زوردار تھپڑوں کے بعد جپھی

09:13 AM, 8 Aug, 2025

دنیا بھر میں اس وقت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے زیادہ دکھی کوئی اور نہیں۔ ستم بالائے ستم اس کے دکھ کو سمجھنے والے بھی دنیا میں کم ہیں۔ مودی کے دکھ کو صرف خواتین سمجھ سکتی ہیں اور خواتین بھی وہ جن کے سر سے خاوند کا سایہ کچھ ماہ قبل ہی کہیں اور منتقل ہوا ہے یعنی انہوں نے عقد ثانی کر لیا ہے۔ ایسی خواتین کی سہیلیاں سکھیاں اس کے پاس آتی ہیں اپنی شکل پر اداسی و پریشانی طاری کرتے ہوئے پوچھتی ہیں۔ باجی پائی جان کا فون نہیں آیا۔ غم کی تصویر بنی خاتون بہ زبان خاموشی سر ہلا کے جواب دیتی ہیں۔ سہیلیاں اسے تسلی دیتے ہوئے کہتی ہیں۔ باجی پریشان نہ ہوں اللہ خیر کرے گا۔ پریشان حال خاتون کا جی چاہتا ہے، ان کا منہ نوچ لے لیکن پھر اس خیال سے ضبط کرتی ہے کہ خاوند تو ہاتھ سے گیا، اب کہیں کمیٹی بھی نہ ٹوٹ جائے۔ خاتون حالت غم میں چائے بناتی ہے۔ سب کہتی ہیں چائے کی کوئی ضرورت نہیں ابھی گھر سے پی کر آئے ہیں لیکن سب چاہتی ہیں کہ چائے بنے اور وہ چائے کے بہانے کچھ اور دیر وہاں بیٹھیں اور باتوں کے چسکے لیں۔ چائے کے ساتھ بسکٹ، کیک اور پیسٹری دیکھ کر سب کی باچھیں کھل اٹھتی ہیں۔ سب مزے مزے سے چائے اور ماحاضر تناول کرتی ہیں اور یہ کہہ کر رخصت ہوتی ہیں۔ باجی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتانا، غم کی ماری سوچتی ہے جو کچھ خاوند کے پاس تھا وہ تو ان کم بختوں کے پاس ہے ہی نہیں، نہ پیار نہ محبت نہ ہی کچھ اور سہیلیوں کے جانے کے بعد وہ گھر میں شور مچاتے حالات سے بے خبر بچوں کی پھینٹی لگاتی ہے پھر کمرے کا دروازہ بند کر کے خوب روتی ہے۔ پڑھی لکھی خواتین، ملازمت پیشہ اور معاشی طور پر مستحکم خواتین کا طرزعمل مختلف ہوتا ہے۔ وہ شام کو فل میک اپ کر کے نیا جوڑا پہن کر گاڑی چلاتے ہوئے اس سپر سٹور یا بوتیک پر جاتی ہیں جہاں اس کا شوہر کبھی اسے شاپنگ کرایا کرتا تھا یا اس ریسٹورنٹ کا رخ کرتی ہیں جہاں وہ کبھی ہر دوسری شام ڈنر کیا کرتے تھے۔ خاوند اور اس کی نئی بیوی سے سامنا ہونے پر ایسی خواتین انہیں دیکھ کر تھوکنا نہیں بھولتیں جبکہ نئی بیگم پرانی کو دیکھ کر میاں کے کان میں کہتی ہے ہمیں دیکھ کر ”جل بھن گئی ہے“۔ میاں کے سر پر عشق کا بھوت سوار ہوتا ہے۔ وہ اسے دلاسا دیتے ہوئے کہتا ہے تم نے ٹینشن نہیں لینی۔ بیوی کہتی ہے ٹینشن لیتی ہے میری جوتی حالانکہ وہ بے حد ٹینس ہو چکی ہوتی ہے۔ پہلی بیگم کی سہیلیاں دس پندرہ روز کے وقفے کے بعد اس کے گھر چکر لگاتی ہیں۔ ہمدردی کے اظہار کے بعد پوچھتی ہیں۔ کوئی خیر خبر، خاتون کہتی ہے کوئی خیر خبر نہیں، میں نے تو اب ان کے لئے سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے حالانکہ وہ ایک لمحے کیلئے بھی اس سوچ سے پیچھا نہیں چھڑا سکتی جو ایک قدرتی امر ہے۔ سہیلیاں اپنے ہاتھ ملتے ہوئے گویا ہوتی ہیں۔ ہائے ہائے باجی پائی جان بڑے ظالم نکلے، انہیں اپنے بچے بھی یاد نہیں آتے۔ یہ سن کر خاتون کی آنکھیں برس جاتی ہیں۔ سب اسے باری باری گلے لگاتی ہیں لیکن اندر ہی اندر بہت خوش ہوتی ہیں، انہیں آئندہ ایک برس کیلئے ایک نیا موضوع مل گیا ہے پھر گھر گھر اسی خاتون اور اس کے خاوند کی دوسری شادی موضوع گفتگو رہتی ہے۔ ساری سہیلیاں جاتے جاتے ایک ایسی بات کہہ جاتی ہیں جس سے ضبط کے سارے بندھن ایک مرتبہ پھر ٹوٹ جاتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں باجی فکر نہ کریں۔ پائی جان ایک نہ ایک دن پلٹ کر واپس آئیں گے۔ سہیلیاں رخصت ہو جاتی ہیں تو خاتون موبائل فون میں موجود اپنی شادی کی ویڈیو اور تصویریں دیکھتے دیکھتے وہیں صوفے پر سو جاتی ہیں۔ خواب دیکھتی ہے میاں سرہانے کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے تم ابھی تیار نہیں ہوئیں، دیر ہو رہی ہے، بچے بھوکے ہیں ہم نے ڈنر پر جانا ہے۔ خاتون بڑبڑا کر اٹھ جاتی ہے لیکن خود کو تنہا پاتی ہے اور خوب روتی ہے۔ نریندر مودی آج کل ایسی ہی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ مختلف دوست ممبران لوک سبھا، راجیہ سبھا اور کاروباری دوست پوچھتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا فون نہیں آیا۔ وہ ابھی تک ناراض ہے، وہ کیوں پاکستان پر فریفتہ ہوا ہے۔ مودی کے پاس ان تمام باتوں کا کوئی جواب نہیں، وہ عقد ثانی کرنے والے شوہر کی پہلی بیوی کی طرح جھنجھلا کررہ جاتا ہے اور بچوں کو پھینٹی لگانے والی کیفیت کا شکار ہو کر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر نئے حملے کی دھمکی دیتا ہے۔ پاکستان نے اس کا خواب چکنا چور کر دیا ہے۔ مودی پاکستان کو اندر گھس کر مارنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔ پاکستان نے ایک قدم آگے بڑھ کر بھارت میں گھسے بغیر ہی گھسا دیا ہے۔ اب وہ پریشان ہے کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔
تازہ ترین تازیانہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی طر ف سے ملا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل کا ایسا پیغام پہنچایا ہے جس نے مودی کا پاجامہ گیلا کر دیا ہے۔ پاکستان کے چار آرمی چیفس نے قوم کی بہترین ترجمانی کی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے کہا ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش نہیں ہو جاتیں۔ جنرل ضیاءالحق نے کہا راجیوگاندھی صاحب ہم پٹاخہ الماری میں سجانے کیلئے نہیں چلانے کیلئے بنایا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے کہا آپ کو لڑنے کا بہت شوق ہے تو آجاﺅ پھر لڑ لیتے ہیں۔ انہوں نے جوابی اقدام کرتے ہوئے فوجیں بھارت کے ساتھ لگتے ہوئے بارڈر پر پہنچا دیں۔ اب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پیغام پہنچ گیا ہے کہ بھارت نے کوئی کارروائی کی تو ہم اس بار بھارت کے مشرق سے آغاز کریں گے۔ بھارت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ بھی ہر جگہ مارے جا سکتے ہیں۔ کوئی بھی کارروائی ہوئی تو ردعمل میں بھارت کے اندر گہرائی سے حملہ سے ہو گی۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی وزیراعظم ہوش اور عقل کے ناخن لے گا تو جواب ہے نہیں۔ ہمارے آخری پیغام سے بھارت جارحیت سے باز رہے گا تو جواب ہے نہیں۔ ہمیں اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ بھارت امریکہ کو پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اس کی مدد کے بغیر بھی بہت کچھ کر سکتا ہے کیونکہ اسرائیل درپردہ اس کے ساتھ ہے۔ دونوں پاکستان کے دشمن ہیں۔ پوری قوم ایوبی، ضیائ، مشرفی اور عاصمی سوچ کے ساتھ کھڑی ہے بلکہ ایک ہی مرتبہ ٹھاہ پھاہ یعنی فرسٹ سٹرائیک پر یقین رکھتی ہے جو پہلے ایٹم بم چلائے گا دنیا اسے پوچھنے کا حوصلہ نہیں کرے گی۔ امریکہ نے دو ایٹم بم چلائے، کسی نے اسے پوچھا ، کسی نے اس کا کیا کر لیا۔ امریکہ بھارت جھگڑے کا وہی انجام ہو گا جو ہماری فلموں میں دکھایا جاتا رہا ہے۔ ہیرو، ہیروئن کے منہ پر زوردار تھپڑ مارتا ہے۔ ہیروئن اس کے جواب میں مزید زور سے ہیرو کو چانٹا رسید کرتی ہے پھر ہیرو کو جپھی ڈال دیتی ہے، یہاں بھی ایسا ہی ہو گا لہٰذا ہمیں زیادہ خوش نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ اور بھارت میں چند ماہ میں جپھی ڈل جائے گی۔ ٹرمپ پہلی بیوی کی طرف لوٹ جائے گا۔ عشق کا بھوت جلد اتر جائے گا۔

مزیدخبریں