باپ مرے سر ننگا ہووے 

09:08 AM, 9 Apr, 2026


پچھلے دنوں پولیس سروس سے وابستہ میرے دو عزیز چھوٹے بھائیوں سہیل چودھری اور جہاں زیب نذیر کے والد صاحبان انتقال فرما گئے، سہیل چودھری کے والد محترم سے میں کبھی نہیں ملا تھا، ا±ن کی بس چند تصویریں دیکھی ہیں، بہت بارعب اور وجیہہ انسان تھے، میں جب تعزیت کے لئے گیا سہیل چودھری نے ا±ن کی زندگی کے کچھ ایسے خوبصورت پہلوو¿ں پر روشنی ڈالی مجھے افسوس ہوا ایک اور عظیم انسان سے یہ دھرتی محروم ہوگئی ھے ۔ اللہ ا±ن کی مغفرت فرمائے اور ا±ن کی اولاد کو ا±ن کے نقش قدم پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے رکھے، جہاں زیب نذیر کے والد نذیر پرویز مرحوم کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا، میں کچھ دیر فیصل ٹاو¿ن میں واقع جی او آر فائیو میں رہا ، وہاں جہاں زیب نذیر میرے گھر کی پچھلی گلی میں رہتے تھے ، ا±ن کی ایک آنٹی مسز افضل ہمارے گھر کے بالکل سامنے رہتی تھیں، اس سے قبل میں ایف سی کالج کے اندر آٹھ کنال کے ایک گھر میں تقریباًپانچ چھ برسوں تک قیام پذیر رہا ۔ دو ہزار تین میں جب یہ کالج ا±س وقت کے سربراہ مملکت جنرل مشرف نے امریکی چرچ کے “سپرد خاک” کیا ہم ٹیچنگ سٹاف کو یہ آفر دی گئی آپ چرچ انتظامیہ کو جائن کر لیں یا کسی اور سرکاری کالج میں چلے جائیں ، ہمارے کچھ کولیگز نے چرچ انتظامیہ کو جائن کر لیا، میرے سمیت بے شمار اساتذہ دیگر سرکاری کالجز میں چلے گئے، ظاہر ہے اب ا±س کے بعد مجھے ایف سی کالج کا گھر بھی خالی کرنا تھا جو اس حوالے سے میرے لئے بہت تکلیف دہ تھا یہاں میری ماں کا دل لگا ہوا تھا ،دوسری طرف تبادلے کے بعد میں یہ گھر ایک پل کے لئے اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتا تھا، سب سے بڑی مشکل یہ تھی میرے پاس اپنا کوئی ذاتی گھر نہیں تھا جہاں فوری طور پر میں شفٹ ہوجاتا، نہ ہی کرایے کا گھر میں افورڈ کر سکتا تھا، اس دوران میرے محسن ادارہ اخوت کے سربراہ ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے مجھ سے کہا”سرکاری جاب کو خیر باد کہنے کے بعد میں اپنے ذاتی گھر میں شفٹ ہونا چاہتا ہوں، آپ جی او آر فائیو میں واقع میرا سرکاری گھر اپنے نام الاٹ کروا لیں“۔ میرے محترم جی ایم سکندر مرحوم ا±س وقت وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے پرنسپل سیکرٹری تھے، ا±ن کی محبت سے یہ گھر مجھے الاٹ ہوگیا ۔ یہ شاید سات آٹھ مرلے کا گھر تھا ،میری والدہ کو روشنی والے بڑے گھر میں رہنے کی عادت ہوگئی تھی ،وہ شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ تھی، وہ اظہار تو نہیں کرتی تھی مگر میں محسوس کرتا تھا وہ یہاں آ کر خوش نہیں ہیں۔ اس گھر کے بیڈ ر±ومز بہت چھوٹے تھے، وہ اکثر کہتیں”پ±تر میرا یہاں دم گ±ھٹتا ہے“۔ وہ ڈیپریس رہنے لگی تھیں، اس دوران مسز افضل نے ا±ن کا اتنا خیال رکھا آہستہ آہستہ وہ چھوٹے سے اس گھر میں ایڈجسٹ ہوگئیں ،پھر کئی برسوں تک ہم اس گھر میں رہے ، ہمیں جہاں زیب نذیر کی فیملی کی ق±ربت بھی حاصل ہوگئی، اسی عرصے میں ا±ن کے والد محترم نذیر پرویز کو قریب سے جاننے کا موقع ملا ۔