پنجاب میں سیلابی صورتحال سنگین، 50 سے زائد ہلاکتیں اور لاکھوں افراد متاثر

10:44 AM, 7 Sep, 2025

لاہور : پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی شدت بدستور برقرار ہے۔ اب تک 50 سے زیادہ افراد جان سے گئے ہیں جبکہ 42 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق صوبے کے 4100 سے زائد گاؤں سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں، جن میں سے 20 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں میں 423 ریلیف کیمپس، 512 میڈیکل کیمپس اور 432 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ ریسکیو آپریشنز کے دوران 15 لاکھ سے زائد جانوروں کو بھی محفوظ جگہ منتقل کیا گیا ہے۔

ملک کے بڑے ڈیمز، منگلا 87 فیصد، تربیلا 100 فیصد اور بھارت کے بھاکڑا، پونگ اور تھین ڈیم بھی تقریباً بھر چکے ہیں، جس کی وجہ سے بارشوں کے نئے سلسلے میں مزید پانی کے اخراج کا خطرہ ہے۔

پنجاب کے چشتیاں میں سیلابی پانی کے عارضی بند کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔ بہاولنگر کے ستلج بیلٹ میں کئی عارضی بند ٹوٹ چکے ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ زمین پانی میں ڈوب چکی ہے اور کئی دیہات شہروں سے کٹ گئے ہیں۔

ملتان میں دریائے چناب کا سیلاب تحصیل شجاع آباد اور جلالپور پیر والہ میں تباہی پھیلا رہا ہے۔ شہر کو بچانے کے لیے 8 کلومیٹر لمبا عارضی بند بنایا جا رہا ہے۔ شیر شاہ فلڈ بند کو مزید مضبوط کرنے کا کام بھی جاری ہے۔

ہیڈ پنجند اور چنیوٹ میں بھی سیلاب کی صورتحال خطرناک ہے۔ علی پور میں سپر بند ٹوٹنے سے کئی دیہات زیر آب آ گئے ہیں اور لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ بہاولنگر میں 143 دیہات پانی میں ڈوب چکے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ پر پانی کی سطح کم ہوئی ہے، لیکن سیلاب کا خطرہ ابھی برقرار ہے۔ دریائے راوی کے مائی صفوراں بند سے نکلنے والا سیلابی ریلہ کبیروالا کے 40 دیہات کو ڈبو چکا ہے، جہاں 80 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

سندھ میں بھی سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے اور ہیڈ پنجند پر پانی کی سطح بہت بلند ہے۔ پنجند، تریموں، گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجز پر پانی کی آمد اور اخراج ریکارڈ کی بلند سطح پر ہے۔

سیہون میں رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ محکمہ آبپاشی حفاظتی بندوں کی مرمت میں مصروف ہے۔

مزیدخبریں