صدیوں کی غلامی نے ہماری عادات و اطوار، مزاج کو اتنا مسخ کر دیا ہے کہ نہ صرف خود داری ناپید ہو گئی ہے بلکہ انسانیت کا معیار ہی بدل گیا ہے۔ بظاہر سلجھا دکھائی دینے والا شخص بھی اپنے افعال سے جہالت ہی کا مرکب نظر آتا ہے۔ اگر گفتگو کا شرف حاصل ہو تو گھن آنے لگتی ہے۔ چند دن قبل ایک سیاسی جماعت کی کوئی تقریب تھی جس میں کیک کاٹا جانا تھا۔ شرکاء دھکم پیل کے ہنگام، ایک دوسرے کو پچھاڑتے ہوئے تقریب کے لیڈر کے نزدیک پہنچتے اپنی تصویر بنوانے کیلئے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھنے کی کوشش کرتے تاکہ کیک کاٹتے وقت ان کی تصویر بھی لیڈر کے ساتھ نمایاں طور پر نظر آئے جونہی کسی کارکن کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے قریب آتا تو وہ فوراً اپنا ہاتھ اوپر اٹھا لیتے اور کارکن کا ہاتھ جھٹک دیتے مگر متاثرہ کارکن ذرا بھی شرمندگی محسوس نہ کرتا بلکہ اپنی کوشش جاری رکھتا۔ اس دھینگا مشتی میں وہ کارکن جو کئی دوسرے کارکنوں کو کچل کر آگے بڑھنے میں کامیاب بھی ہوئے مگر لیڈر نے انہیں زبردستی پیچھے دھکیل دیا۔ یوں وہ کیک کاٹتے ہوئے اپنی تصویر بنوانے کی سعادت سے محروم رہ گئے۔
تقریب کا لیڈر اپنے ہاتھ میں چھری پکڑ کر سامنے ٹیبل پر رکھے ہوئے کیک کو کاٹنے سے پہلے دائیں بائیں نظر دوڑاتا جب اسے اس کی پسند کا کارکن نظر نہ آتا تو وہ اپنے ہاتھ کو فضاء میں بلند کرتا، چھری لہراتے ہوئے باآواز بلند اپنے پسندیدہ کارکن کا نام پکارتا پھر وہ کارکنان جو بڑی جدوجہد کرکے کیک تک پہنچنے ہوتے پیچھے دھکیل دیئے جاتے تاکہ مطلوبہ کارکن آگے بڑھ کر کیک تک رسائی حاصل کر سکے۔ طلب کئے جانے والا کارکن بھی خوشی سے پھولے نہ سما رہا ہوتا اور حقارت بھری نظروں سے دوسرے کارکنوں کو دیکھ رہا ہوتا اور خوشی خوشی اپنی تصویر بنواتا اور پھر لیڈر اسے بھی اپنے ہاتھ کے اشارے سے سائیڈ پر ہونے کا اشارہ کرتا اور پھر کسی دوسرے کارکن کا نام پکارا جاتا تو مطلوبہ کارکن بھی اپنا سینہ چوڑا کرکے لیڈر کے قریب آتا، اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کے اوپر رکھ کر تصویر بنواتا اور بڑے فخریہ انداز سے شرکاء تقریب کو دیکھتا، پیچھے دھکیلے جانے والے کارکن بھی اپنی کوششوں میں ہمہ تن مصروف رہتے، شاید کسی وقت ان پر بھی نظر کرم ہو جائے اور وہ بھی کیک کاٹنے کی تقریب میں اپنی تصویر بنوا سکیں۔ فکری کسمپرسی اور ذہنی غلامی احساس کمتری کو جنم دیتی ہے۔ احساس کمتری میں مبتلا اقوام ہمیشہ دولت و طاقت سے متاثر ہوتی ہیں۔ ہم بحیثیت قوم اس بدعت کا شکار ہیں۔ بڑی بڑی گاڑیاں، ایکڑوں پر پھیلے ہوئے فارم ہائوسز، زرق برق لباس اس کی علامتوں میں سے چند ایک ہیں۔ حسب نسب صرف کردار سے ہے نہ کہ مال و زر سے۔ ایمانداری، دیانتداری، فرض شناسی، اللہ کے قوانین کی مکمل اطاعت ہی کسی فرد کو معاشرے میں ممیز و ممتاز کرتی ہے۔ رزق حرام سے کمائی ہوئی دولت کے ایما پر صرف غلاموں کے معاشرے میں تو عزت مل سکتی ہے، آزاد خود مختار اور رائل معاشروں میں ہرگز ہرگز نہیں۔
