واشنگٹن :وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم اس کی ابتدائی تجویز کو ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ بعد میں ایران کی جانب سے نسبتاً مناسب تجاویز سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ان کی طے کردہ سرخ لکیریں اب بھی برقرار ہیں۔ ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ کو توقع ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جائے گا۔
کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی اس معاملے پر گفتگو کی۔ اس کے علاوہ امریکی مذاکراتی وفد ہفتے کی صبح اسلام آباد میں بات چیت کا آغاز کرے گا۔
ان کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر بھی پاکستان کا دورہ کریں گے، جبکہ مذاکرات کا پہلا مرحلہ ہفتے کی صبح اسلام آباد میں ہوگا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کا مزید کہنا تھا کہ لبنان اس ممکنہ جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے، تاہم لبنان سے متعلق امور پر اسرائیل اور دیگر متعلقہ فریقین سے رابطے جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب خطے میں اپنی پراکسی تنظیموں کو ہتھیار فراہم نہیں کر سکے گا اور آخرکار اس نے جنگ بندی کی تجاویز سے اتفاق کر لیا ہے۔