پاکستان ہمیشہ زندہ باد 

09:05 AM, 9 Apr, 2026


پاکستان امن عالم کا علمبردار بن کر سامنے آیا ہے۔ علمبردار ظاہر ہے کہ ایک ادبی و معنوی حسن سے مزین خوبصورت اصطلاح ہے جسے ہم اپنے مقامی و دیہاتی سطح پر سمجھنے کیلئے چوہدری بھی کہتے ہیں۔ کسی مزید لمبی چوڑی تمہید کے بغیر میں فخر و انبساط کے جذبات سے بھرپور انداز میں یہ کہنا مناسب سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے پیارے وطن پاکستان کو خطے میں بلکہ دُنیا بھر میں چوہدری مان لیا گیا ہے اور چوہدراہٹ کی یہ پگ پاکستان کے سر سجانے میں ہمارے عظیم سپہ سالار فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کا کلیدی کردار ہے جنہوں نے شہباز پاکستان جناب وزیراعظم اور انتھک ڈپٹی وزیراعظم وزیر خارجہ اسحق ڈار کی سرکردگی و معیت میں یہ عظم معرکہ سر کیا۔ 
    ان کے کریڈٹ پر پہلے ہی معرکہ حق کی فتح کا عظیم سہرا ہے جس کی تابانی ہنوز برقرار ہے۔امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی جو تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھتی جارہی تھی۔ دونوں اطراف سے بے پناہ مالی و جانی نقصان کے ساتھ ساتھ توانائی بحران نے پوری دنیا کو ہیجان میں مبتلا کر رکھا تھا۔ کئی عشروں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ امریکہ ہمیشہ اپنی طاقت کے گھمنڈ اور توسیع پسندانہ عزائم کو لے کر دنیا کے کسی بھی خطے میں جاپہنچتا ہے اور وہاں کا نظام حکومت و معیشت تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے۔ اگرچہ اس کے پیچھے نیتن یاہو اور اسرائیل کی مسلم دشمنی ہی کارفرما رہی مگر اب کی بار شائد وہ غلط جگہ پنگالے بیٹھا۔ کس کا کتنا نقصان ہوا، کون ٹیکنالوجی اور جنگی حکمت عملی میں آگے ہے کس کے کیا عزائم تھے ان سب سوالات سے ہٹ کر عام تاثر یہی زور پکڑتا رہا کہ امریکہ پھنس گیا، ایرانی ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب اور عوام کسی صورت امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے بلکہ ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار نہیں۔(اس فرضی صورتحال سے اتفاق و اختلاف آپ کا اپنا حق ہے)۔
    مستزاد یہ کہ ایران کے خلیجی ممالک پرپے در پے حملوں نے پورے خطے بطور خاص عرب ممالک کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ آبنائے ہرمز تو جیسے عالمی معیشت کی شہ رگ بن گئی اور اس پر ایران کی مضبوط گرفت نے اس کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیا۔ خیر جنگی حالات اور آلات حرب کی داستان گوئی کی بجائے بتانا یہ مقصود ہے کہ پاکستان نے اس گھمبیر اور مشکل صورتحال میں کس طرح اپنا بھرپور سفارتی و مصالحتی کردار ادا کیا اور اللہ کریم نے پاک سرزمین کو کس قدر عزتوں سے نوازا۔ شائد میں گزشتہ کالم میں بھی ذکر کرچکا ہوں کہ اقوام عالم کے فیصلے پاکستان کی ہاں اور ناں میں پنہاں ہونے کا جو تصور ہم عشروں سے باندھے بیٹھے تھے ایک مرتبہ پھر دنیا دیکھ رہی ہے اور مان رہی ہے کہ واقعی پاکستان کی ثالثی نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے دہانے سے پیچھے ہٹا دیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ترکیہ، مصر اور دیگر ممالک کی کاوشیں بھی شامل ہیں۔
    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا اصل کامیابی ہے، امریکہ، اسرائیل کی انتہائی کوشش کے باوجود عرب ممالک کا براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہونا کوئی اتفاقیہ نہیں بلکہ اس کے پس پردہ پاکستان کی مو¿ثر اور مسلسل سفارت کاری ہے جو ایران اور عرب ریاستوں کے درمیان ایک ڈھال کے طور پر موجود رہی۔ گزشتہ روز امریکی صدر نے جس طرح بار بار الٹی میٹم دیکر صرف ایک ملک ہی نہیں، ایک تہذیب کو ملیامیٹ کرنے کی دھمکی دی اور دنیا بھر کے چینلز کاو¿نٹ ڈاو¿ن شروع کرچکے تھے۔ ایران کی طرف سے بھی بار بار برابر ردعمل سامنے آرہا تھا۔ خوف اور گھبراہٹ کے بادل اس قدر گہرے ہورہے تھے کہ وہ لوگ اور ممالک بھی سہمے ہوئے تھے جن کا اس جنگ سے دُور دُور کا تعلق نہیں تھا۔ مختلف ملکی و بین الاقوامی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں سے صاف محسوس ہورہا تھا کہ پوری دنیا کی نظریں اس وقت پاکستان پر ہیں۔ چاہے ان چاہے ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ اس وقت روئے زمین پر واحد پاکستان ہی ایک ایسی ریاست ہے جو اس جنگ کی تباہی کے آگے بندباندھ سکتی ہے۔ ہمارے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر کے آن لائن و آف لائن رابطے موثر رہے۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے ذاتی تعلقات کام آئے یا اس مشکل ترین مرحلے میں اپنی محنت کا لوہا منوانے والے ڈپٹی وزیراعظم وزیر خارجہ اسحق ڈار کی شبانہ روز کاوشیں رنگ لائیں کہ فریقین دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی پر راضی ہوگئے۔ مذاکرات کا دروازہ کھولنے اور اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پر بات چیت کا در وا کرنے میں کلیدی کردار پاکستان کا رہا اور مزید کہ آئندہ ایک دو روز میں مذاکرات کی میز اسلام آباد میں سجانے کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ پاکستان کو”Underestimate“کرنے والوں نے ہمیشہ اس کی Worthکو اس کی داخلی صورتحال اور اندرونی چیلنجز کے آئینے میں دیکھا ہے۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت خود اور اس کے ہرکارے غالباً غشی کی حالت میں ہیں۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں کی زبانیں گُنگ ہوگئی ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان کی ہاں اور ناں میں عالمی امن اور بین الاقوامی قوتوں کے فیصلے ہورہے ہیں۔ بطور پاکستان ہمارے لئے یہ لمحے تاریخی طور پر فخر کے بھی ہیں اور اعزاز بھی ہے۔ہمیں حقیقت حال کا ادراک کرتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں سے نکل کر اس بہت بڑی عزت کے ملنے پر سجدہ شکر بھی ادا کرنا ہے اور اپنی صفوں میں اتحاد بھی پیدا کرنا ہے۔ یہ بات طے ہے‘ سمجھ لیجئے کہ ہم رہیں نہ رہیں یہ ملک ان شاءاﷲ صبح قیامت تک قائم و باقی رہے گا اور اس کی شان و شوکت بھی بڑھتی رہے گی لہٰذا مل کر‘ ہم آواز ہو کر نعرہ لگاتے رہیں۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد!
    

مزیدخبریں