غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں کو 2سال مکمل ،مزید 38 فلسطینی شہید، حالات انتہائی تشویشناک

02:17 PM, 7 Oct, 2025

غزہ  : اگرچہ اسرائیل کہتا ہے کہ وہ دفاعی حالت میں ہے، مگر غزہ پر اس کی بمباری اور حملے تاحال جاری ہیں۔ تازہ حملوں میں مزید 38 فلسطینی شہید ہو گئے اور درجنوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ خوراک لینے والے کئی فلسطینی اسرائیلی فائرنگ کے نشانے پر آئے، اور غزہ شہر کا مرکزی راستہ بند ہونے کی وجہ سے لوگ جنوبی علاقوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی، جب حماس کی قیادت میں فلسطینی جنگجوؤں نے اسرائیل کی سرحد پر حملہ کیا اور کئی اسرائیلیوں کو یرغمال بھی بنا لیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں شدید فوجی کارروائیاں شروع کر دیں اور لاکھوں فوجی تعینات کر کے علاقے کو مکمل طور پر محصور کر دیا۔

گزشتہ دو سالوں میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 67 ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں، جبکہ تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی محاصرے نے غزہ کے 20 لاکھ سے زائد شہریوں کو قحط اور بھوک کا شکار کر دیا ہے، اور ہسپتال، اسکول، مساجد سمیت اہم عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور پورا علاقہ تباہ و برباد ہو گیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امن کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور امید ہے جلد مسئلہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حماس نے بھی کئی اہم باتوں پر اتفاق کر لیا ہے، اور کہا کہ اسرائیل کو یرغمالیوں کے بارے میں نرمی دکھانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی امن کے لیے کوشاں ہیں، اور ترکی کے صدر اردگان غزہ میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

مزیدخبریں