اسلام آباد / تہران: وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو نے خطے میں پائیدار امن کی نئی راہ متعین کر دی ہے۔ اس رابطے کو عالمی سطح پر جاری "اسلام آباد مذاکرات" کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے اگلے اور حتمی مرحلے کے خدوخال پر تفصیلی مشاورت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر پزشکیان نے حالیہ جنگ بندی کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے مستقل امن میں بدلنے کے عزم کو دہرایا۔ایرانی صدر نے واضح کیا کہ تہران پاکستان کی مخلصانہ کوششوں اور میزبانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کے عمل کو سراہتے ہوئے کہاہم پائیدار امن کے قیام کے لیے بات چیت کے عمل کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات سے ہمیں بڑی امیدیں وابستہ ہیں اور یقین ہے کہ یہ خطے کے وسیع تر مفاد میں نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان یہ طویل دورانیہ کی گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان برسوں سے موجود عدم اعتماد کی دیوار کو گرا دیا ہے۔ اب دنیا کی نظریں "اسلام آباد ٹالکس" پر لگی ہیں جو عالمی سیاست کا رخ موڑ سکتی ہیں۔
پاکستان کی ثالثی پر ایران کا مکمل اعتماد: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان کا اہم رابطہ
03:21 PM, 8 Apr, 2026