روز نت نئی بیماریوں کے ساتھ نئی دواو¿ں کے نام بھی سننے کو ملتے ہیں۔ نئے نئے طریقہ علاج کے ساتھ کئی ڈاکٹر اور ڈاکٹر نما ہمارے سامنے آتے ہیں۔ جب سے سوشل میڈیا کے استعمال نے زور پکڑا ہے ہر حکیم اور خفیہ و اعلانیہ امراض کے ڈاکٹروں نے منڈی میں اچھی خاصی جگہ بنا لی ہے۔ بلاشبہ طب کا میدان اب بہت وسیع ہو چکا ہے۔ اگر آپ غلطی سے ہسپتالوں اور میڈیکل سٹورز کے چکر لگائیں تو اندازہ ہو گا کہ وہ تمام مسائل جن کےلئے اتنی بڑی انڈسٹری لگائی گئی ہے، چند برس پہلے وجود ہی نہیں رکھتے تھے یا کم از کم غیر اہم ضرور ہوا کرتے تھے۔ غیر اہم ہونے سے مراد ان سے صرف نظر کرنا نہیں ہے بلکہ عملی زندگی میں ان سے کوئی فرق پڑتا نظر نہیں آتا تھا۔ آج کل نیوٹریشن کے ماہر آپ کو کیلوریز گن کر بتائیں گے جو پوری پوری ناپ تول کر آپ نے پیٹ کے سپرد کرنا ہیں۔ پھر کسی ایک شے میں پائے جانے والے خاص عنصر پر کئی کئی رنگوں میں ویڈیوز، اشتہارات بنا بنا کر پیش کریں گے۔ ایک آپ کو شیشم کے پتے جلا بجھا کر کھانے کی ترغیب دے گا دوسرا کسی شے کی جڑیں، تیسرا گھر میں چونا ابال کر روز استعمال کرنے اور ناک بند کر کے نگلنے کی تاکید کرے گا۔ اسکے بعد سپلیمنٹس کی باری شروع ہو گی۔ اس نیک کام کےلئے بعض ڈاکٹروں نے اپنے لفافے بنا کر مارکیٹ میں چھوڑ دئیے۔ کچھ نے آٹے، دالیں، بیج اور گنڈیریاں بیچنا شروع کر دی ہیں اور کچھ عقابی نظر رکھنے والوں نے انگریزی دواو¿ں کے ساتھ دیسی بدیسی، مخلوط نوعیت کے گیس پیدا کرنے والے کھٹے میٹھے معجون بھی بنا کر بیچنا شروع کر دئیے ہیں۔ آخر میں سرکس کے بازی گروں کی حرکتوں سے کشید کردہ ہزار رنگ کی ورزشیں بھی تیار کی گئی ہیں۔ ان کے ہزاروں رنگ ہیں اور ہزاروں انداز سے یہ پرفارم کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر جا بجا مل جائیں گی۔ کئی مہینوں کی جانچ پڑتال کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ آپ ٹانگ جیسے مرضی گھما لیں کسی نہ کسی سٹائل کی انگریزی، فرانسیسی یا ویدک ورزش ہو جائے گی۔ بس جوگرز اور ٹریک سوٹ پہن کر موڈ ورزش کا بنائیے آنکھیں چست کیجیے اور ہاتھ مروڑنا اور ٹانگیں گھمانا شروع کر دیجئے جہاں پسینہ چھوٹ جائے سمجھ لیجئے کام ہو گیا۔ اس عظیم کام کو انجام دینے کے لیے لاکھوں روپے کی مشینیں بھی بنا لی گئی ہیں۔ آپ اگر لاکھوں روپے خرچ نہیں کرنا چاہتے تو کسی جم میں جایا کریں۔ گاڑی پر سوار ہو کر کئی میل کا سفر کر کے جم جائیں اور وہاں جا کر سائیکل چلائیں یا ٹریڈ مل پر واک کریں۔ یا پھر انتہائی نزاکت کے ساتھ ایئر کنڈیشنڈ گاڑی میں بیٹھ کر جم جائیں اور کئی گھنٹے عجیب و غریب مشینوں پر اچھل کود کر کے پسینہ بہائیے۔ جم والے کو اپنی ہی جسمانی مشقت کی مناسب رقم دیجئے۔ پھر گاڑی میں سوار ہو کر واپس تشریف لائیے اور تخت نشین ہو کر ملازموں سے کام کرائیے۔
ہم نے یہ تمام ذہنی و جسمانی امراض فیشن اور لائف سٹائل کے نام پر قبول کیے ہیں۔ جو بات کئی بزار برس پہلے یونان کے ایپی کیورس کو سمجھ آ گئی تھی وہ ہمارے واعظین اور معالجین کو سمجھ نہ آ سکی کہ زندگی آسان اور سادہ ترین گزاریے۔ زندگی کی موجودہ پیچیدگیاں اس طرز زندگی کی دین ہیں جسے ہم نے ترقی کے نام پر قبول کیا ہے۔ مادی ترقی کا مطلب انسانی وجود کی تخریب اور اس کی نفسیاتی بربادی ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ بے جان اشیا کی آرائش اور سہولت کے نام پر محتاجی قبول کرنے سے زندگی کا سارا چلن ہی بدل چکا ہے۔ ہم اوٹ پٹانگ ورزشوں پر گرما گرم ویڈیوز بنا لیں گے۔ وزن کم کرنے، کھانا ہضم کرنے اور ہر گھر پائے جانی والی چھوٹی موٹی بیماریوں پر ہزاروں دروس اور دوائیں اکٹھی کر لیں گے لیکن روز مرہ کام کاج سے یہ سہولت اور علاج نہیں نکالیں گے۔ یہ بڑی سادہ سی بات ہے کہ جن عوامل نے مل کر ہماری مدافعت کا کباڑا کر دیا ہے ان کی نشاہدہی کی جائے اور مجموعی طور پر وہ طرز زندگی اپنایا جائے جو ذہنی اور جسمانی قوت کو بڑھانے اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کا وسیلہ بنے۔ ورنہ موجودہ معالج یہ کوششیں بھی پیش کرنے لگیں گے کہ خوراک چبانے اور پیٹ تک پہنچانے کے لیے ساتھ کیا کیا کھایا جائے، یا پھر ہر سانس میں آکسیجن کی زیادہ مقدار کس پمپ سے کھینچ کر زندگی گزاری جائے۔ ان صورتوں میں کئی میڈیکل کی اصطلاحات ایجاد ہونگی، ہزاروں طرح کے جراثیم کا فنکشن سمجھایا جائے گا اور یہ بھی بتایا جائےگا کہ کون کون سا ایلیمنٹ کیا کیا کرتا ہے اسکی کہاں کتنی ضرورت ہے۔ اسکے بعد چبانے اور پیٹ تک خوراک پہنچانے کےلئے کئی کلاسیکی، نیم کلاسیکی ورزشیں سامنے آئیں گی۔ بعد ازاں مشہور کیمیا دان سبزیوں کے پتے اور جڑیں لیں کر سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائیں گے۔ ورزش کے ماہرین الٹا لٹکنے، ناخن رگڑنے اور کان ناک میں سو سو بار انگلی گھمانے کے فائدے لے کر آ جائیں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ تمام امرض کی پیدائش میں ذہنی کیفیات کا بڑا عمل دخل ہے۔ آپ اس گورکھ دھندے سے باہر نکل کر روز مرہ کے تمام کام خود انجام دیجئے۔ اپنے دفتر یا دکان تک پیدل یا سائکل پر جائیے۔ یہ دو گھنٹے جم جا کر اچھلنے کودنے سے بہت بہتر ہے۔ اگر دفتر جانا ممکن نہ ہو تو مارکیٹ یا بازار تمام سودا سلف لینے روز پیدل جائیے۔ خواتین گھر کے کام خود انجام دیں۔ صفائی ستھرائی کے کاموں میں یوگا کی تمام ورائٹی پرفارم ہو جائے گی۔ اگر سل بٹے اور نلکے وغیرہ کا استعمال ممکن ہو تو جم کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جم جا کر اپنے بچوں کو ٹیوشن بھیجنے کی بجائے ان کو خود پڑھائیں۔ باقی وقت میں انکے ساتھ گراو¿نڈ یا پارک میں جا کر کرکٹ، ہاکی یا فٹ بال وغیرہ کھیلیں۔ خواتین اگر لڑکیوں کے ساتھ ایسی گیم یا کھیل کھیل سکیں جس میں جسمانی ورزش اور تفریح دونوں شامل ہوں تو کیا ہی بات ہے۔ گھروں کے سامنے اور اپنی کمیونٹی میں بچوں کے کھیلنے کی روایت کو زندہ کیجئے۔ بارش میں گھروں کے سامنے کھل کر کھیلئے۔ ایک دوسرے سے اچھے تعلقات قائم کیجیے اور گھروں میں کسوٹی، بیت بازی، انتاکشری جیسے کھیلوں کی محفلیں جمائیں۔ دوسروں کے کاموں میں انکی مدد کریں۔ صرف پیسہ کمانے والی مشین بن کر دماغ کو پریشر کُکر بنانے کی بجائے پُر سکون اور خوشحال طرز زندگی کو اپنائیں جس میں محتاجی نہ ہو۔ اگر آپ جوان ہیں تو کچھ وقت بزرگوں کے ساتھ ضرور گزاریں اس سے ایگریشن میں کمی ہو گی اور اگر بزرگ ہیں تو جوانوں کے ساتھ بھی تھوڑا وقت گزاریں۔ اس سے زندگی امید اور جوش قائم رہے گا۔ ایک دوسرے سے گاڑی، کوٹھی یا کپڑوں کے مقابلے کرنے کی بجائے کھیل، تعلیم، تخلیقی سرگرمیوں اور دیگر مشاغل میں مقابلہ کیجیے آپ ذہنی طور پر توانا رہیں گے۔ ورنہ روز نئی بیماریوں کے تعارف اور ان کے علاج کے ساتھ کوئی نہ کوئی ایکسپرٹ، حکیم یا موٹیویشنل سپیکر مچھلی کے سرے پائے اور گھوڑا گھاس کھانے کے فوائد کے ساتھ ویڈیوز میں نمودار ہو گا۔
زندگی آسان بنائیے
09:21 AM, 8 Aug, 2025