خوشخبریوں کا طوفان ہے کہ پاکستان کے تمام میڈیا کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہے۔ بجلی کی قیمت میں کمی کی خوشخبری سے لے کر سولر انرجی سے آراستہ بازار سجانے کے حکم تک کی خوشخبری ۔شرح سود میں مزید کمی کی خوشخبری کا بھی امکان موجود ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کا 13 ارب ڈالر تک پہنچ جانا بھی یقینا ایک خوش خبری ہے ۔ برآمدات میں اضافے کی خوشخبری بھی عوام تک پہنچ چکی ہے اور معاشی استحکام نے ہر دن عید اور ہر رات شبِ برات بنا رکھی ہے ۔ معیشت پر حکومت کے مکمل قابو پانے کی خوشخبری اور ابھی تو بجٹ میں آنے والی انگنت خوشخبریاں پاکستانی عوام کی منتظر ہیں ۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کا بجلی سستی کرنے پرشکریہ ادا کیا ہے ورنہ جماعت اسلامی سب سے زیادہ اس پر ردعمل دے رہی تھی سو اب یقینا اُن کیلئے بھی یہ ایک خوشخبری ہے ۔پنجاب میں نہریں نکالنے کا معاملہ بقول وزیر اعظم متفقہ طور پر طے پا گیا ہے یہ بھی ایک بڑی خوشخبری ہے ٗ نہروں پر تحفظات دور ہونے کے بعد وہ ایک الگ سے خوشخبری ہو گی ۔ویسے ایک خوشخبری مقتول ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے بھٹو جونئیر نے دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’’ہمارا پانی بند کیا گیا تو ہم اُن کیلئے بندرگاہ بند کر دیں گے۔‘‘ اعظم سواتی قرآن مجید اٹھائے حلف دے رہا ہے کہ عمران نیازی پہلے دن سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے گو کہ اعظم سواتی کو عمران نیازی نے فارغ کردیا ہے لیکن وہ اپنے بچائو کی آخری جنگ لڑ رہا ہے ٗ جاری کردہ ویڈیو کلپ میں اعظم سواتی نے لفظ ’’ میرا عمران‘‘ اتنی بار استعمال کیا ہے کہ عمران نیازی کی تسبیح کرنے کا گمان ہونا شروع ہو گیا تھا ٗ ن لیگ اور دوسری جماعتوں کے بیانیے کو پی ٹی آئی کے اندر سے حمایت ملنا یقینا یہ بھی عمران نیازی کے مخالفین کیلئے خوشخبری ہے ۔امریکی پاکستانیوں کی عمران نیازی سے ملاقات اور بیک چینل کاوشوں کی کامیابی کو بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کی منفی کمپین اور عمران نیازی کے رویے سے جوڑ دیا گیا ہے اس سے بڑی خوشخبری اور کیا ہو سکتی ہے کیونکہ نیازی کا سوشل میڈیا اب اُس کے بس میں بھی نہیں رہا اور اپنا رویہ تبدیل کرنا خود اُس کے اپنے بس میں نہیں ٗ اس کے علاوہ قید عمران نیازی آزاد عمران نیازی سے سو گنا بھاری ہے کیونکہ پی ٹی آئی کی سیکنڈ لیڈر شپ جانتی ہے کہ عمران نیازی اگر کبھی باہر آتاہے تو اُس نے کھاتے کھول کر بیٹھ جانا ہے اور حساب کتاب کسی کے پاس بھی نہیں ٗ سو یہ بھی ایک خوشخبر ی اورہمیں اسے خوشخبری کی طور پر ہی منانا چاہیے ۔ یہ سب یقینا پاکستانی عوام کیلئے خوش آئند ہے ۔ہمیں اگر ایسے ہی خوشخبریاں ملتی رہیں تو وہ دن دور نہیں جب لوگ صدموں سے نہیں خوشی سے کارڈیالوجی پہنچنا شروع ہو جائیں گے ۔ اب موجود ہ حالات میں عوام بیچارے اِن خوشخبریوں پر ڈھول کی تھاپ پر رقص ہی کر سکتے ہیں لیکن نصرت صدیقی نے کیا خوب کہا ہے کہ
کس ضرورت کو دبائوں کسے پورا کر لوں
اپنی تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے
