آدھے جانور، آدھے انسان اور قسمت آزمائی

09:21 AM, 8 Aug, 2025


آج تو چوپال میں رونق لگی ہوئی تھی۔ چاچا رفیق، چاچا رشید، نتھو، پھتو، باﺅجی سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ نجانے کس بات کو لے کر قہقہوں کی محفل جمی ہوئی تھی۔ اچانک چپ سائیں کی آمد کے ساتھ سب سنجیدہ ہو گئے۔ چپ سائیں نے دریافت کیا۔۔۔ کیا بات ہے بھئی دوستو! آج تو چوپال میں قہقہوں کی آواز دور سے ہی آ رہی تھی۔۔ خیریت تو تھی۔۔۔ چاچا رفیق ہمت کر کے بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔ دراصل سب اس بات پر ہنس رہے تھے کہ مثل مشہور ہے ”بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی“ ۔۔۔ لیکن سائیں جی موجودہ دور میں تو یہ محاورہ اب بدل کر یہ ہونا چاہیے ”گدھے کی ماں کب تک خیر منائے گی“ ۔۔۔ یہ سن کر چپ سائیں سمیت سب دوبارہ ہنس دئیے۔۔۔
چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔۔ بھائی رفیق۔۔ بات تو سچ ہے کہ آج کل گدھے کا گوشت کھانے کی خبریں آ رہی ہیں یہ خبریں وفاقی دارالحکومت سے آ رہی ہیں ۔۔ اور ہم بھی ناں۔۔۔ بس یہ والا گوشت کھا کھا کر ”ذہانت“ کی انتہا کو پہنچ رہے ہیں۔۔۔ اس پر پھر سب ہنسنے لگے۔۔۔ چپ سائیں سے چاچا رشید نے کہا کہ ۔۔۔ سائیں جی آج کچھ ایسی باتیں کریں جن سے زندگی کی کڑواہٹ مٹھاس میں بدل جائے۔۔۔ چپ سائیں گہری سوچ کے بعد بولے۔۔۔ حق ہو!۔۔۔ دوستو! واقعی ہر شخص کی زندگی میں مشکلات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ ”کڑواہٹ“ کا احساس زیادہ اور ”مٹھاس“ کم ہو گئی ہے۔
بھئی دوستو! پاکستان زرعی ملک ہے، اور اب لگتا ہے کہ ہم ”زرعی“ کے ساتھ تھوڑا ”ترقی“ کر چکے ہیں۔ میں ٹی وی پر خبر سن رہا تھا کہ تازہ ترین زرعی شماری کے مطابق ہمارے ملک میں جانوروں کی آبادی 25 کروڑ 12 لاکھ ہو چکی ہے، یعنی تقریباً اتنی ہی جتنے انسان!
یعنی اب ”دو پاﺅں والے“ اور ”چار پاﺅں والے“ برابر برابر ہو گئے! سچ پوچھیں تو کسی دن پر کسی ریسٹورنٹ یا دکان پر لائن لگے تو ساتھ کھڑے بکرے کو پہچاننا مشکل ہو جائے گا کہ یہ کیا کرنے آیا ہے۔ صاحبو! ایک طرف جانور بڑھ رہے ہیں، اور دوسری طرف گدھے کا گوشت کھانے کی خبریں آ رہی ہیں۔ یعنی اب پاکستان میں گدھے کا گوشت ”خفیہ پکوان“ نہیں رہا بلکہ قومی ضیافت بن چکا ہے۔ دوستو! دل خوش ہوا کہ جانوروں نے بھی ”ترقی“ کی ہے، لیکن جیسے ہی ”گدھے کے گوشت“ کی خبر آئی، دل نے کہا ترقی نہیں بھائی۔۔۔ ”ترکیب“ بنی ہے!۔
دوستو۔۔۔ ازراہ تفنن بکرے کی بریانی تو سب نے کھائی ہے لیکن جیسے حالات چل رہے ہیں۔۔۔ کیا معلوم کوئی ”گدھا بریانی“ کھا لے اور اس کو ذائقے کا فرق بھی محسوس بھی نہ ہو۔۔۔ تاہم حق اور سچ بات تو یہ ہے کہ یہ گدھا جو اب تک بوجھ اٹھاتا تھا، اب خوراک بن چکا ہے۔ اب تو گدھے کی قسمت بھی ایسی پلٹی ہے کہ جو نہ ہوا گوشت، وہ کیا ہوا؟۔۔۔ اب شہری صبح سبزی لینے نکلتے ہیں اور واپس آ کر پہلا سوال کرتے ہیں بھئی دوستو ”یہ قیمہ کس کا ہے؟ گائے، بکری یا پھر۔۔۔؟ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔ اس پرسب دوبارہ ہنسنے لگے۔
