ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں اصل جیت اگر کسی کی ہوئی ہے تو وہ میرے وطن پاکستان کی ہے اور اس فتح میں شک کی کوئی گنجائش اس لیے نہیں رہی کہ اس کرہ ارض کی واحد سپر پاور کے صدر نے پاکستان کے کہنے پر صرف جنگ بندی نہیں کی بلکہ وزیر اعظم پاکستان اور خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک محنتوں کا اعتراف کر کے 15روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے اور اسی طرح ایران نے بھی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو خراج عقیدت اور اظہار تشکر کر کے جنگ بندی کی ہے۔ اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں ہمیں ان تاریخی لمحات کا ذکر کر لینے دیں جو یقینا آپ سب نے سن بھی لیے ہوں گے اور دیکھ بھی لیے ہوں گے لیکن پھر بھی ہمارا دل کر رہا ہے کہ ان تاریخی لمحات کو ایک بار پھر دہرا دوں۔ 7 اور 8 اپریل کی درمیانی رات بارہ بجے کے بعد پاکستانی وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 15روزہ جنگ بندی کی تجویز دی۔ ہم نے قریب کوئی سوا تین بجے ٹی وی کو آن کیا تو خبروں کا ایک طوفان تھا کہ ہر نیوز چینل پر چل رہا تھا۔
ہم نے اپنے دلی اطمینان کی خاطر پاکستانی نیوز چینلز کے ساتھ ساتھ الجزیرہ، بی بی سی اور سی این این بھی دیکھنا شروع کر دیئے۔ سب سے پہلے پاکستانی وزیر اعظم کی تجویز کو امریکن صدر نے تسلیم کرتے ہوئے 15 روزہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹی وی سکرینوں پر یہ ٹکر بھی چل رہے تھے کہ ابھی ایران کی جانب سے اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا گیا۔ کچھ ہی دیر میں خبر آئی کہ اسرائیل بھی پندرہ روزہ جنگی بندی پر آمادہ ہو گیا ہے لیکن دل کو تسلی پھر بھی نہ ہوئی کہ جب تک ایران کی جانب سے بھی اتفاق
نہ کیا جاتا تو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی باتیں سب بیکار چلی جانا تھیں لیکن پھر کچھ دیر بعد سب سے پہلی خبر آئی کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنائی نے بھی پاکستانی تجویز مان لی ہے۔ یقین کریں کہ اس خبر کے ساتھ ہی خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کرتے ہوئے آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور اب 10 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوں گے اور جو معاہدہ ہو گا اسے اسلام آباد معاہدے کا نام دیا جائے گا۔
یہ جنگ بندی کوئی مذاق نہیں تھی۔ پورا یورپ تھا نیٹو ممالک تھے۔ چین تھا اور پھر روس تھا لیکن یہ عزت میرے رب نے پاکستان کو دینا تھی اور سوچیں تو سہی کہ پاکستان کا شمار جی ایٹ ممالک میں ہوتا ہے اور نہ ہی پاکستان کے پاس تیل کی دولت ہے لیکن پاکستان کے پاس اس کی سیاسی اور عسکری قیادت ہے کہ جس کے عزم اور حوصلے نے یہ کام کر دکھایا۔ یہ کام بالکل بھی آسان نہیں تھا بلکہ حد سے زیادہ مشکل تھا لیکن ہم سب نے دیکھا کہ کس طرح وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب اور چین سمیت دیگر ممالک کے دورے کیے۔ ان کی محنت اپنی جگہ پر لیکن ہر شخص کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ اصل میں یہ سب کچھ فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر صاحب کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس جنگ بندی سے دو راتیں پہلے انہوں نے پوری رات جاگ کر امریکہ اور ایرانی قیادت سے بات کی اور انہیں جنگ بندی پر قائل کیا اور اس مشکل ترین کام کو ممکن بنایا ورنہ تو جنگ بندی سے پہلے آپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے متعلق پاگل پن کی حد تک جو کچھ کہا جا رہا تھا اور پھر ایران جس طرح جنگ بندی کی ہر تجویز کو رد کر رہا تھا ان حالات کے تناظر میں تو دنیا تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔
ہم بار بار اس سارے عمل کو اگر تاریخی کہہ رہے ہیں تو غلط نہیں کہہ رہے اس لیے کہ یہ جنگ کوئی دو ملکوں کے درمیان جنگ نہیں تھی بلکہ شروع دن سے اس میں تین ملک شامل تھے ایک ایران کہ جس پر حملہ کیا گیا۔ دوسرا امریکہ کہ جو اس وقت سپر پاور ہے اور تیسرا اسرائیل کہ جو اس خطے کی ایک بڑی طاقت اور نیوکلیئر پاور ہے لیکن اس جنگ کے شروع ہونے کے ساتھ ہی اس جنگ کا دائرہ اس پورے خطے میں پھیل گیا اور عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ترکیہ اور پھر آزربائیجان پر بھی میزائل حملے ہونا شروع ہو گئے تھے۔ یہ جنگ بندی صرف دو ممالک کے درمیان جنگ بندی نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک منی ورلڈ وار تھی جس کے بند کرانے اور دنیا کو تباہی سے بچانے کا سہرا قدرت نے پاکستان کے سر سجا کر پوری دنیا میں اس کے عزت و احترام اور وقار میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔
پاکستان کو جو عزت ملی ہے اس سے ہندوستان کے میڈیا میں صف ماتم بچھ گئی ہے اور وہ مودی سرکار سے پوچھ رہے ہیں کہ آبادی رقبہ اور معاشی وسائل میں پاکستان سے کئی گنا بڑا ہونے کے باوجود بھی ہندوستان یہ کام کیوں نہیں کر سکا بلکہ اس پورے عرصہ میں تو ہندوستان کا کہیں نام تک نہیں آیا۔ جہاں ہندوستان کے مودیوں میں کہرام مچا ہوا ہے وہیں پاکستان کے مودیوں کو بھی پاکستان کو ملی یہ عزت ہضم نہیں ہو رہی اور وہ اس کا کریڈٹ کبھی کسی کو اور کبھی کسی کو دینے کی بونگیاں مار رہے ہیں لیکن ہم نے جب ان سے سوال کیا کہ اگر یہ جنگ بندی کسی اور کے کہنے پر ہوئی ہے تو یہ بتا دیں کہ دس اپریل کو مذاکرات اسلام آباد میں ہو رہے ہیں یا کسی اور ملک میں تو پھر چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔
پاکستان کی جیت
09:05 AM, 9 Apr, 2026