میں جب بازار میں چلتے پھرتے زندہ انسانوں کو دیکھتا ہوں تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ اتنی خوشخبریوں کے دیس کے لوگ اُداس کیوں ہیں ؟ رات گئے نوجوان برقعہ پوش بیٹیوں کو بھیک مانگتے دیکھنا کتنا اذیت ناک ہے ٗ معصوم بچوں کو پہلے قہر خدا کی سردی اوراب عذاب ِ خدا کی گرمی میں کچھ بیچتے یا مانگتے دیکھیں گے ٗ بدترین معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں بچہ مزدوری کرے اور بزرگ بھیک مانگے لیکن ہم تو ابھی اخلاقیات کے اُس مقام پر پہنچے ہی نہیں جہاں ایسے ’’ فضول ‘‘ خیالات کو اپنے دل و دماغ میں جگہ دی جا سکے ۔ دنیا بھر کے دُکھ درد لکھنے والے صحافیوں کو جب عید پر بھی میں تنگ دست دیکھتا ہوں تو میرا خون کھولتا ہے ٗ چھوٹی چھوٹی ضروریات ِ زندگی کی خاطر انسانوں کو جس طرح ذلتِ آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس میں کوئی بھی بیانیہ حکومت کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے اور کوئی بھی خوشخبری عوامی اعتماد کو بحال کرنے کیلئے کافی نظر نہیں آ رہی ۔ کھیل تماشوں کے اِس دیس میں کون کب ٗ کس سرکس میں چلا جائے کوئی نہیں جانتا لیکن وہی مداری جو روزانہ تنے ہوئے رسے پر کرتب دکھاتا ہے ایک دن خوشخبری نہیں آتی کہ وہ آج بھی کامیابی سے رسے کی دوسری سمت اتر گیا ہے اورکھیل مکمل ہو جاتا ہے ۔
پاکستان کے چاروں اطراف میں بسنے والے مسلمان آہستہ آہستہ ایک دلدل میں اتر رہے ہیں ۔ بھارتی صدر کے وقف ترمیمی بل پر دستخط کے بعد وہ قانون کے درجہ پرفائز ہو چکا ہے ۔ نئے قانون کے خلاف کانگرس ٗ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور عام آدمی پارٹی نے بھارتی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ یہ مسلم کُش قانون مسلم املاک پر قبضہ کا قانونی طریقہ کار ہے ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان خراب ہوتے ہوئے تعلقات کسی وقت بھی خطرناک صورت ِ حال اختیار کرسکتے ہیں جس کا پاکستان پر بھی شدید دبائو آئے گا ۔ میں پاکستان پر لگنے والے ٹیرف کو بھی ایران امریکہ تنازعے کے تناظر میں ہی دیکھ رہا ہوں تاکہ آنے والے دنوں میں پاکستان پر حمایت حاصل کرنے کیلئے مزید دبائو ڈالا جا سکے ۔ افغانوں کی وطن واپسی نے سارے پاکستانیوں کو تذبذب میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ پاکستان کے شہروں میں دندناتے افغان جتھے ٗ اُن کے حمایتی اور سہولت کار درد سر بنے ہوئے ہیں ۔افغانستان سے دراندازی معمول بن چکا ہے جبکہ دوسری طرف یو این او نے افغانستان کو اسلحہ کی بلیک مارکیٹ ڈکلیئر کردیا ہے جو پاکستانی طالبان کو بھی اسلحہ فروخت کر رہا ہے ۔فلسطینیوںکو غزہ خالی کرنے کے ٹرمپی حکم کی نافرمانی کے بعد بارود کے ڈھیر پر رکھ دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے بعد حقیقی جنگ اورفلسطینیوںکی نسل کشی کا عمل تیزی سے شروع ہو چکا ہے ۔ ہمارے چاروں طرف آگ اور خون کا کھیل شروع ہونے کو ہے اوریہ کوئی خوشخبری نہیں ۔ ہم نے افغانوں کی مدد کرکے دنیا اور فلسطینیوں کی مدد نہ کرکے اپنی آخرت خراب کر لی ہے ۔کتنا بُرا وقت ہو گا جب روزِ قیامت فلسطین کے معصوم بچے شفاعت مصطفیﷺ کے حضور ہمارے خلاف معتبر شہادتی بنے کھڑے ہوں گے جہاں واحد خوشخبری ہمارے اعمال ناموں کا دائیں ہاتھ میں ہونا ہو گا ۔ ہمیں خوشخبریاں ضرور دیں لیکن کبھی اُن چہروں کو بھی غور سے دیکھ لیا جائے جو خوشخبریوں کے دیس میں اُداس چہرے لئے پھر رہے ہیں کوئی خوشخبری اُن کے چہروں پر خوشی کیوں نہیں لاتی ؟ یہ خوشخبری پر عدمِ اعتماد ہے یا خوش خبری دینے والا پر …
خوشخبریوں کا دیس اور اُداس لوگ
09:45 AM, 8 Apr, 2025