بھارتی تنگ نظری اور جنوبی ایشیا کا امن

09:18 AM, 8 Aug, 2025

ہندوستان اور پاکستان ہزاروں سال ایک ساتھ مل کر رہتے رہے ہیں اور باقاعدہ ان کی محبت، بھائی چارے کی ایک مشترکہ تاریخ ہے۔ پھر جب اس مشترکہ تہذیب اور مشترکہ تاریخ کی نو آبادیاتی نظام سے آزادی کا وقت آیا تو ماضی حال پر غالب آ گیا اور یہ کشمکش تاریخ کے اوراق پر 22 لاکھ بے گناہ انسانوں کے خون کی شکل میں پھیل گئی۔ اگر ہندوستان کی سیاسی قیادت وسیع النظری اور سےاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتی تو شائد دونوں ملک جدید تاریخ کے بھی دو مشترکہ پہیے بن جاتے اور برِصغیر ہی نہیں بلکہ پورا جنوبی ایشیا امن اور خوشحالی کا خطہ بن جاتا لیکن دنیا کی سیاسی تاریخ سےاسی اکابرین کی تنگ نظرےوں کے ہولناک نتائج سے بھی بھری پڑی ہے۔ اس 78 سالہ تارےخ کی بد نمائی کی ذمہ داری ہندوستان کی سےاسی قےادت پرعائد ہوتی ہے۔ پاکستان کی سےاسی قےادت اپنی تمام تر خرابےوں کوتاہیوں کے باوجود 1947ءسے 2025ءکی جنگ اور اس کے بعد تک جاری رہنے والی کشےدہ اور خون آلودہ تاریخ میں مجھے مجرم نظر نہیں آتی۔ اگر ہندوستان کی قےادت ماونٹ بےٹن اور دےگر انگرےز اربابِ اختےار کے ساتھ گٹھ جوڑ نہ کرتی اور مسئلہ کشمےر کو تقسےم کے ابتدائی دور ہی مےں جمہوری اصولوں کے مطابق حل کر دےتی تو آج ےہ خطہ خونریزےوں، نفرتوں کے بجائے امن، محبت اور مذہبی رواداری کا خطہ ہوتا۔
بھارت کے اہلِ دانش بھارت کی تقسےم کو دھرتی ماتا کی تقسےم اور برِ صغےر کے اجتماعی مفادات کے خلاف کہتے ہیں لیکن یہ اکابرےن تقسےم کے محرکات پر غےر جانبداری سے نظر ڈالنے کے لیے تےار نظر آتے ہےں، نہ ہی تقسیم کے بعد کے المےوں کا حقےقت پسندانہ جائزہ لےنے پر تےار نظر آتے ہےں۔ اس طرزِ فکر کا نتےجہ ہے کہ پورا خطہ مذہبی انتہا پسندی کے اندھےروں مےں غرق ہو رہا ہے۔ بھارت پاکستان بالخصوص بلوچستان مےں تخرےب کارانہ کارروائےوں کی پشت پناہی کر رہا ہے وہ اس بات سے غافل ہے کہ اس چےز کے خطے پر کےا اثرات مرتب ہو رہے ہےں۔ حالےہ کئی سال مےں جب سے نرےندر مودی کی حکومت آئی ہے مسلم اور پاکستان دشمنی مےں اضافہ ہوا ہے۔ اس مےں کوئی شک نہےں 
ہے کہ نریندر مودی اور اس کی پارٹی کی کامےابےوں پر بھارتی دانشور بھارتی اہلِ قلم تشوےش کا اظہار تو کرتے رہے ہیں اور اس کے سےکولر ازم پر پڑنے والے اثرات پر بھی تشوےش کا اظہار کر رہے ہےں لےکن افسوس ان محرکات، ان اسباب پر ےہ اکابرےن آج بھی غور کرنے کے لیے تےار نظر نہےں آتے جو دونوں ملکوں میں بڑھتی کشیدگی کا اصل سبب ہےں۔ اس مےں کوئی دو رائے نہےں ہے کہ پاکستان آج دہشت گردی اور معاشی ابتری کے جس مقام پر کھڑا ہے اس کے پس منظر مےں کشمےری عوام شائد پاکستان مےں شمولیت کو فائدہ مند نہ سمجھےں لےکن اس امکان اور مفروضے کی بنےاد پر اس مسئلے کے حل کو پسِ پشت ڈالا جا سکتا ہے نہ ان گہرے مضمرات کو نظر انداز کےا جا سکتا ہے جو اس مسئلے کے حل نہ ہونے سے پیدا ہوئے ہیں اور مستقبل مےں بھی پےدا ہو سکتے ہےں۔
