’’ تحریک انصاف ‘‘کی حالت بھی اب ویسی ہی ہے جیسی ہماری ’’تاریخ انصاف‘‘ کی ہے، اگلے روز اس کے ایک بزرگ راہنما اور سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی نے قرآن پاک پر حلف کے ساتھ کچھ ’’انکشافات‘‘ کئے ہیں، میں ذاتی طور پر جانتا ہوں اْن کی پچانوے فی صد باتیں بالکل درست ہیں ، مجھے افسوس صرف یہ ہے ہمارے اکثر سیاسی راہنماؤں کو یہ یقین ہو چکا ہے اْن پر اب کوئی اعتبار نہیں کرتا چنانچہ اْنہیں اپنی باتوں پر یقین قائم کرنے کے لئے قرآن پاک کا سہارا لینا پڑتا ہے ،اپنی زندگی کے دیگر معاملات یا اعمال میں قرآن پاک کے سہارے یا راہنمائی کی وہ کبھی ضرورت محسوس نہیں کرتے ، قرآن پاک کو اپنی دْنیاوی ضرورتوں کے مطابق اب ہم نے صرف اْٹھانے کے لئے رکھ لیا ہے ، ایک زمانے میں قرآن پاک گھر کی سب سے قیمتی شے ہوتی تھی ، اپنی دنیاوی ضرورتوں کے مطابق اسے اْٹھانا تو درکنار اس کی قسم اْٹھانے سے بھی لوگ گریز کرتے تھے ، مجھے یاد ہے ہمارے گھر کی خواتین قرآن پاک کا غلاف بہت اہتمام سے تیار کرتی تھیں ، اس کے لئے مہنگا کپڑا خریدا جاتا ، میرے والد کی کپڑے کی دکان تھی، کوئی خاتون یا کوئی گاہک قرآن پاک کے غلاف کے لئے کپڑا مانگتا والد صاحب اْسے سب سے قیمتی کپڑا دیتے اور اْس کا معاوضہ نہیں لیتے تھے ، یہ وہ زمانہ تھا جب مسجدوں میں نمازی نماز کی ادائیگی کے فوری بعد بھاگ نہیں جاتے تھے ، قرآن پڑھتے تھے ، آج لوگ نماز پڑھنے بھی مسجدوں میں نہیں جاتے قرآن گھروں میں بھی پڑھنے کی اْنہیں فرصت نہیں ہوتی ، اْس زمانے میں جو ہمارے ہاتھ اب سے نکل گیا ہے گھر کا کوئی فرد قرآن پاک پڑھ رہا ہوتا کسی کی جْرأت نہیں ہوتی تھی اْس جانب پیٹھ کر کے گزر جائے ، اس عمل کو اْتنا ہی بْرا سمجھا جاتا تھا جتنا نماز پڑھتے ہوئے کسی کے آگے سے گزر جانے کو سمجھا جاتا تھا ، آج ہماری بدعمالیاں اس مقام پر پہنچ چکی ہیں ایسے کسی اچھے عمل پرہم یقین ہی نہیں رکھتے ، بلکہ اسے اپنے بزرگوں کی دقیا نوسی یا بناوٹی باتیں قرار دیتے ہیں ، اسی لئے ہماری پریشانیاں ، ڈیپریشن ، انگزائیٹیاں اْداسیاں اور ویرانیاں بڑھتی جا رہی ہیں ، ہماری زندگیوں سے سکون ختم ہوتا جارہا ہے ، عید کے دن بھی محرم کے دنوں کی طرح ہمیں لگتے ہیں ، بیشمار لوگوں کے پاس سب کچھ ہے سکون نہیں ہے ، یہ نعمت وہ پوری دْنیا میں ڈھونڈنے جاتے ہیں کہیں نہیں ملتی، وہ اس کْھلے راز سے مکمل طور پر بے نیاز ہو چکے ہیں سکون صرف اللہ کی یاد میں ہے اور خلق خدا کی خدمت میں ہے ، محبت اور تقسیم میں ہے ، نفرت اور جمع میں نہیں ہے ، اعظم سواتی نے شاید دوسری یا تیسری بار قرآن پاک سامنے رکھ کر دْنیاوی باتیں کی ہیں ، اْنہیں یہ احساس نہیں گفتگو میں بعض اوقات بْھول چْوک ہو جاتی ہے ، الفاظ اْوپر نیچے ہو جاتے ہیں چنانچہ قرآن پاک سامنے رکھ کے سیاسی و دنیاوی گفتگو سے ہر ممکن حد تک گریز کرنا چاہئے اور اس بات سے بے نیاز ہو جانا چاہئے کہ بغیر حلف کے اْن کی بات پر کوئی یقین کرے گا یا نہیں ؟ ممکن ہے یہ عمل بار بار دہرانے کی ضرورت اْنہیں اس لئے محسوس ہو رہی ہو وہ یہ سمجھتے ہوں پی ٹی آئی کے راہنماؤں کی اکثر باتوں پر لوگ اب یقین نہیں کرتے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کی باتوں پر لوگ یقین کرتے ہیں ، دوسری سیاسی جماعتوں کے اکثر راہنماؤں کی باتوں پر تو بالکل ہی نہیں کرتے ، بالخصوص حکمران جماعتوں اور اْن کے سرپرستوں کی باتوں پر تو بالکل ہی نہیں کرتے حکمران سیاستدانوں میں بے شمار ایسے فریبی دغا باز اور منافق ہیں کسی معجزے کے طور پر کوئی سچ اْن کے منہ سے نکل بھی جائے وہ بھی جھوٹ ہی لگتا ہے، پاکستانی سیاست میں اتنا جھوٹ ہے لوگوں نے کسی کی کسی بات پر اب یقین نہ کرنا ہو وہ اْس سے کہتے ہیں ’’ہمارے ساتھ سیاست نہ کرو‘‘ دلچسپ امر یہ ہے خود سیاستدان بھی ایک دوسرے سے یہی کہہ رہے ہوتے ہیں ، عمران خان اس وقت سب سے مقبول سیاستدان ہے ، وہ بھی اکثر اپنے بیانات اور باتوں سے مْکر جاتا تھا اور کہتا تھا ’’ وہ تو میرا سیاسی بیان تھا یا میں تو سیاست کر رہا تھا ‘‘، سیاست کرنا بھی اْسے نہیں آئی نہ حکومت کرنا آئی، بس ایک دو کام ہی وہ کرسکا ، جیل میں اب وہ نہیں کر سکتا ، اعظم سواتی نے اپنے حالیہ بیان میں فرمایا ہے ’’عمران خان نے اْنہیں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بات چیت کرنے کی اجازت دی تھی مگر دوسری طرف سے دروازے نہ کْھل سکے‘‘ ممکن ہے کچھ سیاسی و صحافتی’’ اْٹھائی گیرے‘‘ اسے آرمی چیف کا ایک احسن اقدام قرار دیں ، مگر میں اسے مناسب نہیں سمجھتا ،معاملات آج حل ہوں یا کل ہوں بات چیت سے ہی ہونے ہیں ، مْلک میں روز بروز بڑھتی ہوئی بے چینی ختم یا کم کرنے کا کوئی اور طریقہ یا راستہ نہیں ہے ، پر افسوس کچھ ایسی حکمران سیاسی قوتیں اس میں رکاوٹ ہیں جنہیں معلوم ہے بات چیت کا ایک دروازہ بھی کْھلا اْن کی چْھٹی ہو جائے گی ، سو اپنی سازشوں اور تابعداریوں کو وہ اس گرے ہوئے مقام پر لے آئی ہیں عمران خان کی رہائی فی الحال مشکل دکھائی دے رہی ہے ، دوسری جانب عمران خان کی جماعت میں بقول اعظم سواتی جو ’’کھوٹے سکے‘‘ ہیں وہ بھی یہ نہیں چاہتے بات چیت کا کوئی دروازہ کْھلے، کیونکہ اْنہیں بھی پتہ ہے بات چیت کا کوئی دروازہ کْھلا اور اْس کے نتیجے میں عمران خان رہا ہوگیا اْن کے بھی وہ سارے جھوٹ پکڑے جائیں گے جو جیل میں جا جا کر وہ اْس کے سامنے بولتے رہے ، اور اْن کے وہ سارے’’کاروبار‘‘ بھی بند ہو جائیں گے جو صرف عمران خان کے جیل میں ہونے کی وجہ سے چلتے ہیں ، بیرون مْلک بیٹھے اْن یو ٹیوبرز کا تو بیڑا ہی غرق ہو جائے گا جو ڈالرز کمانے کے چکر میں مْلکی سلامتی داؤ پر لگائے بیٹھے ہیں اور موجودہ حکمرانوں کے پاس اْن کے ’’ علاج‘‘ کی کوئی اہلیت نہیں ہے ، علی امین گنڈا پور کے بعد ’’ ڈالر پرست یوٹیوبرز‘‘ کا حالیہ شکار اعظم سواتی ہے ، میری بات لکھ کر رکھ لیں ’’ڈالر پرستی‘‘ میں اک روز عمران خان کے خلاف بھی یہ وہی بکواس شروع کر دیں گے جو آج کل وہ اْس کے دْشمنوں کے خلاف کرتے ہیں ، اْن کا ایجنڈہ صرف مال کمانا ہے ، آج عمران خان کسی وجہ سے غیر مقبول ہو جائے اْس کا ساتھ بھی یہ اْسی طرح چھوڑ دیں گے جیسے مْلک چھوڑا ہے۔
اعظم سواتی کا قرآنی ایمانی سچ
09:50 AM, 8 Apr, 2025