرا مل گیا یہ سب کو چھوڑ کر بھاگ جائے گا لیکن یاد رکھو جن سیاسی جماعتوں کو حادثات جنم دیتے ہیں انہیں دوسرا حادثہ ختم کر دیتا ہے“۔ ہم نے یہ کرشمہ معراج محمد خان کی وفات کے بعد ہوتا دیکھا ہے۔ تحریک انصاف کی تثلیث دیکھنے میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، عمران نیازی اور سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کی ہی دکھائی دیتی ہے اور یہی تثلیث تھی جس نے تحریک انصاف کے ہر جائز ناجائز کام کی پشت پناہی کی۔ میری لیے یہ حیرت کی بات ہے کہ عدنان جمیل جو ڈاکٹر یاسمین راشد کا کارِ خاص تھا اور 9 مئی کی ویڈیو میں حسان نیازی کے ساتھ کھڑا ہے جس نے 9 مئی میں مرکزی کردار ادا کیا وہ کیسے ایف آئی آر سے باہر رہا جبکہ عدنان جمیل 5 اگست سے پہلے بھی ٹریڈرز کے ساتھ بہت زیادہ ایکٹو نظر آ رہا تھا۔ عمران نیازی اور فیض حمید تو یقینا سزا کے حق دار ٹھہریں گے لیکن جو ایکس سروس مین اس سارے کھیل میں شامل رہے ہیں انہیں بھی ان سزاﺅں میں شامل کرنا ہو گا کہ یہ کسی فرد نہیں پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہے جسے کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی رعایت کا مستحق ہے۔
نیازی، باجوہ اور فیض کی سزائی تثلیث
09:22 AM, 8 Aug, 2025