گزشتہ 78 برسوں میں پاک بھارت تعلقات کشےدہ ہی رہے ہےں بلکہ ےہاں تک کے ان تعلقات کو اتار چڑھاو¿ کا نام دینا بھی مشکل ہے کےونکہ زےادہ تر ان دونوں ممالک مےں تعلقات کشےدہ ہی رہے ہےں۔ اگرچہ اس ضمن مےں مختلف اوقات مےں بہتری کی کوششےں متعدد بار ہوتی رہی ہےں۔ صرف مارچ 1977ءمےں جب مرار جی ڈےسائی نے بھارتی وزےرِ اعظم کا منصب سنبھالا تو اس کے بعد 27 ماہ کو ہی پاک بھارت باہمی تعلقات کا نسبتاً بہتر عرصہ قرار دےا جا سکتا ہے۔ اسی دوران پاکستان کی جانب سے مرار جی ڈےسائی کو وطنِ عزیز کا اعلیٰ ترےن سول اےوارڈ ”نشانِ پاکستان“ دےا گےا تھا، اور ڈےسائی واحد شخصےت ہےں جنہےں پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ ترےن سول اےوارڈ ”نشانِ پاکستان“ اور ”بھارت رتن“ حاصل ہوئے۔ یہ بات ہم شائد بھول گئے ہےں کہ مرار جی ڈےسائی کو نشانِ پاکستان دےنے کی اےک بنےادی وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے اپنے منتخب ہونے کے فوراً بعد ”رائ“ کے بجٹ مےں تقرےباً نصف کٹوتی کر دی تھی۔ اس کی وجہ انہوں نے بےان کی کہ ”رائ“ جنوبی اےشےا مےں امن کے قےام میں رکاوٹ ہے اور اس کے طرزِ عمل کی وجہ سے بھارت کے تعلقات خطے کے ممالک سے بہتر نہےں ہو رہے۔
جہاں تک تعلق ہے کانگرس اور بی جے پی کا ان کے ادوار پاک بھارت تعلقات کشےدہ ہی رہے ہےں۔ ان دونوں جماعتوں نے اپنے ملک مےں انتخابات مےں کامےابی کا آسان طرےقہ ڈھونڈا ہوا ہے کہ بھارت کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو ہندوستانی داخلی سےاست کا محور بنائے رکھا جائے۔ ےوں بھارت کے حقےقی مسائل حل کیے بغےر ہی انہےں اپنے مقاصد حاصل ہو جاتے ہےں اور خطے میں مستقل طور پر اےک تناو¿ کا ماحول برقرار رہتا ہے۔ خصوصاً نرےندر مودی جب سے برسرِ اقتدار آئے ہےں ان کا تو اےک ہی ماٹو ہے کہ تمام مسائل کی جڑ پاکستان ہے۔ ہندوستان کے اقتصادی مسائل چونکہ بہت زیادہ ہےں اس لیے اس ضمن مےں کوئی بڑی پےش رفت مودی کے لیے تقرےباً ناممکن ہے لہٰذا عےاری پر مبنی سفارتکاری کے ذرےعے دنےا بھر مےں تاثر دےئے جانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان ہی علاقے مےں تمام مسائل کا ذمہ دار ہے۔ اپنے اسی اےجنڈے کی تکمےل کی خاطر مودی خود ساختہ تخریب کاریاں کرا کر اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتے رہے۔ 2025ءمےں صورتحال تو اس حد تک خراب ہو گئی کہ اےٹمی جنگ کی نوبت آتے آتے رہ گئی۔ بھارت کو 2019ءاور 2025ءمےں بری طرح منہ کی کھانا پڑی۔ لےکن بھارت ہے کہ اب بھی باز نہےں آ رہا وہ شرارتےں کر رہا ہے خاص طور پر بلوچستان مےں مٹھی بھر علےحدگی پسندوں کی سرپرستی کر کے پاکستان مےں تخرےب کاری کی وارداتےں کرانے میں مصروف ہے۔ جس کے بہرکےف خطرناک اثرات ہو سکتے ہےں۔
اس حوالے سے پاکستان کی تمام حکومتےں کہتی رہی ہےں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ پر، کسی بھی سطح کے مذاکرات شروع کرنے مےں ہمہ وقت تےار ہے۔ مگر چونکہ دہلی کا حکمران ٹولہ اس حوالے سے سنجےدہ نہےں ہے۔ حالےہ جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے مےز پر بےٹھنا تھا جس کے لیے حکومتِ پاکستان بھارت کے جواب کی منتظر ہے لےکن بھارت مذاکرات کی مےز پر آنے کے بجائے ریشہ دوانےوں مےں مصروف تاکہ پاکستان کو اندر سے کمزور کر سکے ظاہر سامنے سے تو مقابلہ کرنے کی سکت اب اس کے پاس نہیں ہے۔

مزیدخبریں