صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت کا وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز پر اتفاق، 10 اپریل کو اسلام آباد میں پائیدار امن معاہدے کی تیاری

09:37 AM, 8 Apr, 2026

اسلام آباد :وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی سفارتکاری میں پاکستان کا لوہا منوا لیا۔ وزیراعظم نے امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مکمل جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس تاریخی بریک تھرو کے بعد پاکستان اب دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان حتمی امن معاہدے کی میزبانی کرے گا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے تمام اتحادیوں سمیت ہر قسم کی عسکری کارروائیاں فوری طور پر روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ وزیراعظم نے اس فیصلے کو "دانشمندانہ اقدام" قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے۔
وزیراعظم نے تمام تصفیہ طلب مسائل کو میز پر حل کرنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کو جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کیا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایک ایسے حتمی معاہدے پر دستخط کرنا ہے جو خطے میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھاہمیں پوری امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے حصول میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ ہم دنیا کو مزید اچھی خبریں دینے کے لیے پرامید ہیں۔جنگ بندی کا اطلاق لبنان اور تمام عالمی تزویراتی مقامات پر فوری طور پر ہو گیا ہے۔ 10 اپریل کو اسلام آباد عالمی سفارتکاری کا مرکز بنے گا جہاں ایران اور امریکہ کے وفود براہِ راست بات چیت کریں گے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان نے اپنی تزویراتی اہمیت کا استعمال کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔

مزیدخبریں