بھئی رفیق، بھئی رشید، نتھو، پھتو اور چوپال کے دوستو ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ جتنے گدھے کھیتوں میں ہیں، اس سے کہیں زیادہ ”گدھے“ روزمرہ کے فیصلے کر رہے ہیں اور جو اصل گدھے ہیں، وہ اپنی جان بچا کر جنگل کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ اس پر پھر سب ہنسنے لگے۔ چپ سائیں نے کہا بھائیو ٹی وی رپورٹ کے مطابق ملک میں سب سے زیادہ بکریاں پالی جا رہی ہیں۔ یعنی اگر کوئی بکری ہو، تو وہ یہ کہہ سکتی ہے ”مجھے ہاتھ نہ لگانا، میں وی آئی پی ہوں!۔۔“ نتھو نے کچھ بولنے کی اجازت چاہی اور کہا کہ اتنے جانور پال لیے، لیکن ابھی تک کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ان کے لیے ویٹرنری ہسپتال کتنے ہیں؟ یا کوئی جانوروں کی نفسیات پر کتاب لکھی گئی؟۔۔۔ نہیں صاحب، یہاں انسانوں کی نفسیات پر کتاب پڑھی جائے تو وہ بھی گدھا لگتا ہے۔ نتھو کی بات پر سب ہنسنے لگے۔۔۔
چپ سائیں نے بات دوبارہ شروع کی اور کہا کہ یاد رکھیں، جانوروں کی تعداد میں اضافے کا مطلب صرف گوشت کا ذخیرہ نہیں، بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے۔ ورنہ بکرے کی ماں کو تو سب جانتے ہیں، مگر اب گدھے کی ماں بھی خطرے میں ہے!۔ آج ہم گدھے کا گوشت سنگین ”غلطی“ سے کھا رہے ہیں لیکن کل کو ہو سکتا ہے اونٹ کی چربی بھی کہیں کسی مقصد کے لیے استعمال ہو اور ہم لاعلم رہیں۔
خدارا! جانوروں کو گوشت نہ سمجھیں، بلکہ ملک کی معیشت کا اہم حصہ سمجھیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب گائے کو دیکھ کر بچہ پوچھے گا ”ابا جی، کیا یہ بھی چکن برگر بن جاتی ہے؟“ بھائیو! غور کریں، جانور بڑھ گئے لیکن دودھ، انڈے، گوشت اور بہت سی چیزیں ”پہنچ“ سے باہر ہیں۔۔ چوپال کے دوستو تھوڑی کڑوی بات یہ ہے کہ اگر کبھی کسی ہوٹل میں قیمہ کھاتے ہوئے دل میں سوال آئے کہ۔۔۔ ”یہ کس کا ہے؟“
تو بس یہ سوچ کر کھا لیں کہ شماریاتی طور پر امکانات برابر ہیں ۔۔۔ آدھے جانور، آدھے انسان ۔۔۔ قسمت آزمائی ہے!۔۔ دوستو! اب جب جانوروں کی تعداد انسانوں کے برابر ہو گئی ہے، تو کچھ لوگ پریشان ہیں۔ مگر فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ عملی طور پر ہم تو پہلے ہی اخلاقی، معاشی اور سیاسی طور پر ”جانوروں“ کے معیار پر پہنچ چکے ہیں۔۔ ہمارے موجودہ حالات الفاظ کی گواہی ہیں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ جانور ”خاموش رہتے ہیں“ اور ہم ”چپ کرا دیئے جاتے ہیں!“۔۔
بکریوں کی بڑھتی تعداد، گدھے کے گوشت کی خبریں اور عوام کے حالات یہ سب سن کر ہنسنے کو دل کرتا ہے، طنز بھی ہے، مگر یہ سب ہماری معاشرتی بے حسی اور نظام کی ناکامی کو ظاہر کر رہا ہے۔ صاحبو! جب قوموں کے فیصلے صرف گوشت، دودھ اور چربی تک محدود ہو جائیں، جب انسان اپنے حقوق مانگنے کے بجائے خاموشی سے گدھے کا قیمہ کھانے لگیں، جانوروں کی گنتی انسانی فلاح سے زیادہ اہم سمجھی جائے، تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ صرف معیشت کا نہیں، ضمیر کا بھی ہے۔ ہمیں جانوروں سے نہیں، خود سے سوال کرنا ہے۔ ہم کون ہیں؟ کہاں جا رہے ہیں؟ اور کب تک ان رویوں پر خاموش رہیں گے؟۔ صاحب علم لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر انسان بے حس ہو جائے تو وہ جانور نہیں بنتا، بلکہ اس سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ دوستو! اس بارے میں سب کو سوچنا ہو گا ۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!

مزیدخبریں