دہشتگردی کے سائے میں سیاست، نقصان کس کا، فائدہ کس کا؟

09:04 AM, 9 Apr, 2026

بنوں میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ ایک بار پھر یہ یاد دلاتا ہے کہ خیبر پختونخوا بدستور دہشت گردی کے خطرات سے دوچار ہے، اور ایسے حالات میں قومی یکجہتی، ریاستی اداروں پر اعتماد اور ذمہ دار قیادت کی موجودگی نہایت ضروری ہو جاتی ہے۔ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کی شہادت صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی آزمائش ہے، جس میں ریاست، حکومت اور عوام سب کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ ریاستی اداروں نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا ہے۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر ملک میں امن قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قومی بیانیہ ہمیشہ ریاست اور اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ دشمن قوتوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ قوم متحد ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت کی ذمہ داری بھی کم نہیں ہو جاتی، خصوصاً ایسے مواقع پر جب عوام شدید دکھ اور کرب میں مبتلا ہوں۔
بنوں کے واقعے کے بعد سب سے زیادہ تشویش اس بات پر سامنے آئی کہ صوبائی قیادت عوام کے درمیان نظر نہیں آئی۔ شہدا کی نماز جنازہ میں عدم شرکت اور واضح مذمتی بیان کا فقدان ایک ایسا خلا پیدا کرتا ہے جو عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ بنوں کے عوام کا یہ مطالبہ بجا ہے کہ ان کے نمائندے ان کے دکھ میں شریک ہوں، کیونکہ قیادت کی موجودگی صرف رسمی نہیں بلکہ ایک علامتی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی تناظر میں 9 اپریل کے احتجاج اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب احتجاج شدت اختیار کرتا ہے، اس کے اثرات صرف سیاسی نہیں 
بلکہ معاشی اور سماجی بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر 9 مئی 2023 کے فسادات کے دوران ملک بھر میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا، ہزاروں افراد گرفتار ہوئے اور درجنوں جانیں ضائع ہوئیں۔
اسی طرح حالیہ برسوں میں مختلف جماعتوں کے احتجاج نے معیشت پر بھاری بوجھ ڈالا۔ حکومتی اندازوں کے مطابق بعض احتجاجی دھرنوں اور مارچز کے دوران پاکستان کو روزانہ تقریباً 190 ارب روپے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جس میں جی ڈی پی، برآمدات اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں کمی شامل ہے۔ مزید یہ کہ بعض رپورٹس کے مطابق مخصوص احتجاجی سرگرمیوں سے یومیہ 192 ارب روپے تک کے نقصانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ یہی نہیں، صرف چند دنوں کے احتجاج سے مجموعی طور پر سیکڑوں ارب روپے کا نقصان ہوا، جیسے کہ ایک رپورٹ میں تین دن کے اندر 600 ارب روپے تک کا معاشی نقصان ظاہر کیا گیا۔ جبکہ مختلف فسادات اور پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں صرف سرکاری املاک کو ہی اربوں روپے کا نقصان پہنچا، جیسا کہ پنجاب میں ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 1.9 ارب روپے کے نقصانات سامنے آئے۔ دیگر جماعتوں کے احتجاج بھی اس سے مستثنی نہیں رہے۔ تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے دوران ملک بھر میں کاروبار بند رہے اور اندازاً 150 ارب روپے تک کا معاشی نقصان رپورٹ ہوا۔ اسی طرح 2025 کے مختلف احتجاجی سلسلوں میں سڑکوں کی بندش، انٹرنیٹ کی معطلی اور ٹرانسپورٹ کی بندش نے عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا، جس سے نہ صرف معیشت بلکہ روزمرہ زندگی بھی شدید متاثر ہوئی۔
ان تمام مثالوں کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ احتجاج اگر پُرامن حدود میں رہے تو جمہوریت کا حسن ہوتا ہے، مگر جب یہ شدت اختیار کر جائے یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرے تو اس کے نقصانات پورے ملک کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ کاروبار بند ہو جاتے ہیں، مزدور دیہاڑی سے محروم ہو جاتے ہیں، سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور عالمی سطح پر ملک کا تشخص بھی متاثر ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ایک ذمہ دار قیادت سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ احتجاجی سیاست اور عوامی خدمت کے درمیان توازن قائم کرے۔ 9 اپریل جیسے احتجاج اپنی جگہ، مگر بنوں جیسے سانحات اس بات کے متقاضی ہوتے ہیں کہ سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ریاست اور عوام کے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔ اگر قیادت اس توازن کو برقرار نہ رکھ سکے تو اس کا نقصان نہ صرف اس کی ساکھ بلکہ پورے نظام کو ہوتا ہے۔ سیاسی ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عوام کے دکھ میں شریک ہونا محض اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ سیاسی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے مسائل ترجیح نہیں تو یہ احساس محرومی کو بڑھاتا ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
آخرکار، بنوں کے شہدا ہم سب کا مشترکہ دکھ ہیں۔ ان کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی ضرورت ہے۔ احتجاج، سیاست اور اختلاف اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی، عوامی دکھ اور ریاستی استحکام سب سے بڑھ کر ہیں۔ ایک مضبوط پاکستان اسی وقت ممکن ہے جب ریاست، ادارے اور قیادت سب ایک صفحے پر ہوں اور عوام کو یہ یقین دلائیں کہ مشکل کی ہر گھڑی میں وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مزیدخبریں