کئی سال قبل ایک اہم کاروباری شخصیت کو ڈنمارک کی ایک بڑی کمپنی نے اپنے ہاں دورہ کی دعوت دی۔ وہ شیڈول کے مطابق ڈنمارک پہنچا۔ میزبان نے استقبال کیا، مہمان کی خواہش پر اس کو مختلف سیکشن کا مشاہدہ کرایا گیا، دوران وزٹ وہ ایک تہہ خانے میں پہنچا تو ایک باریش مزدور جس نے بڑے بڑے شوز پہنے ہوئے ہاتھوں میں گلوز پہن کر کدال کے ساتھ نالی میں سے کچرا باہر نکال رہا تھا۔ مہمان باریش مزدور کے پاس گیا سرگوشی کے انداز میں اس کا حال چال پوچھا اور مزدوری کے بارے میں دریافت کیا۔ باریش مزدور مہمان کا سوال سن کر مسکرایا اور اپنی زبان میں کہا کہ گزارا اچھا ہو جاتا ہے۔ معمول کے مطابق مہمان کی اگلے روز چیف ایگزیکٹو کے ساتھ ملاقات شیڈول تھی۔ مہمان اپنے ہوٹل کے کمرے سے روانہ ہو کر مطلوبہ جگہ پہنچا۔ پہلے سے موجود کمپنی کے افسروں نے استقبال کیا اور مہمان کو کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے کمرے میں لے گئے۔ مہمان کمرے میں داخل ہوا تو چیف ایگزیکٹو اپنی کرسی سے اٹھا، مہمان کا استقبال کیا اور اپنا ہاتھ مہمان کی طرف بڑھایا۔ قبل اس کے کہ مہمان بھی اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر شیک ہینڈ کرتا، مہمان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں وہ حیران و پریشان ایک بت کی مانند میزبان کے سامنے کھڑا ہے۔ میزبان مہمان کی حیرانگی کو بھانپتے ہوئے آگے بڑھا اور اسے گلے سے لگایا اور شائستگی سے اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر اپنی کرسی پر براجمان ہو کر مہذب انداز سے مہمان سے مخاطب ہو کر بولا جی ہاں میں وہی مزدور ہوں جس سے گزشتہ دن تہہ خانے میں آپ کی ملاقات ہوئی تھی۔ میں اس کمپنی کا مالک ہوں، میزبان نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہاں سب ہی مزدور ہیں صرف کام کی نوعیت مختلف ہے، کوئی کسی سے محض کسی منصب کی بنا پر سپیریئر نہیں۔ سب لوگ اپنا اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہیں۔
دوسری طرف ہم ایسے معاشروں میں اگر کسی کے پاس دولت ہو تو وہ ہمہ وقت اس کی نمائش کرکے دوسروں کو باور کراتا ہے کہ وہ بہت بڑا آدمی اور افضل ہے اور اگر کوئی گریجوایٹ ہو تو کام کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔ اس لئے کہ ہم بحیثیت قوم احساس کمتری کا شکار ہے۔ کسی بھی بڑے شخص کے ساتھ تصویر بنوا کر دوسروں پر رعب ڈالنے میں دراصل نالائق، نااہل، نکمے لوگ ہمیشہ خوشامدی اور چاپلوس ہی ہوتے ہیں۔
تصویری کلچر
09:46 AM, 8 Apr, 2025