بولان میں دہشت گردوں کی جانب سے جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنائے جانے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اختر مینگل نے لکھا تھا کہ ’بلوچستان آپ کے اور ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔۔۔‘
جب ایک انٹرویو کے دوران اْن سے پوچھا گیا کہ اْن کے اس دعوے کا مطلب کیا ہے تو اْن کا کہنا تھا کہ انھوں نے کئی بار پارلیمان میں اور اعلیٰ سطح کی میٹنگز میں کہا کہ ’خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ بلوچستان آپ کے ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے۔ ضلع لسبیلہ میں ایف سی کے قلعے پر حملہ ہوتا ہے، ایک ہی دن میں 8 اضلاع میں ایک ہی وقت میں واقعات رونما ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں کوئی ایسا دن نہیں، کوئی ایسا ضلع نہیں جہاں پر اس طرح کے واقعات رونما نہ ہو رہے ہوں۔ حالیہ دنوں میں جعفر ایکسپریس کا واقعہ ہوا۔ میرے خیال میں یہ واقعات اور یہ حالات اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بلوچستان ہاتھ سے نکل چکا ہے‘۔
اختر مینگل کے اس جملے نے محب وطن پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک بڑی تعداد نے اختر مینگل کی اس خود ساختہ تھیوری کا پوسٹ مارٹم کیا اور خاصا آڑے ہاتھوں لیا۔ اخترمینگل وہ سیاسی رہنما ہے جنہوں نے ہر دور میں ہی سیاسی فوائد اکھٹے کئے ہیں ، مطلب نکلنے پر یہ حکومتوں کو بلیک میل کرتے آئے ہیں۔ کبھی استعفے سے اور کبھی دبے الفاظ میں دھمکیوں سے جیسا کہ یہ بھارتی میڈیا کی زبان بولنا کہ۔۔ "بلوچستان ہاتھ سے نکل چکا ہے"۔۔
اختر مینگل کی خدمت میں عرض ہے کہ بھارتی ٹاؤٹ اور بھارتی تنخواہ دار میڈیا تو یہ بات بہت زور و شور سے کرتا ہے اور دنیا کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ بلوچستان ہاتھ سے نکل رہا ہے ، یہ ذاتی خواہش تو یقینی طور پر ہے مگر اس دیوانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے والا۔ پاکستان رہتی دنیا تک قائم دائم رہنے کے لئے بنا ہے۔ صوبے ایک اکائی میں پروئے ہوئے ہیں ، سیاسی اختلافات لاکھ سہی مگر اس دھرتی کے سپوت ایک ہیں اور ایک ہی رہنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں اگر ایک گمراہ کن ٹولہ دشمن کے ہاتھ میں کھیل رہا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ بلوچستان کے عوام کی بڑی تعداد تشدد اور شدت پسند سوچ سے کوسوں دور ہے۔ جن نوجوانوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پہاڑوں پر چڑھ گئے ہیں وہ بھی مفادات اور پیسے کی چمک میں دشمن کے ایجنڈے کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ کلبھوشن یادو کے ایجنڈے کو دنیا جان چکی ہے ، بھارت کی نظر بلوچستان کے وسائل پر ہے ، چین سے پاکستان کی دوستی اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی اور اختر مینگل جیسے مفاد پرست سیاست دان بات کرتے ہیں بلوچستان کے ہاتھ سے نکلنے کی؟؟۔
اگر بلوچ دہشت گرد تنظیم ہتھیار پھینکتی ہے اور قومی دھارے میں آتی ہے تو ریاست کا دل بہت فراخ ہوتا ہے ، لیکن ریاست کے اندر ریاست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو لوگ آپ کی ٹرین کو ہائی جیک کر لیں ، بچوں ، عورتوں کو ڈھال بنا لیں ، شناختی کارڈ دیکھ کر کسی کی زندگی ختم کر لیں ان کی حمایت کرنے والا پاکستان کا خیر خواہ کیسے ہو سکتا ہے ؟۔
چلیں آپ کو کچھ حقائق بھی بتاتی چلوں۔۔ اختر مینگل کی بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) سے وابستگی بلوچستان کی قوم پرست سیاست میں ایک سٹرٹیجک ایڈجسٹمنٹ کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنا ہے۔ تاریخی طور پر، مینگل نے خود کو ایک معتدل قوم پرست کے طور پر پیش کیا ہے، جو بلوچ حقوق کے لیے پارلیمانی سیاست کے دائرے میں رہتے ہوئے آواز اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ ریاست کے ساتھ بھی کسی حد تک تعلقات برقرار رکھے۔ تاہم، جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر BYC جیسے عوامی سطح کے گروہوں کے عروج نے ان کی سیاست کے لیے ایک نیا چیلنج اور موقع دونوں پیدا کر دیئے ہیں۔
BYC کی بلوچ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اسے قوم پرست بیانیے کی تشکیل میں ایک مؤثر قوت بنا دیا ہے، لیکن جعفر ایکسپریس حملے کے بعد اس کی ساکھ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر، دشمن غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے روابط کے الزامات نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ تحریک جو کبھی ایک عوامی شہری مزاحمت سمجھی جاتی تھی اب علیحدگی پسند گروہوں جیسے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے وسیع تر سٹرٹیجک نیٹ ورک کا حصہ بن چکی ہے۔ اگر یہ الزامات مزید مستحکم ہوتے ہیں، تو BYC سے منسلک سیاسی شخصیات نہ صرف ریاست بلکہ ان بلوچ طبقات کی نظر میں بھی غیر معتبر ہو سکتی ہیں، جو پرامن سیاسی جدوجہد کو ترجیح دیتے ہیں۔
مینگل کی بی وائی سی سے قربت کو بلوچ نوجوانوں کے سیاسی جوش و جذبے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس میں نمایاں خطرات بھی شامل ہیں۔ اگر ریاست دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے تحت بی وائی سی کے خلاف سخت اقدامات کرتی ہے، تو مینگل خود کو سیاسی طور پر تنہا پا سکتے ہیں، کیونکہ ان کی سیاست ہمیشہ قوم پرست بیانیے اور وفاقی سیاست میں شمولیت کے درمیان نازک توازن پر منحصر رہی ہے۔ مزید برآں، اگر بی وائی سی پر غیر ملکی پشت پناہی کے الزامات مضبوط ہوتے ہیں، تو اس کی وابستگی مینگل کی بطور ایک جائز بلوچ نمائندہ حیثیت کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس تناظر میں، مینگل ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ ان کی آئندہ سیاسی بقا کا انحصار اس پر ہے کہ وہ ان بدلتے ہوئے حالات کو کس طرح سنبھالتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ یا تو قوم پرست حلقے یا ریاست کو مکمل طور پر خود سے دور کر دیں۔ اگر وہ غلطی کرتے ہیں، تو وہ سیاسی طور پر غیر متعلق ہو سکتے ہیں۔۔ اب دیکھتے ہیں اختر مینگل روایتی سیاسی چال چلتے ہیں یا پھر حقیقت پسند بنتے ہوئے تشدد کی پالیسی ختم کرنے کے بیانیہ کی ترویج کرتے ایسے میں ہر پاکستانی یہ مشورہ دیتا ہے کہ مینگل صاحب سیاسی فوائد چھوڑیں کچھ تو انصاف کریں۔
مینگل صاحب کچھ تو انصاف کریں…!
09:45 AM, 8 Apr, 2025