وہ بہت مرنجا مرنج بہت عظیم، نفیس اور صابر شاکر انسان تھے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام ا±نہوں نے ہڈیوں کے کینسر کے موذی مرض میں بہت تکلیف میں گزارے ،اپنی تکلیف کا اظہار کرنا تو د±ور کی بات ہے اپنے چہرے سے بھی کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیتے تھے وہ تکلیف میں ہیں ،ایک بار جب تکلیف بڑھی میں ا±نہیں اپنے محترم بھائی ممتاز آرتھو پیڈک سرجن پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کے پاس لے گیا۔ کینسر بڑی تیزی سے پھیل رہا تھا ،عامر عزیز صاحب نے کچھ دوائیں اور دعائیں دیں، میں جب واپس ا±نہیں گھر ڈراپ کرنے جا رہا تھا راستے میں وہ بار بار مجھ سے کہہ رہے تھے”میں معافی چاہتا ہوں آج میں نے آپ کو بہت زحمت دی“، حالانکہ میرے لئے یہ رحمت تھی ایک عظیم انسان کی خدمت کا مجھے موقع مل رہا تھا۔ ا±ن کا جنازہ بہت بڑا تھا، میرے محترم بھائی آئی جی پنجاب راو¿ عبدالکریم بھی لوگوں کے د±کھ س±کھ میں شریک ہونے کی اپنی روایت کے عین مطابق وہاں موجود تھے، پولیس کے علاوہ دیگر محکموں کے بے شمار افسران بھی تھے۔بے شمار ریٹائرڈ آئی جی صاحبان کو بھی میں نے دیکھا ، جہاں زیب نذیر کے ساتھ لوگوں کی محبت کا یہ عالم ہے وہ جہاں جہاں تعینات رہے ا±ن شہروں سے بے شمار لوگ جنازے میں شریک تھے، وہ سکردو میں کچھ عرصہ ڈی آئی جی رہے، وہاں سے لوگوں کی دو بھری ہوئی بسیں آئیں ،جہاں زیب نے ا±ن سے کہا”آپ اتنی د±ور سے آئے ہیں میں آج آپ کے قیام و طعام کا بندوبست کئے دیتا ہوں، آپ کل واپس چلے جائیے گا“، مگر وہ نہیں مانے اور تعزیت کے بعد چلے گئے، جہاں زیب نذیر ایف آئی اے لاہور میں ڈائریکٹر سائبر کرائم تھے جب ایک ”فرعون“ اپنی غلط خواہشات پوری نہ ہونے پر ا±ن سے ناراض ہوگیا اور ا±ن کا تبادلہ کے پی کے کروا دیا۔ میں نے جب احتجاج کیا ا±س فرعون نے مجھ سے کہا”شکر کریں میں نے اسے بلوچستان نہیں بھیج دیا“، جہاں زیب نذیر اور ا±ن کے چھوٹے بھائی ذیشان نذیر نے اپنے والد کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، جہاں زیب کی پوسٹنگ کے پی کے میں تھی۔ ا±س کی کمی ذیشان نذیر نے اپنے بیمار والد کو محسوس نہیں ہونے دی، مگر ایک بیٹے کا یہ د±کھ شاید کبھی ختم نہیں ہوگا والد کی زندگی کے آخری ایام وہ لاہور میں ا±ن کے ساتھ نہیں گزار سکا۔ ا±س کا یہ صبر ا±سی فرعون پر پڑے گا جس نے لاہور سے اپنی ناجائز خواہشات پوری نہ ہونے پر ا±سے کے پی کے بھیجا تھا، مشکل وقت کی تکلیفیں اپنی جگہ اس کی خوبی یہ ہوتی ہے انسان کو ا±س کے اصل دوستوں کی پہچان ہو جاتی ہے ،ا±س کے والد کے جنازے میں کچھ ایسی اہم اور بااثر شخصیات موجود تھیں وہ اگر دل سے چاہتیں یہ ممکن ہی نہیں تھا ا±س کا تبادلہ واپس پنجاب یا لاہور میں نہ ہوتا،ہم بس آسانیوں کے دوست ہوتے ہیں۔ مشکل وقت میں ہم بس اتنے ہی”دوست“ ہوتے ہیں کہ کسی کے والد یا کسی اور قریبی عزیز کے جنازوں میں شریک ہو جایا کریں، پچھلی عید پر مجھے جہاں زیب کی کال آئی کہنے لگا”بھائی جان ابو آپ کو بہت یاد کر رہے ہیں“، میں ا±سی روز فیملی کو لے کے ا±ن سے ملنے چلے گیا ،ہم دیر تک ا±ن کے ساتھ رہے , وہ خوش ہوئے ،اس دوران وہ بار بار وہیل چیئر سے ا±ٹھنے کی کوشش کرتے تاکہ ٹرالی میں پڑی کھانے پینے کی چیزیں اپنے ہاتھ سے ہماری پلیٹوں میں ڈالیں، اتنی عزت آبرو والا اتنا مہمان نواز شخص ہم سے ج±داہوگیا ، اپنے اعمال میں وہ جنتی ہیں، نیک اور نفیس اولاد کی صورت میں جو اثاثہ وہ چھوڑ گئے ہیں وہ بھی یہی ثابت کرتا ہے وہ جنتی ہیں۔

مزیدخبریں